Syed Zahid Hussain Naeemi

اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

بلاعنوان…..

اکثر اوقات اخبارات میں چھپنے والے میرے کالموں اور مضامین پر میرے کرم فرما ٹیلیفون کے ذریعہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنے خیالات سے آگاہ بھی کرتے ہیں۔ جس کے لئے میں ان کا شکرگزار ہوں۔ آج کے کالم میں چند ایک کا ذکر کروں گا۔
۱۔ گزشتہ عرصہ میں میرا ایک مضمون چند قسطوں میں ’’بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان، حیات و خدمات‘‘ کے عنوان سے چھپا۔ اسے بھی بہت پسند کیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی بیشمار لوگوں نے پڑھا۔ محترم منصور حیدر راجہ نے راولپنڈی سے فون کرکے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا اور خان صاحب کے سلسلہ قادریہ سے وابستہ ہونے کا پوچھا۔ محترم منصور حیدر راجہ کا تعلق راولاکوٹ دریک سے ہے۔ کافی عرصہ سے راولپنڈی میں قیام پذیر ہیں، اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ میرا ایک طویل مضمون جو کئی قسطوں میں اخبارات میں چھپا ’’شہداء منگ پونچھ 1832ء احوال و آثار‘‘ پڑھ کر روزنامہ دھرتی کے ایڈیٹر محترم جناب اعجازقمر سے میرا فون نمبر لے کر مبارکباد دی، حوصلہ افزائی کی، تب سے اب تک باقاعدہ میرا کالم پڑھتے ہیں۔ راولپنڈی ملاقات پر معلوم ہوا کہ وہ دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہیں۔ فارسی، عربی، انگریزی پر عبور ہے، خود کالم نویس ہیں۔ تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

یہ کوئی آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے۔ حکیم خواجہ محمد بشیر (گھڑی ساز) راولاکوٹ کے پاس ایک صاحب آئے، حکیم صاحب ان سے احترام سے ملے، ان کی خاطرتواضع کی، وہ چلے گئے۔ وہ دیندار لگتے تھے، سردار محمدالیاس خان ڈی ایس پی کے بزرگوں میں سے تھے، حکیم صاحب کو ملنے کے بعد میں حکیم صاحب فرمانے لگے ’’ان کا تعلق پلندری سے ہے اور ان کی وساطت سے بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا۔ بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان صوفیاء کرام کی تعلیمات پر کاربند تھے اور خود سلسلہ قادریہ سے وابستہ تھے‘‘۔ اب جبکہ میں نے ان کی سوانح عمری ’’یگانہ کشمیر‘‘ پڑھی تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانیؒ غوث الاعظم کے مزار پر دوران سروس حاضر ہوئے تھے اور قوم کے لئے آزادی کی دُعا بھی کی تھی۔ اس زمانے کے بیشمار سابق فوجیوں سے میں نے ملاقات اور انٹرویو کیے جس سے معلوم ہوا کہ یہ سابق فوجی عراق، بغداد میں غوث الاعظم کے مزار پر حاضری کے موقع پر وہاں کے گدی نشین سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے تھے۔ اس لئے غالب گمان یہی ہے کہ بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان بھی درگاہ غوث الاعظم کے گدی نشین سے بیعت ہوئے ہوں گے۔

۲۔ علامہ ریاض احمد عباسی، نائب امیر تحریک منہاج القرآن، مہتمم و خطیب جامعہ اسلامیہ مرکزی جامع مسجد اہلسنّت چیڑالہ میرے دیرینہ ساتھی ہیں، اُنہوں نے میرا مضمون ’’بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان‘‘ حیات و خدمات پسند کیا اور پیرغلام محی الدین نقشبندیؒ نیریاں شریف کے متعلق پوچھا ’’یگانہ کشمیر‘‘ میں لکھا ہے کہ بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان بزرگ ہستیوں سے تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لئے دُعائیں کرواتے تھے جن میں حضرت پیر غلام محی الدین نقشبندیؒ نیریاں شریف بھی شامل تھے۔ ان کی ذاتی ڈا ئری کا عکس بھی ’’یگانہ کشمیر‘‘ میں دیا گیا ہے، جس میں باباپیر سیّد قمر علی بادشاہ، چھاترہ عباسپور کے مزار پر خلیفہ غلام محی الدین اور دوراب خان کے زیرنگرانی ختم شریف پڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔غالب گمان یہی ہے کہ خلیفہ غلام محی الدین سے مراد پیر غلام محی الدین نقشبندیؒ نیریاں شریف اور دوراب خان سے مراد ان کے برادر اصغر پیرثانی نیریاں شریف ہیں۔ 1947-48ء میں خود پیرغلام محی الدین نقشبندیؒ کی وساطت سے جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین صوبہ سرحد سے تشریف لائے۔ پیر صاحب مانکی شریف اور پیر صاحب زکوڑی شریف پیر آف وانا کے تربیت یافتہ مریدین نے کشمیر کے محاذ پر دادِشجاعت پیش کی، جن کے طعام و قیام اور محاذ جنگ تک جانے کا بندوبست پیر غلام محی الدین نقشبندیؒ نیریاں شریف اور پیر شمس الدین گیلانی بدہال شریف حویلی کہوٹہ نے کیا۔ البتہ وہ پختون جتھے جو صرف مالِ غنیمت کے حصول کی غرض سے آئے تھے، اُنہوں نے لوٹ مار کی جہاد کے مقدس نام کو بدنام کیا۔ کیپٹن حسین خان شہید نے اسی بناء پر بعض پٹھان جتھوں کو پونچھ سیکٹر میں جانے سے روک دیا تھا۔

۳۔ محترم جناب مفتی عبدالخالق خان، مہتمم جامعہ اسلامیہ و خطیب مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ، اکثر کالم پڑھ کر میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور بعض موضوعات پر لکھنے کے لئے رہنمائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ میں ان کا شکرگزار ہوں، اُنہوں نے میری کتاب ’’تذکرہ اولیاء کشمیر جلد اوّل‘‘ پر ممتاز دانشور وسنیئر صحافی سرفراز سیّد کا تبصرہ جو روزنامہ اوصاف میں گیا تھا، لکھا ہوا پڑھ کر مجھے فون کیا، مبارکباد دی، خوشی کا اظہار کیا اور خود پڑھ کر سنایا۔ میں مکرّر ان کا شکرگزار ہوں۔ مضمون ’’بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان، حیات و خدمات‘‘ پڑھ کر اُنہوں نے فون کیا، بعض باتیں ان کے لئے بھی نئی تھیں، البتہ اُنہوں نے فرمایا کہ پلندری سیکٹر کے کمانڈر کرنل شیراحمد خان تھے، ممکن ہے ان کی معلومات درست ہوں، لیکن ’’یگانہ کشمیر‘‘ میں لکھا ہے کہ پلندری سیکٹر کے سب کمانڈر بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان تھے۔ دیگر کسی اور مورّخ نے بھی کرنل شیر احمد خان کا ذکر اپنی کتاب میں نہیں کیا۔

۴۔ حاجی محمد اکرم خان سنٹر دہمنی راولاکوٹ نے مضمون ’’بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان، حیات و خدمات‘‘ پڑھ کر خوشی کا اظہار کیا اور 1947ء میں اُنہوں نے بابائے پونچھ کوسیاسی ٹیکری دارالجہاد پر اپنی پہاڑی زبان میں تقریر کرتے سنا۔ اُن کا پورا حلیہ بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کس طرح معاشرے کی اصلاح کے لئے میدان عمل میں نکلے تھے۔ حاجی محمداکرم خان نے ایک جگہ سن تاریخ کر غلطی کی نشاندہی کی۔ جب بابائے پونچھ برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے، ازاں بعد اُنہوں نے ترقی پائی۔ یہاں سن 1902ء لکھی گئی ہے، جبکہ صحیح سن تاریخ 1916ء ہے، لہٰذا 1902ء کی جگہ 1916ء پڑھا جائے۔

۵۔ سیّد حبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ، میرے مہربان ہیں، وہ بھی اکثر میرے کالم پڑھ کر اظہار مسرت کرتے ہیں، حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ سیّد حبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ محتاج تعارف نہیں، ملک کے ممتاز ماہر قانون، کالم نگار، مضمون نویس اور آزاد شاعر بھی ہیں۔ زمانہ طالبعلمی میں طالب علم رہنما رہ چکے ہیں۔ آزادکشمیر میں حق ووٹ کے حصول کے لئے اُنہوں نے بھرپور کوشش کی اور تحریک چلائی۔ طالبعلم رہنما کے طور پر شہرت حاصل کی اور راولاکوٹ کی تاریخ میں زبردست ہڑتال کروائی جس میں غازی محمدامیر خان مرحوم کے ہاتھوں پوٹھی بالا کے عبدالحسین گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔ شاہ صاحب سیاسی و سماجی شحصت ہیں۔ غازی ملت سردار ابراہیم خان کے ساتھ رہے، غازی ملت نے ان کی قابلیت اور صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا، لیکن جب صلہ ملنے کا وقت آیا تو ’’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘‘۔ اس لئے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر اپنے پیشہ پر توجہ دی اور وکالت میں نام کمایا۔ چند سال پہلے ان کے جواں سال بیٹے سیّد حسیب حسین شاہ کو لاہور میں اُن کے اپنے دفتر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ہنوز ان کے بیٹے کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے جن کا انہیں بہت افسوس و غم ہے۔ اپنے غم کو کالموں اور بعض دفعہ اہم شخصیات کی نمازِجنازہ میں شرکت کرکے تقریر کے اور میاں محمد بخشؒ کے اشعار کے ذریعہ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میرا حال ہی میں ایک کالم ’’یادِرفتگان۔۔۔۔۔ مولانا محمد ممتاز احمدنقشبندی (مرحوم)‘‘ اخبار میں پڑھ کر مجھے فون کرکے اظہار افسوس کیا اور بتایا کہ ’’مولانا ممتاز احمد مرحوم نے محکمہ تعلیم کے خلاف جو مقدمہ کیا تھا اُس کی وکالت وہ کر رہے تھے اور کہا کہ ان کا موقف درست اور صحیح تھا، وہ زندہ ہوتے تو یہ مقدمہ ضرور حیت جاتے۔ محترم شاہ صاحب نے ان کے لئے بلندی درجات کی دُعا کی اور ان کے گھر جاکر تعزیت کرنے کا عزم ظاہر کیا‘‘۔ مجھے شاہ صاحب سے پورا اتفاق ہے۔ مولانا ممتاز احمد نقشبندی ہمارے دوست تھے۔ ان کی مذہبی خدمات کے پیش نظر ان کے نام کالم لکھنا کوئی بڑی بات نہیں، یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ایسی شخصیات جنہوں نے دین و ملت کی خدمت کی ہو، ان کی خدمات کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ یہاں حقدار کو حق نہیں ملتا، پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے، وہ فلاحی ریاست جہاں غریب کو سہولیات زندگی اس کے دروازے پر اُسے میسر آئیں، جہاں تعلیم، صحت اور روزگار سب کو ملتا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔

