first Kaba

خانہ کعبہ سب سے پہلے کس نے تعمیر کیا ،نایاب معلومات

حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نےتاریخ مکہ میں تحریر فرمایا ہے کہ خانہ کعبہ دس مرتبہ تعمیر کیا گیا:(۱)سب سے پہلے فرشتوں نے ٹھیک “بیت المعمور” کے سامنے زمین پر خانہ کعبہ کو بنایا۔ بیت المعمور جو کہ فرشتوں کا کعبہ ہے ۔ جس کا طواف فرشتے کرتے ہیں۔

پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر فرمائی۔(۳) اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے فرزند حضرت شیث علیہ السلام نے اس عمارت کو تعمیر کیا۔ اس کے بعدطوفان نوح علیہ السلام میں یہ عمارت غائب ہوگئی۔

جو کہ کئی سوسال تک دوبارہ تعمیر نہ کی جاسکی ۔(۴) اس کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور ان کے فرزند ارجمند حضرت اسمٰعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام نے اس مقدس گھر کو تعمیر کیا۔ جس کا تذکرہ قرآن مجید میں ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم الٰہی ہوا کہ مکہ کی طرف جاؤ تو آپ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام کو لے کر روانہ ہوگئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ یہاں نہ کوئی عمارت تھی اور نہ پانی تھا اور نہ یہاں کوئی رہتا تھا۔ درختوں کے نام پر صرف ببول وغیرہ کی جھاڑیاں تھیں۔

حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے بیوی بچے دونوں کو یہاں بٹھا دیا۔ ایک مشکیزہ پانی کا اور کھجوریں پاس رکھ دیں اور پھر آپؑ شام کی طرف چلے گئے۔ حضرت ابراہیمؑ دوسری بار مکہ آئے تو قیام نہ کیا لیکن جب تیسری بار تشریف لائے تو حضرت اسماعیلؑ علیہ السلامسے فرمایا کہ ’’بیٹا! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے‘‘۔ حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام نے کہا: ’’تو اطاعت کیجیے‘‘۔ پوچھا: ’’کیا تُو میری مدد کرے گا؟‘‘ کہا: ’’کیوں نہیں‘‘۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے کہا: ’’اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں‘‘۔گھر کی تعمیر شروع ہوئی، حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام پتھر لاتے جاتے اور حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام بناتے جاتے تھے۔ جب تعمیر ذرا بلند ہوگئی تو حضرت اسماعیلؑ ایک پتھر اٹھاکر لائے تاکہ حضرت ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہوکر تعمیر کریں۔ (یہی مقام ابراہیمؑ ہے) دونوں باپ بیٹے دیوار اٹھاتے جاتے تھے اور دعا کرتے جاتے تھے۔’’اے پروردگار! ہم سے قبول فرما، تُو سننے اور جاننے والا ہے۔‘

‘کہتے ہیں اس وقت حضرت اسماعیلؑ کی عمر بیس سال تھی، حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے بیت اﷲ کے پہلو میں حجر کو حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام کی بکریوں کا باڑہ بنایا تھا اور اس پر پیلو کی چھت ڈالی تھی۔ پہلے بیت اﷲ کی جگہ ایک سرخ ٹیلہ تھا۔ اکثر سیلاب ادھر ادھر سے اسے کاٹتا رہتا تھا۔ جب حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام تعمیر کعبہ سے فارغ ہوگئے تو حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام سے ایک ایسا پتھر لانے کو کہا جو آغاز طواف کے لیے نشانی کے طور پر استعمال ہوسکے۔ یہ پتھر حضرت جبرئیل علیہ السلام ابوقبیس کی پہاڑی سے لائے۔

حضرت ابراہیمؑ نے اسے اس مقام پر رکھ دیا جہاں وہ اب قائم ہے۔(۵) قوم عمالقہ کی عمارت کی تعمیر میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔(۶) اس کے بعد قبیلہ جرہم نے اس کی عمارت بنائی۔(۷) قریش کے مورث اعلیٰ “قصی بن کلاب” کی تعمیر۔(۸) قریش کی تعمیر جس میں خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی شرکت فرمائی اور قریش کے ساتھ خود بھی اپنے دوش مبارک پر پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے رہے۔قریش کی جانب سے تعمیر نو رسول اﷲ ؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی تھی۔ قریش نے تعمیر کے لیے جو حلال مال جمع کیا تھا وہ کافی نہیں تھا اس لیے حجر کی طرف چھ ہاتھ ایک بالشت جگہ کم کردی گئی تھی۔