dollar

سٹیٹ بینک اپنی ہی کرنسی کا دشمن نکلا،

کراچی (ویب ڈیسک)گزشتہ دن بھی اوپن مارکیٹ میں ڈالر نے ایک بار پھر اُڑان بھری اور قیمت 113 روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔ امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان مخالف بیان اور اسٹیٹ بینک کا ڈالر سے متعلق نئے قوانین کا متعارف کرانا دونوں ہی روپے کی قدر گھٹانے اور ڈالر کی قدر میں اضافے کا باعث بنے۔

اسٹیٹ بینک نے فاریکس ایکسچینج کمپنیوں کے لئے یہ قانون متعارف کرایا ہے کہ اب ایکسچینج کمپنیاں اپنی ضروت کا صرف 35 فیصد ڈالر دبئی اور دیگر ممالک سے براہ راست خرید سکتی ہیں جبکہ 65 فیصد بینک انتظام کریگا۔
صدر فاریکس ایسو سی ایشن ملک بوستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مرکزی بینک کے نئے قوانین کے باعث سپلائی کا کم ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینکوں سے ڈالر کی ترسیل میں کم از کم چار روز کا وقت درکار ہوتا ہے، اس طرح ہفتے میں صرف ایک ہی مرتبہ بینکوں سے ڈالرسپلائی ہوسکتے ہیں۔ اس لئے موجودہ حالات میں اسٹیٹ بینک کو نئے قوانین کو معطل کرنے کی ضرورت ہے۔