انسانیت؟؟؟؟

خوبصورت نیناؤں اور معصوم سی چہرے والی بےقصور؛ قصور کی سات سالہ گڑیا زینب کی خبر سن کر شاید ہی کوئی آنکھ ہوئ ہو جو اشک بار نہ ہوئ ہو .اتنی بے رحمی سے اس کے ساتھ درندگی اور پھر قتل ، تصویر دیکھ کرﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﯽ۔۔۔

ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮔﻮﻧﺞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻨﺴﺘﯽ ﺟﺎ ﺭﮨا ﺗﮭا
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ؟؟؟ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﺷﺮﻑ ﺍﻟﻤﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ. اس معصوم بچی پر کیا کوئی اشرف المخلوقات درندگی کر سکتا ہے.. انسانیت ﺩﮨﺸﺖ ﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﻮ گئ ﮨﮯ؟ ﺍنسان ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻗﺪﺭﯾﮟ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﭼﯿﺨﻮﮞ، ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺳﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺳﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞِ ﺩﺍﻧﺶ ﺧﺎﻣﻮﺵ، ﺍﮨﻞِ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻻﭘﺮﻭﺍ۔

لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ایک انسان کہتے ہوئے نادم ہوں ایک بے حس معاشرے کا باشندہ کہتے ہوئے شرمسار ہوں کہ ہم ابھی تک قاتل کھلے پھر رہے ہیں.اور تب میرے احساسات پہ ایک وار اس صحافی کے ان الفاظ نے کیا جب اس نے معصوم زینب کے والدین سے سوال کیا کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ ایک باپ جس کی معصول سی پھول کو درندگی کا نشانہ بنا کر بے رحم قتل کر دیا جائے تو وہ کیا محسوس کرے گا. بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں کاش وہ صحافی اس والد کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھتا تو شاید ایسا سوال نہ کرتا.
سوال یہ ہے کہ کیا زینب کے قاتلوں کو پکڑا جائے گا؟؟
اسے عبرتناک سزا سنائی جائے گی؟