اپنی بات/افتخار احمد چوھدری

کریڈٹ کا کھیل

بات کا آغاز معمولی تلخ کلامی سے ہوا ،یہ واقع 7جنوری کو تقریباًایک بجے پیش آیا ،کار میں سوار رحیم نامی نوجوان فیملی کے ہمراہ اسلام گڑھ چوک میں رکا ،ڈیوٹی پر موجود ٹریفک سارجنٹ اور کار ڈرئیور میں گاڑی کھڑی کرنے پر تو تکرارہوئی ،اسی اثنا میں اتفاق سے رحیم نامی نوجوان کادوست اور کچھ مقامی دوکاندار بھی موقع پر پہنچے، بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ،جھگڑے کا آغاز ہوا،ٹریفک سارجنٹ اور اس کے چار حمایتیوں نے دونوں نوجوانوں کی پٹائی کردی،پولیس تھانہ اسلام گڑھ کی نفری پہنچی اور دونوں نوجوانوں کو پولیس اسٹیشن لے گئی.

بات یہیں ختم ہوجاتی اگر دونوں نوجوان عام شہری ہوتے ،رحیم نامی نوجوان سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید اور MLAچکسواری اسلام گڑھ کے قریبی ساتھی اور ممتاز کاروباری شخصیت ندیم روپیال کے فرزند تھے جبکہ رحیم کا دوسرا ساتھی سابق امیدوار اسمبلی حلقہ 2سائیں ذوالفقار کا بھتیجا تھا، یوں واقعہ کے آدھا گھنٹہ بعد سیکڑوں افراد پولیس اسٹیشن جمع ہوگئے ،دونوں نوجوانوں کے عزیز واقارب سیخ پا تھے کہ خواتین کے سامنے بد تمیزی اور تشدد کیا گیا پھر پولیس نے یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے متاثرہ نوجوانوں کو تھانہ لے گئی ،ایس ایچ او تھانہ اسلام گڑھ نے حالات کو دیکھتے ہوئے روائیتی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موقف دیا کہ نوجوانوں کو گرفتار نہیں بلکہ بیان لینے کے لیے تھانہ لایا گیا ،ٹریفک سارجنٹ اور نامعلوم حمایتی افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی لیکن ایس ایچ او کی طفل تسلیاں کارگر ثابت نہ ہوئیں.

متاثرہ لڑکوں کے عزیز و اقارب اور حمایتی شرکاء نے موقف دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کیا جاتا ہے تشدد کا کوئی جواز نہیں ،پولیس تھانہ کے عملہ نے بد تمیزی کی اور متاثرہ نوجوانوں کو ملزموں کی طرح پولیس سٹیشن لے جایا گیا ،ٹریفک سارجنٹ اور پولیس تھانہ اسلام گڑھ کے عملہ کو معطل کیا جائے ،جھگڑا ٹریفک سارجنٹ سے ہوا ،تشدد کرنے والے سول افراد کو سامنے لاتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے ،جھگڑا کے بعد سائیں ذوالفقار اور حکومتی پارٹی کے رہنما ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ ن آزاد کشمیر عظیم بخش چودھری بھی تھانہ پہنچے ،پولیس مشتعل عوام کے مطالبات ماننے میں ٹال مٹول کرتی رہی اور عوام اپنے موقف پر ڈٹے رہے ،حالات بے قابو ہونے لگے تو ڈی ایس پی میرپورندیم عارف کو بھی اسلام گڑھ تھانہ حاضری دیناپڑی ،بعد ازاں سابق وزیر اعظم چودھری عبدالمجید بھی پولیس اسٹیشن تشریف لے گئے ،پولیس عوامی اور سیاسی پریشر پر اپنے ہی اہلکاروں کے خلاف کاروائی پر مجبور ہوگئی ،ٹریفک سارجنٹ کو معطل اور تشدد کرنے پر دیگر چار حماییتوں جن کی شناخت مقامی دوکانداروں کی ہوئی خلاف FIRبھی درج کرلی گئی ،یکطرفہ کاروائی اور بد تمیزی سے پیش آنے پر تھانہ اسلام گڑھ کے عملہ ASIاور کانسٹیبل کو بھی معطل کردیا گیا ۔

