نوشتہ دیوار/سردارعبدالخالق وصیؔ

اظہارِ تشکر

میں اپنا یہ خوشگوار فریضہ سمجھتا ہوں کہ اپنے ان تمام عزیز و اقارب، بہی خواہ و کرم فرمائوں، سیاسی قائدین و رفقا، دوست احباب عفت مآب خواتین اور محترم و مکرم حضرات کا بہ صمیم قلب شکریہ ادا کروں کہ گذشتہ دنوں جب مجھے عارضہ قلب تشخیص ہوا تو ہزاروں کی تعداد میں میرے ان ہمدرد وجاں نثار ساتھیوں نے مجھے اور میرے خاندان کواپنی بے پایاں دعائوں ،نیک تمنائوں اور خوشگوار و یادگار جذبات سے نوازا کہ مجھے دردِ دل تو بھول گیا میری آنکھیں خوشی اور طمانیت قلب سے آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔ مقامی مساجد و مدارس اور عبادت گاہوں سے لیکر خانہ کعبہ، مدینۃ المنورہ، مسجدنبوی ریاض الجنۃ بلکہ میرے محلے کے سادات پڑوسیوں نے کربلا معلی اور عراق میں مقیم آزاد کشمیر سے متعلقہ دوست و احباب نے حضرت غوث پاک سیّدنا عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر جا کرمیری صحت یابی کیلئے خصوصی دعائیں کروائیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں احباب و محبان نے ہسپتال اور گھرآکرعیادت کی اورگلدستوں، پھولوں، پھلوں اور شیریں دہن مٹھائیوں و سوغاتوں سے اپنی محبتوں کا وافر اظہار کیا۔ ٹیلی فون ، واٹس ایپ، سوشل میڈیا، اخبارات و ٹیلی ویژن تک سب دوستوں نے یاد کیا۔

سیاسی قائدین، قائد محترم جناب محمد نواز شریف، وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان، وزراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان و اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر، سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی، وزراء کرام چوہدری طارق فاروق، سردار فاروق سکندر، مشتاق منہاس (بیرون ملک سے مسلسل پتہ کرتے رہے اور جب واپس وطن تشریف لائے تو ائر پورٹ سے سیدھے میر ی رہائش گاہ پہنچے اور میری خیریت دریافت کی)، چوہدری سعید، ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان، بیرسٹر افتخار گیلا نی، چوہدری عزیز، سردار میر اکبر، راجہ نثار احمد خان، راجہ نصیر احمد خان، محترمہ نورین عارف،کرنل (ر) وقار نور، چوہدری رخسار و دیگر ممبران اسمبلی و آزاد جموں و کشمیر کونسل، سابق صدور سردار سکندر حیات خان، سردار محمد انور خان، حاجی یعقوب خان، صدر پیپلزپارٹی چوہدری لطیف اکبر، صدر پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر سلطان محمود چوہدری،امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود، سابق امیر جماعت اسلامی و ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی، سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے جج سردار عبدالحمید خان اور ڈاکٹر محمد عارف خان سمیت سیاسی جماعتوں کے اراکین، صحافیوں سلطان سکندر، عامر محبوب، خواجہ متین، راجہ کفیل، سردار زاہد تبسم، خالد گردیزی، شہزاد راٹھور سمیت متعدد دیگر صحافی حضرات، پروفیسرز، وکلاء، علماء مشائخ، خواتین، سیاسی و سماجی کارکنان،ارباب حکو مت و انتظامیہ، اعلیٰ عدلیہ، عساکر پاکستان سے وابستہ اپنے عزیز و اقارب آفیسران کی کثیر تعداد نے گھر ہسپتال، ٹیلیفون کے ذریعے میری تیمارداری و عیادت کی۔

17دسمبر کی شام میں کشمیر ہاؤس میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھا جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، ڈائریکٹر جنرل برائے سیاسی امور ذوالفقار علی ملک، طارق شعلہ سیکرٹری ورکس اور دیگر رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کی برسی کے سلسلہ میں مشاورتی اجلاس میں شریک تھے کہ مجھے شدید تکلیف ہوئی تو میں کسی کو بتائے بغیر اپنے ڈرائیور کے ہمراہ پولی کلینک پہنچا تو مجھے فوری طور پرCCUمیں داخل کر کے ای ۔سی ۔جی کے مراحل سے گزارا گیا۔ رات بھر ہارٹ اسپیشلسٹ معالجین نے میری مسلسل خبر گیری اور علاج معالجہ کی سہولتیں بہم پہنچائی گئیں مجھے PIMS یاAFIC ریفر کیا گیا کہ انجیو گرافی کے ذریعے تشخیص کی جائے میں نے وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف کے اسٹیٹ آف آرٹ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا انتخاب کیا جہاں جنرل ڈاکٹر اظہر کیانی اور ڈاکٹر عبدالسلام آزاد نے فور ی طور پر میرا معائنہ کیا۔ ای سی جی کے بعد انجیو گرافی و انجیو پلاسٹی کرتے ہوئے بائیں شریان جو تقریباً98/99فیصد بند تھی اس میں ایک سٹنٹ ڈالا اور اس شریان میں دوران خون کو رواں کیا۔

ڈاکٹر عبدالسلام آزاد کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے سب ڈویژن ہجیرہ سے ہے، موصوف کا مجھے غائبانہ تعارف تو تھا کہ آزاد کشمیر کے طول و عرض سے امراض قلب کے شکار مریض ان کا ذکر بہت پیار و احترام سے کرتے تھے۔ ڈاکٹر آزاد صحیح معنوں میں ایک مسیحا کا کردار ادا کر رہے ہیں آج کل معالجین کا پیشہ بھی مسیحائی سے ہٹ کر کاروباری و کمرشل کا درجہ حاصل کر چکا ہے لیکن ڈاکٹر عبدالسلام آزاد نے اپنے مسیحائی کے بھرم کو نہ صرف قائم و دائم رکھا ہوا ہے بلکہ وہ ذاتی زندگی میں بھی اسقدر خوش اخلاق، ملنسار ہمدرد اور مسیحاصفت ہیں کہ ان کی تشخیص کے دوران گفتگو سے ہی مریضان ِدل صحت یاب ہونا شروع ہو جاتے ہیں مجھے ان کے زیر علاج جتنے بھی مریض ملے ان میں وزراء حکومت و آفیسران کے علاوہ عام آدمی نے بھی ان کے اخلاق اور ملنساری و ہمدردی کی بڑی تعریف کی مجھے خود بھی جب ان سے آر آئی سی کی ایمرجنسی، اپریشن تھیٹر اور پھر کلینک میں ملنے کا اتفاق ہوا تو ان کے حسنِ اخلاق اور ہمدری سے بہت متاثر ہوا میری دعا ہے کہ جس طرح وہ امراض قلب کے شکار مریضوں کو بفضل رب کریم مسیحائی و دلجوئی کرتے ہیں اللہ ان کے ہاتھ میں شفا اور زبان کی تاثیر میں اضافہ فرمائے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ال مسلم من سلم المسلمون من لسان ویدہ( مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان فیض یاب ہو) کے مصداق بنائے۔

میرے دوسرے معالج ڈاکٹر جنرل اظہر محمود کیانی تھے جنکی نگرانی میں انجیو پلاسٹی کا عمل مکمل ہوا ۔ وہ بھی اچھی شہرت اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ موصوف نے AFICکو ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔ جب وزیراعلیٰ پنجاب جناب محمد شہباز شریف نے راولپنڈی اسلام آباد اور گرد و نواح کے اضلاع، آزاد جموں وکشمیر و گلگت بلتستان اور خیبر پختون خواہ کے عوام کی سہولت کیلئے وفاقی دارالحکومت کے قلب راولپنڈی میں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بنیاد ڈالی تو اس کی سربراہی کیلئے اسی خطے(جہلم) سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل و منتظم ڈاکٹر اظہر کیانی کی خدمات حاصل کیں جو پیرانہ سالی کے باوجود نہایت جانفشانی اور فرض شناسی سے بڑھ کر ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اظہر محمود کیانی نے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو بین الاقوامی معیارکے ایک اسٹیٹ آف آرٹ ہسپتال کا درجہ دلایا ہے اور اس وقت راولپنڈی انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی کا شمار ملک میں امراض قلب کے نمایاں ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شہباز شریف، ڈاکٹر اظہرمحمود کیانی، ڈاکٹرعبدالسلام آزاد سمیت دیگر معالجین قلب اور جملہ عملہ کی خدمات و انتظامات اور معاونت کو قبول فرمائے اور یہاں سے صحت یابی، شفایابی کی مسیحائی و فیوض وبرکات سے مریضان قلب و جان مستفید ہوتے رہیں۔ پنجاب و وفاق میں ہسپتالوں کی حالت کافی بہتر ہے اس کیلئے وفاقی وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں انہوں نے اسلام آباد کے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر کے جہاں سہولتوں میں اضافہ کیا ہے وہاں معالجین کے رویوں میں بھی بہتری آئی ہے۔