اظہارصداقت/عامر جہانگیر

کشمیرمیں خاندان مالوہ کی حکومت کا پانچواں دور

راجہ شیر ورما کی معزولی کے ساتھ ہی خاندان خمار کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور راجہ پرورسین کی اولاد میں اراکین سلطنت کے باہمی اتفاق سے یوششکر نے مسند حکومت سنبھالا۔راجہ یو ششکر نے حکومت سنبھالتے ہی ظلم و ستم کا مکمل خاتمہ کیا۔اراکین سلطنت حکومت مملکت میں دخل دینے کے عادی تھے۔چنانچہ تخت پر بیٹھتے ہی ارکین سلطنت کی مداخلت کے سد باب کے لیے اقدامت کیے۔راجہ یوششکر نے یہ موقف اپناتے ہوئے تمام برہمنوں کو تسلی دیتے ہوئے دربار سے نکال دیا کہ آپ کی عزت و احترام مجھ پر لازم ہے۔ لیکن یوں بلا اجازت دربار میں آمد و رفت سے حکمران کا رعب و دبدبہ اور ادب قائم نہیں رہتا۔اس لیے آپ لو گ بخوشی میری التجا کو قبول کریں اور آئندہ بلا اجازت دربار میں تشریف نہ لایا کریں جب ضرورت ہوئی تو آپ کو طلب کر لیا جائے گا۔راجہ یوششکر کی اس حکمت عملی کی وجہ سے عوام الناس پر رعب طاری ہو گیااورملک میں امن و امان کی فضاء قائم ہو گئی۔

راجہ یوششکر نے ملکی معاملات کو بہتر کرنے کے لیے قوانین میں ترامیم کرتے ہوئے سخت سے سخت قوانین متعارف کروائے۔ملک سے تمام بدنظمی ختم کر دی۔نئے قوانین پر پابندی کے لیے زبردست احکامات جاری کیے۔راجہ یوششکر کے جاہ و جلال کا س قدر سکہ بیٹھا کہ تمام چور، رہزن، ڈاکو اور شرپسند عناصر خود بخود راہ راست پر آ گئے۔ شراب نوشی، قمار بازی اور زنا کا ری کا مکمل خاتمہ ہوا۔زراعت اور کاشتکاری کی بہتری کے لیے نئے قوانین متعارف کرواتے ہوئے زراعت میں ترقی کے زینے چڑھنے لگا۔دربا شاہی اور دیگر سرکاری دفاتر کے لیے مناسب قوانین جاری کرتے ہوئے تمام اہلکاروں، مشیروں اور عدالتوں کو قانونی پابندی میں جکڑ دیا۔تمام عناصر کو مقررہ حدود میں پابند کر دیا۔برہمنوں اور مذہبہ پیشوائوں کو وظائف اور تحفے تحائف دیے۔عورتوں کو خاوندوں کی مکمل پابندی کا حکم دیا۔فسق و فجور، زناکاری اور حرام کاری کے لیے ایسے سخت قوانین مقر رکیے کے کشمیر امن و امان کا گہوارہ بن گیا۔

راجہ یوششکر خود بھی عہد و پیمان پر اس حد تک قائم رہا کہ کھبی جھوٹ نہیں بولتا تھا اور نہ ہی سنتا تھا۔تعلیم و تربیت کے لیے درس گائیں اور تعلیمی ادارے بنوائے۔لوگوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ادب و تہذیب سے روشناس کروایا۔نیک اور بد کی خود بھی تمیز کرتا تھا اور لوگوں کو بھی سکھائی۔کشمیر میں جگہ جگہ مسافر خانے اور شفاخانے بنوائے۔عدل و انصاف اور امن و امان اس قدر عام کیا کے دوکاندار اپنی دوکانیں کھلی چھوڑ کر جاتے تھے۔راجہ یوششکر نے 9سال 9ماہ تک امن و امان سے حکومت کی اور966ء میں بیماری کے باعث تاج حکمرانی اپنے نابالغ بیٹے سنگرام دیو کے سر پر رکھ دیا۔پروہ گپت نے فریب سے راجہ یوششکر کو زہر دے کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

راجہ یوششکر کی وفات اور سنگرام دیو کی نا تجربہ کاری سے پروکپت نے خوب عروج حاصل کیا۔پروہ گپت نے لالچ اور حرص سے حکومت ہر قبضہ جمانے کا سوچا اور ملکی معاملات کو خراب کرتے ہوئے بڑی مکاری اور حیلہ سازی سے اراکین سلطنت میںشدید اختلافات پیدا کیے۔پانچ وزیروں کا کام اس طرح سے تمام کیا کے کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ پروہ گپت نے مو قع پاتے ہی خلوت میں راجہ سنگرام دیو کو گرفتار کرت ہوئے چھاتی پرپتھر باندھتے ہوئے دریائے جہلم (بہت)میں پھینک دیا اور خود حکمران بن گیا۔راجہ سنگرام دیو کی6ماہ کی حکومت اس وفات کے ساتھ ہی 966ء میں ختم ہو گئی ۔ راجہ سنگرام دیوکی وفات کے ساتھ ہی خندان مالوہ کی حکومت کا ختم مجموعی طور پر10سال 3ماہ کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہو گیا۔