غریب غربت کے باعث دم توڑتا رہا اور امیر، امیر سے امیرتر ہوتا رہا جہاں غریب کے بچے کے لئے تعلیم کے دروازے بند اور امیروں اور حکمرانوں کے بچوں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، بلکہ پاکستان سے باہر یورپ میں تعلیم حاصل کرکے صرف حق حکمرانی کے لئے پاکستان آتے ہیں، جہاں میرٹ کی بنیاد پر ملازمت نہیں ملتی بلکہ حکمرانوں کے ساتھ تعلقات، رشوت، سفارش، اقرباء پروری کی بنیاد پر نوکری ملتی ہے۔ جہاں غریب سسک سسک کر اور ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر علاج نہ ہونے کے باعث موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور اگر حکمرانوں، بیوروکریٹوں، اعلیٰ شخصیات کو زکام بھی ہو جائے تو ان کا علاج لندن اور امریکا میں ہوتا ہے۔ کیا آصف علی زرداری، پرویز مشرف، میاں نوازشریف، اسحق ڈار، ڈاکٹر عاصم، کلثوم نواز یہ کل کی مثالیں ہمارے سامنے نہیں ہیں۔ جہاں فاروق لغاری اورآصف علی زرداری کے کتے اور گھوڑے شہد اور دودھ سے ناشتہ کرتے ہیں اور غریب بے چارہ ایک وقت کی روٹی کے لئے ترستا ہے۔ غریب افلاس، طوفان مہنگائی کے باعث اپنے بچوں سمیت خود کشی پر مجبور ہے، وہاں مولانا محمدممتاز احمد نقشبندی جیسے سفیدپوش لوگوں کو کہاں سے انصاف ملے گا، وہ محنت و کوشش کے باوجود نہ اپنا علاج کروا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے پیاروں کا، نہ اولاد کو غربت کی چکی سے نکال سکتے ہیں اور نہ ہی اُن کو تعلیم دلوا سکتے ہیں۔ شکوہ کیا جائے تو کس سے؟ شکایت ہو تو کس سے؟

مجھے مولانا محمدممتاز احمد نقشبندی (مرحوم) کو دیکھ کر اپنے تحریکی، تنظیمی، انتہائی متحرک اور ہر دم کچھ کرنے کی فکر میں لگے رہنے والے قاری ممتاز حسین رضوی (مرحوم) کچھاں پوٹھی مکوالاں یاد آتے ہیں، جب اُن کو خون کے سرطان نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اُنہوں نے ہسپتال میں بستر مرگ پر لیٹ کرعلاج کے لئے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کو درخواست لکھی تو ان کے انتقال کے بعد جواب آیا کہ ’’آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا‘‘۔ حیف،صد حیف ہے ایسے حکمرانوں پر جو عوام کے خون کو چوس کر حق حکمرانی کے دعویدار ہیں۔ اس دنیا سے بہرحال رخصت تو ہونا ہے، لیکن جس عوام کے ووٹ پر یہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں اور پھر قومی دولت کو اپنی ملکیت سمجھ کر دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں، کل قیامت کے دن کیا جواب دیں گے؟ جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’تم سے تمہاری رعیت کے بارہ میں پوچھا جائے گا‘‘۔ ہے سوچنے کی بات اسے بار بار سوچ۔