ریپ کا شکار افراد کے کپڑوں کی نمائش

برسلز(ویب ڈیسک) بیلجیم کے دارالخلافہ برسلز میں ایک نمائش کے دوران ریپ کا شکارلوگوں کے کپڑے رکھے گئےجس کا مقصداس روایتی تاثر کو زائل کرنا تھا کہ جنسی جرائم کا ذمہ داروہ لباس نہیںہے۔یہ نمائش بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے مولنبیک نامی قصبے میں کی گئی
جسے ’کیا یہ میرا قصور ہے؟‘ کا نام دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نمائش کو ان متعدد افراد کے نام منسوب کیا گیا جو وہ حملے کے بعد محسوس کرتے ہیں۔اس نمائش کے منتظیمن کو ادھار کپڑے فراہم کیے جن میں ٹریک سوٹ باٹمز، پاجامے اور دیگر کپڑے شامل تھے۔

سی اے ڈبلیو کی لیسبھ کینیس کا کہنا تھا کہ ’آپ نے جو بات فوری طور پر نوٹس کی وہ یہ ہے کہ آپ کے ارد گرد چلتے وقت یہاں نہایت چھوٹے عام سے ٹکڑے ہیں جو کوئی بھی پہن سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس نمائش میں بچوں کی قمیض بھی موجود ہے جس پر ’مائے لٹل پونی‘ کی تصویر ہے جو ایک سخت حقیقت ہے۔ 2015 میں ملک میں ہونے ریپ کے واقعات میں سے صرف دس فیصد پولیس کو رپورٹ کیا گیا۔