rohani

ایرانی جوہری معاہدے میں تبدیلی نہیں ہو گی،ایران کاامریکہ کو واضع پیغام

تہران(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے شدہ عالمی معاہدے کو آخری موقع دیتے ہوئے اتحادیوں کواس معاہدے میں پائی جانے والی ’تباہ کن خامیوں‘ کو ٹھیک کرنے کا کہا ہے۔ اس خدشے کا بھی اظہارکیا جا رہا تھا کہ امریکی صدر جوہری معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ت

اہم صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک ’آخری مہلت‘ دینے کا اعلان کرتے ہوئے معاہدے میں شامل امریکا کے یورپی اتحادیوں کو تنبیہ کی ہے کہ اگلے 120 روز کے اندر اس ڈیل میں پائی جانے والی ’تباہ کن خامیاں‘ ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر امریکا اس معاہدے سے نکل جائے گا۔صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یورپی اتحادی اور امریکا مل کر ایران کے ساتھ ایک اور ضمنی معاہدہ کریں،

جس میں ایرانی ایٹمی پروگرام کے بارے میں مزید سخت اقدامات شامل کیے جاسکیں۔‘ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر کی اس تنبیہ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کی شرائط دوبارہ طے نہیں کی جا سکتیں اور صدر ٹرمپ کا موقف ’ان کی مایوسی کی کیفیت میں اس ٹھوس اور کثیر الجہتی معاہدے کو ختم کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے‘۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا گیا، ’’میں یورپی ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس معاہدے میں پائی جانے والی بڑی خامیوں کے خاتمے، ایرانی جارحیت کے مقابلے اور ایرانی عوام کی حمایت کے لیے امریکا کا ساتھ دیں۔‘

‘اس تازہ پیش رفت کے بعد یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین امریکی صدر کے اس نئے فیصلے کو بغور دیکھ رہاہے اور اس کے ممکنہ مضمرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک یورپی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرغیر ملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے موجودہ موقف کے بعد معاہدے کو قائم رکھنا انتہائی پیچیدہ عمل بن جائے گا۔