اس کے بعد نئی بحث نے جنم لیا ،بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کاروائی سائیں ذوالفقار اور عظیم بخش چودھری کی ایما ء پرہوئی جبکہ بعض کا دعوی ہے کہ تمام کاروائی چودھری عبدالمجید کا کریڈٹ ہے ،سوال یہ ہے کہ معطل ہونے والے اہلکاران اور FIRمیں شامل مقامی دوکاندار واقعی قصوروار تھے یا محض کریڈت کی بھینٹ چڑھائے گئے ؟اگر واقعی قصوروار تھے تو کاروائی خود کار طریقہ سے ہونی چاہیے تھی ،یہ کاروائی ثابت کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عام شہری کی کوئی شنوائی نہیں ،اگر کوئی عام شہری تشدد کا شکار ہوتا تو پولیس اسٹیشن میں بھی ڈنڈے کھاتا اور تشدد کرنے والے مقامی دوکاندار بھی سینہ تان کر بازار میں فخر سے گھومتے ۔اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت سے اسباق ہیں ۔

ہر انسان اپنا مزاج رکھتا ہے ،کوئی سخت رویہ کا مالک ہے اور کوئی نرم ،ٹریفک پولیس کو عام شہریوں سے ڈیل کرنا ہوتا ہے لٰہذا ٹریفک پولیس اہلکاران کو شہریوں سے ڈیل کی تربیت ہونی چاہیے ،ٹریفک پولیس کا کام ٹریفک نظام کو کنٹرول کرنا ہے نہ کے لڑنا جھگڑنا ،اس واقعہ میں ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے ،بعض اوقات خواہ مخواہ کا پنگا گلے کی ہڈی بن جاتا ہے ،اور آپ کو دھاک بٹھانے کے بجائے راہ فرار اختیارکرنا پڑتی ہے اورمنت سماجت الگ سے ،جیسا آج دوکانداروں کو نوجوانوں پر ہاتھ گرم کرنے کی پاداش میں کرنا پڑرہا ہے ۔ ہمیں قوانین اور قانون پر عملدرآمد کروانے والوں کے احترام کی بھی تربیت نہیں دی جاتی ،قانون توڑنے اور قانون کے محافظوں کی تضحیک کر نے میں فخر محسوس ہوتا ہے جب تک قانون اور ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے احترام کا مجموعی طور پر شعور بیدار نہیں ہوتا ایسے جھگڑوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔

لٰہذا میری درخواست ہے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی اس طرح تربیت کی جائے کہ کوئی گاڑی غلط پارکنگ کریں اور نہ غلط پارکنگ سے روکنے پر اپنی توہین سمجھے ،انسان فطری طور پر فیملی کے سامنے کسی کے غلط رویہ کو برداشت نہیں کرسکتا ،عوام سب سے زیادہ تھانہ اسلام گڑھ کے عملہ کی جانب سے خواتین کے سامنے نوجوان سے بدتمیزی پر مشتعل تھے ،پولیس عملے کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے،اسی طرح ایک معتبر سیاسی شخصیت نے ملزمان کی عدم گرفتاری پرپولیس آفیسر کی سرزنش کی اورغصہ کے عالم میںنامزد ملزمان کی عدم موجودگی پران کی خواتین گرفتار کرنے کا حکم دیا ،ایسا بیان بھی اخلاقی لحاظ سے درست نہیں ،سیاسی رہنمائو کو عوام فالو کرتے ہیں اس لیے سیاسی رہنمائو کوجذبات سے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر گفتگو کرنی چاہیے ،عوام کا پولیس پر اعتماد کا فقدان ہے جس کی وجہ پولیس کا عام شہریوں سے عمومی رویہ ہے ،ارباب اختیار کو اس بابت سنجیدگی سے سوچنے اور حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ، بلا وجہ وردی پوش لوگوں کو اپنا دشمن تصور نہیں کرنا چاہیے، وردی میں ملبوس بھی عام انسانوں کی طرح جذبات اور احساسات رکھتے ہیں، جس کا احترام ہم سب کی ذمہ داری ہے ،

سابق وزیر اعظم نے ڈی ایس پی سے جو ناقابل تحریر گفتگو کی وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناسور ہے ،یہ بات عیاں ہے کہ ساری کاروائی سیاسی مداخلت سے ہوئی ہے جس سے پولیس اسٹیشن کی سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کی کلی کھل گئی ہے ،آپ المیہ ملاحظہ کیجئے !معاشرے کی اتنی بڑی خامیوں کے باوجود ہم کریڈٹ کریڈٹ کھیل رہے ہیں ۔