فالٹ لائن/طاہر احمد فاروقی

آزاد خطہ میں غلامی سے بڑا ظلم اور لیگیوں و انصافیوں کی خوشیاں

قومی سیاست کے آزاد خطہ اور گلگت بلتستان میں پیاسے کے لیے پانی جیسی نعمت کے حامل ہوتے ہیں ‘ سپریم کورٹ پاکستان کی طرف سے منی لانڈرنگ کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر الزامات ثابت نہ ہوتے ہوئے بے قصور قرار دیئے جانے پر تحریک انصاف کے صدر بیرسٹر سلطان محمود قیادت ‘ کارکن خوش ہیں تو مسلم لیگ (ن) والے بھی حدیبیہ کیس کو دوبارہ نہ کھولنے کے فیصلے پر خوش ہیں ان کی قیادت کیلئے مستقبل کے لیے وزیراعظم کے اُمیدوار قرار دیے گئے جہاں شہباز شریف کے بچ جانے پر خوش ہیں جن کے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے مظفر آباد کا دورہ کیا اور بجلی کے منصوبے پترینڈ کا افتتاح کیا جس کا شور اب پورے ملک میں مچایا جائے گا.

ن لیگ کی حکومت توانائی کے منصوبہ جات پر تیزی سے عملدرآمد ممکن بنا کر اندھیرے ختم کر رہی ہے مگر خود یہاں وزیراعظم فاروق حیدر اپنے ہی پانی پر بننے والے منصوبہ جات کے باوجود آزادکشمیر میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ ہی کر رہے ہیں ‘ اور وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ان کے مطالبہ پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرانے پر ہی اکتفا کرتے ہوئے واپس چلے گئے ‘ جو کافی نہیں ہے ‘ ان منصوبہ جات کی کامیابی اور مزید تسلسل کے لیے ضروری ہے ‘ آزاد خطہ کے عوام کو بجلی کی فراہمی میں آسانیاں ممکن بنائی جائیں اور خود آزادکشمیر حکومت خصوصاً اصل مشینری سرکاری ادارے محکمے بھی خود کو قابلیت صلاحیت میں اس قابل بنائیں یہ خود بھی بجلی کے نظام سمیت تمام شعبہ جات کو خود سنبھالنے کے قابل ہو جائیں یہ خوش آئند عمل ہے.

وزیراعظم پاکستان کے پروگرام کے تحت قومی ادارے نیوٹک اور آزادکشمیر ٹیوٹا کے مابین باہمی تعاون سے حقیقی معنوں میں نوجوانوں کو ہنر مندی سے سنوارنے کے پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے ‘ جس کے تحت غالباً ایک ہزار نوجوان 6 ماہ کے کورس کریں گے ان کو آزادکشمیر میں ہزار ماہانہ وظیفہ جبکہ پاکستان میں اس کے علاوہ رہائش طعام کا مفت انتظام بھی ہو گا ‘ مگر اصل کام یہ ہے ملک کے سرکاری ادارے اپنی ایف سی میں بڑی گاریوں مشینوں کے بنانے ‘ مرمت کے عملی ماحول میں نوجوان سیکھیں گے ‘ اسی طرح الشفاء ہسپتال اسلام آباد اور سوزوکی موٹرز کے ساتھ جبکہ ہاشو گروپ کے تحت فور سٹاز ہوٹلز میں نوجوانوں کو ناصرف اپنے اپنے شعبہ جات میں سیکھنے کے عملی ماحول میں کورس کرایا جائے گا اور بہتر کارکردگی پر نوجوانوں کو فوری روزگار کے اندرونی بیرونی ملک مواقع میسر آئیں گے جس کے لیے وزیر ٹیوٹا محترمہ نورین عارف بھی مبارکبا کی حقدار ہیں‘ جن کی وزارت کو یہ اعزاز ملا ہے ‘ ناصرف اس پروگرام بلکہ اس کے طریقہ کار کے مطابق پرائمری ‘ مڈل ‘ میٹرک پاس نوجوان لڑکوں ‘ لڑکیوں کو خطہ کے اندر ہنری مندی کے مراکز میں ہنر مندوں کے ساتھ معاہدات کرتے ہوئے اعزازیہ تعاون کا آغاز کیا جائے تو یہ بہت بڑی خدمت ہو گی.

اب لکیر کا فقیر بن کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہنے کے کلچر سے نجات حاصل کرنے کیلئے قابل عمل تجربات کرنے چاہئیں ‘ صرف سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے سے خطہ کے اندر لوگوں کے معاشی اور حتیٰ کہ سماجی رشتوں ناطوں کے لیے ایمان ‘ قرآن سے زیادہ اہمیت اختیار کر جانا غلامی سے بڑا ظلم ہے جو خود ہی مسلط کیا ہوا ہے ۔