پیش رفت/عمر منہاس

ننھی سی معصوم پری تھی!

سات سال کی بچی زینب…پنجاب کے شہر قصور کی رہائشی4جنوری کو اس وقت اغواء ہو گئی جب وہ دوسرے بچوں کے ساتھ سپارہ پڑھنے گئی ہوئی تھی ۔ زینب گھر سے نکلی لیکن واپس نہ آئی. چار دن بعد زینب کی لاش گھر سے دو کلومیٹر دور کچرے کے ڈھیر سے ملی ۔ کچرے کے ڈھیر میں بچی کا بے جان جسم جس طرح پڑا ہوا تھاوہ منظربڑا کرب ناک تھا۔ ۔۔ایک بچی کا صرف قتل نہیں ہوا تھا. اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔۔۔پہلے اس کی معصومیت کا قتل کیا گیا۔۔۔اس کا بچپن چھینا گیا اور پھر ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کرکے لاش گھر کے قریب پھینک دی گئئی۔۔۔بچی کے والدین اس دوران عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے۔

یہ ایک بہت سنگین واقعہ تھا جس نے تقریباً ہر اس شخص کو دہلاکر رکھ دیا جو اپنے سینے میں درد رکھتا ہے۔۔۔بچی کی گمشدگی کے دوران اہلخانہ نے پولیس سے مددبھی چاہی کہ ان کی بچی کو تلاش کیاجائے۔ زینب کے چچا نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروائی مگر کوئی مدد کے لیے نہ آیا۔۔۔شاید اس لیے کہ قانون اندھا ہوتا ہے یا پھر جب تک جرم مکمل نہ ہوجائے اس وقت تک تماشا دیکھا جاتا ہے۔ 8جنوری کی رات کو زینب کی لا ش کوڑے کے ڈھیر سے بر آمد ہوئی تو سوشل میڈیا پر کہرام مچ گیا ور مجبوراً حکومت اور میڈیا کو عمران خان کی شادی کی خبر چھوڑ کر اس طرف توجہ کرنا پڑی۔ واقعے کے بعد قصور سمیت ملک بھر میں غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔۔۔چیف جسٹس آف لاہورہائی کورٹ کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس واقعے کا از خود نوٹس لیا۔

آرمی چیف نے بھی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی نوٹس لیا اور ڈی پی او قصور کو او ایس ڈی بنا دیامگر جن پولیس والوں نے اپنے ایک ساتھی کے منع کرنے کے باوجود مظاہرین پر سیدھی سیدھی گولیاں چلا کر مزید دو لاشیں گرا دیں اورکئی کو زخمی کر دیا ۔۔۔انکا کیا بنے گا؟کیا عوام اسی طرح سڑکوں پر لہو لہو ہوتی رہے گی ۔۔۔معصوم بچے بچیاں اسی طرح غیر محفوظ رہیں گے۔۔۔نہ کسی کی عزت محفوظ ہوگی اور نہ کسی کی جان و مال۔۔۔جب کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہوگا تو غریب کی شنوائی کیسے ہوگی اور حق دار کو اس کا حق کیسے ملے گا!پولیس چار دن کے بعد ان ایکشن ہو کر بچی کے قاتلوں کو تلاش کرنے کی بجائے مظاہرین کو ٹارگٹ کرے گی تو کیا پھر بھی قانون سوتا ہی رہے گا۔

قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس قسم کے درجنوں واقعات صرف قصورہی نہیں بلکہ ملک کے گلی کوچوں میں عام ہیں۔ کہیں ان واقعات کو رپورٹ کیا جاتا ہے تو کہیں معاشرے کی باتوں کے خوف سے چپ کی چادر اوڑھ لی جاتی ہے ۔ اسی قصور میں تین سال قبل بچوں کو برہنہ فلم بنوانے پر مجبور کیے جانے والے واقعات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی لیکن کیا ہوا۔۔!چونکہ حکمرانو ں کے اپنے بچے ان کے آراد دہ گھروں میں محفوظ تھے تو ان واقعات کو چنداں اہمیت نہ دی گئی۔ دو چار بیانات اور کچھ گرفتاریاں کی گئیں تاکہ لوگوں کو وقتی طور پر مطمئن کیا جاسکے اور اس کے بعد پھر وہی سلسلہ۔۔۔ جہاں زینب کے مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا جائے تو وہاں پر جن پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا۔ انہیں بھی اس جرم میں برابر کا شریک ٹھہراتے ہوئے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور رہتی دنیا تک انہیں نشان عبرت بنایا جائے تا کہ کسی کو بھی آئندہ ایسی جراء ت کرنے کا حوصلہ پیدا نہ ہو سکے۔۔وہ بھائی جن کی بہنیں ان کی آنکھوں کے سامنے ہنس رہی ہیں۔۔۔ وہ باپ جن کی ننھی پریاں انکی گردن سے جھول رہی ہیں۔۔۔وہ سب زینب انصاری کو اپنی زینب سمجھیں ۔اوراس دکھ کو محسوس کریں جو کلیجہ شکن ہے۔۔۔!

ننھی سی معصوم پری تھی
پاکی جس میں بھری ہوئی تھی
گڑیا تتلی چاہنے والی سب اچھا ہے ماننے والی
چاند پر جس کے ماموں رہتے
سب اس کو شہزادی کہتے
پیاری نظمیں یاد تھیں اک دو
دس کے بعد وہ کہتی تھی سو!
جانے نہ تھی حیوانوں کو
دنیا کے ان انسانوں کو
سب کو چاچو کہہ دیتی تھی
باپ کے جیسا کہہ دیتی تھی
مرد عورت کا فرق نہ جانے
ابھی پڑے تھے بہت زمانے
ابھی تو دودھ کے دانت گرے تھے
ابھی تو ماں کی گود تھی چھوڑی
جھٹ سے رونے لگ جاتی تھی
غلطی سے کوئی شے جو توڑی
جانے کس وحشی کا اس پر
ظالم سنگ دل مچل گیا تھا
جانے کس نے ہوس کے ہاتھوں
ننھے پھول کو مسل دیا تھا
کن ہاتھوں نے اسے دبوچا
پھول سے کس نے کلی کو نوچا
ننھی سی معصوم پری تھی
کچرے میں وہ مری پڑی تھی
ننھی سی معصوم پری تھی
کچرے میں وہ مری پڑی تھی!