بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال پنجاب سر فہرست

اسلام آباد(راجہ ارشد محمود/سٹیٹ ویوز) بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال پنجاب سر فہرست، 2017 ء میں پاکستان میں روزانہ 11بچے جنسی تشدد کا شکار ہو ئے بچوں کے حقوق کے لئے سرگرم عمل تنظیم ساحل نے اعداد و شمار جاری کر دیئے

ساحل کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2017ء کی پہلی ششماہی میں پورے ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 1764کیس رپورٹ ہوئے ساحل تنظیم 1996سے بچوں کے حقوق بالخصوص جنسی تشدد اور استحصال کے لئے کام کر رہی ہے ساحل کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے۔

جب کہ چاروں صوبائی دارلحکومت میں ان کے دفاتر موجود ہیں سٹیٹ ویوز کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں ساحل کے سینئر پروگرام آفیسر میڈیا ممتاز گوہر نے بتایا کہ ساحل کی میڈیا ٹیم ہیڈ آفس سمیت پورے ملک میں 90کے قرین ملکی اور مقامی اخبارات کی مانیٹرنگ کرتی ہے۔

اور جہاں بھی بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کا کوئی واقعہ ہوتا ہے ہماری مکمل کوشش ہوتی ہے متاثرہ بچے کی مفت قانونی امداد اور نفسیاتی علاج کر یں ان کا کہنا تھا کہ روزانہ 11بچوں والے اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں لیکن اصل صورت حال سے کہیں زیادہ خطرناک ہے ۔

کیوں کہ زیادہ تر والدین بدنامی کے خوف سے ایسا واقعہ رپورٹ نہیں کرتے قصور واقعے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 4 جنوری 2017ء سے لے کر 3دسمبر2017ء تک جنسی تشدد کے بارہ واقعات درج کرائے گئے اور چونکا دینے والی بات یہ ہے ۔

کہ ان میں 9 واقعات ایسے شامل ہیں جن میں شکار ہونے والی بچیوں کی عمریں 6-10سال کے درمیان تھیں انھوں نے گزشتہ تین برس کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 2015 ء میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے حوالے سے قصور راولپنڈی لاہور پاکپتن فیصل آباد شیخو پورہ کوئٹہ اوکاڑہ وہاڑی سیالکوٹ کا شمار بالترتیب خطرناک اضلاع میں کیا جا تا ہے ۔

ان اضلاع میں جنسی تشدد و استحصال کے1950 واقعات درج ہوئے جس میں صرف قصور میں 451 مقدمات درج ہوئے جن میں قصور گینگ ریپ کے 296کیس بھی شامل ہیں ممتاز گوہر نے انکشاف کیا کہ 2016ء میں جنسی تشدد کے حوالے سے ضلع راولپنڈی سر فہرست رہا جہاں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 269 کیس درج ہوئے جب کہ پورے ملک میں 1883مقدمات درج کئے گئے جب کہ قصور میں درج مقدمات کی تعداد 141تھی ممتاز گوہر نے بتایا کہ 2017ء میں قصور میں جنسی درندگی اغواء اور اس قسم کے 129 مقدمات درج کئے گئے ساحل کے اعداد شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صوبہ پنجاب گزشتہ چند برسوں سے اس قسم کے شرمناک واقعات میں سر فہرست رہا ہے ۔

ساحل کی لیگل ٹیم کے ہیڈ اور معروف قانون دان امتیاز سومرو نے سٹیٹ ویوز سے خصوصی نشست کے دوران بتایا کہ ہمارے معاشرے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی معصوم جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے قریبی عزیز و اقارب ہی ان خاندان کا حوصلہ توڑ دیتے ہیں ۔

کہ پولیس کے پاس مت جانا ورنہ بد نامی ہوگی امتیاز سومرو نے کہا کہ یہیں سے مجرموں کو شہہ ملتی ہے ان کا کہنا تھا کہ باالفرض اگر نامزد ملزم کا ٹرائل شروع بھی ہو جائے تو دوران ٹرائل مدعی فریق کو دباؤ دھونس اور پیسے کا لالچ دے کر راضی نامہ کر لیا جاتا ہے امتیاز سومرو کا کہنا تھا۔

ساحل کے پلیٹ فارم سے جنسی استحصال کا شکار بچوں کو مکمل قانونی امداد کے علاوہ نفسیاتی علاج کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے راولپنڈی میں قائم ایک سرکاری ادارے میں خدمات سر انجام دینے والی کلینکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر تنزیلہ جاوید نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری والدین اور بالخصوص والدین کی بنتی ہے۔

کہ وہ بچوں کو سمجھائیں بد قسمتی سے ہمارے ہاں جنسی تعلیم اور شعور کی باتیں کرنا شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے لیکن اب وقت آچکا ہے کہ معاشرے کے ذمہ داروں کو آگے بڑھ کر یہ بیریئر توڑنا ہوگا تنزیلہ کا کہنا تھا کہ ان تمام معاملات میں تعلیم کے ساتھ ساتھ آگہی کی بھی اشد ضرورت ہے بچوں کو یہ بتانا ہو گا کہ استحصال کیا ہوتا ہے۔

اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے ساحل میں خدمات سر انجام دینے والی خاتون سائیکالوجسٹ ارسہ غزل نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث زیادہ تر افراد ایسے لوگ ہوتے ہیں جنھیں بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ہو پھر بدلہ لینے کی غرض سے وہ اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں سٹیٹ ویوز سے دوران گفتگو دونوں خواتین ماہر نفسیات اس امر پر متفق تھیں کہ ایسے واقعات میں جہاں کچھ دیگر عوامل بھی ہیں لیکن ایک بنیادی وجہ انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس کی بھر مار ہے۔

تعلیم کی اشد کمی ہے بے روزگاری ہے تعلیم مہنگی ہے لیکن انٹرنیٹ باآسانی دستیاب ہے جو بد قسمتی سے ہمارے ترقی پذیر معاشرے میں منفی رحجان پھیلانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے