محمدحنیف تبسم /قلم کی طاقت

بابا جی بہت بھوک لگی ہے ؟؟؟؟؟

بیٹی کے ماتھے کو چوم کر غربت بے روزگاری اور مقروض پن کی وجہ سے خود کشی کے پھندے پر جھول جانے والے نے مغموم کر کے رکھ دیا دل و دماغ مائوف سا ہو کر رہ گیا کافی دیر تک سو چنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ناپید ہو گئی صرف یہ سو چتے سو چتے کہ اپنی ننحی سی گڑیا بیٹی کا ماتھا چوم کرکس طرح خود کشی کے پھندے کو چو گیا ایک مقروض با پ کو کیا پھندہ گلے میں ڈالتے ہوئے اپنی ننھی سے بیٹی کا چہرہ نظروں کے سامنے نہیں آیا ہوگا یقینا آیا ہو گا بار بار آیا ہو گا رویا بھی ہوگا بہت لیکن جلد بازی اور کم حوصلے کی وجہ سے پھندہ کی اذیت ناک تکلیف سے گزر گیا اک شخص ہم سب سماج کو اپنا قصور وار چھوڑ کر چلا گیا اس طرح ہم دانستہ و غیر دانستہ اُس کی بیٹی ، بیوی ، ماں باپ کے تاحیات مجرم و ملزم بن گئے .

چند دن قبل سوشل میڈیا کی وساطت سے ایک درد ناک خبر جو بظاہر چند سطروں پر محیط تھی لیکن حساس دل والوں کے لیے تو کسی قیامت سے کم نہ تھی کہ وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر کے آبائی ضلع جہلم ویلی ہٹیاں بالا بھاگر کے ابرار نامی نوجوان نے خود کشی کر لی کم سن بیٹی سے والد، ماں سے اُس کا بیٹا اور سہاگن سے اُس کا سہاگ چھن گیا خود کشی کے محرکات بے روز گاری ، غربت اور مقروض ہونا تھا خودکشی جیسے بزدل فعل کو انجام دینے والے ابرار نے اس اقدام سے قبل اپنی کمسن بیٹی کے ماتھے کو چوما اور بیوی کو یہ نصحیت کی کہ میری شہزادی کا خیال رکھنا میری یہ امانت ہے آپ کے پاس خود کشی کرنے سے قبل بیوی کے سامنے بہانا بنایا کہ لکڑیاں لینے جارہا ہوں رسی دے دو بیچار ی بیوی کو کیا معلوم کہ اپنے سہاگ کو رسی نہیں بلکہ موت کا پھندہ تھما رہی ہے بہر کیف رسی لینے کے بعد قریب ہی واقع خالی مکان میں رسی کا پھند ا ڈال کر جھول یا اور چند گھنٹے تلاش کے بعد ابرار کی لاش مکان کی چھت سے جھولتی ہو ئی نظر آئی ۔ تخیل میں جب یہ منظر اپنی آنکھوں میں کشید کرتا ہوں تو جسم لرزنا شروع ہو جاتا ہے.

سیدنا عمر فاروق ؓ جن کی ہیبت سے شیطان بھی راستہ تبدیل کر لیتا تھا اورلرزتی زمین پر جب سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ اپنا عصا مار کر کہتے تھے کہ تھم جا کیا عمر ؓ تجھ پر انصاف نہیں کرتا تو لرزتی زمین فوراً تھم جاتی آپ ؓ بھی فرماتے ہیں اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک کتابھی بھوک سے مرگیا تو روز حساب اے عمر ؓ تجھ سے پوچھ ہو گی وہ سیدنا عمر ؓ جس کے نظام کو پڑ ھ کر مغرب ترقی در ترقی کی مناز ل طے کرتا جا رہا رہے اور ہم تنزلی کی طرف سے گر رہے رہیں مغربی اقوام بالخصوص جب میں بر طانیہ نے سیدنا عمر ؓ کے نظا م سے مستفید ہو کر اپنی رعایا بلکہ بے زبانوں کے لیے اپنایا ہے بحرکیف بات دوسری طرف نکل گئی اگر چند لمحات کے لیے ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو شاید ہم کو معلوم ہو کہ کہیں نہ کہیں ہم چکار کے رہائشی ابرار کے مجرم ہیں ریاست اور حکمران تو اس جرم میں سر فہرست ہیں جن کی پالیسیوں نہ صرف سماج کو خوکشیوں پر اور اور اقرباء پروری رشوت سفارش میرٹ کی پامالی ذاتی ناپسند و پسند نے نوجوانوں کو بے راہ روی اور انتقام کی طرف دھکیل دیا ۔

ابرار نے خودکشی کر کے اپنی بیوی بیٹی ما ں با پ کو اس ظالم سماج میں تنہا چھوڑ دیا اور ابدی نیند سو گیا کا ش ابرار ایک مرتبہ اس اقدام سے قبل سو چتا ! کیا اس نے نہ سو چا ہوھا گاکہ اس اقدام کے بعد اس کے پیاروں کا کیاہو گا شاید اس کے ہوتے ہوئے اس کی بیٹی بیوی ایک ٹائم کا کھانا کھاتے ہوں گے لیکن اس کے جانے کے بعد زمانہ ان کو کھا جائے گا کاش ابرار تم اس اقدام سے پہلے اپنی بیٹی سے قبل کسی کی بیٹی کے بارے میں سوچتے جو اپنا گھردر ماں باپ چھوڑ چھاڑکر تمھاری زند گی میں آئی ہے چاہے وقت اچھا گزرا یا برا لیکن تم نے خود کو خودکشی کے پھندے پر جھول کر کسی کی بیٹی کو سار ی زندگی کے لیے زندہ درگور کر دیا ہے ظالم سماج اس کو شاید طعنے دے دے کر مار دے کاش ابرار تم نے خود کشی سے قبل اپنی شہزادی جس کو تم ماتھے پر بوسہ دے کر اس فعل کی طرف گئے ذرا بھر کے لیے رک جاتے سوچتے آج کے بعد تمھاری بیٹی با پ کے ماتھے پر بوسے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہر جائے گی جب دے بڑی ہو گی تو یہ سنے گی کہ اس کا باپ زندگی سے ہار گیا اس کا باپ غربت اور قرض سے ڈر کر موت کو گلے لگا گیا توا س شہزادی پر کیا بیتے گی کاش ابرار تم یہ سوچتے !! میرے خیال میں ابرار تم نے سوچا ہوگا بہت سو چا ہوگا لیکن تم نے بہادری سے مقابلہ کرنے کی بجائے چپکے سے حرام موت کو گلے لگا لیا آخر کیوں !!!تم نے اپنی بیوی اور بالخصوص اپنی بیٹی کے لیے کھلونے لانے کا سو چا ہوگا سردیوں میں اس کے لیے گرم کپڑے لانے ہوں گے ۔ بیوی کے لیے چادر اور ماں کے لیے دوائی لانی ہوگی لیکن تمھاری جیب خالی ہو گی تم کونے میں جا کر روئے بھی ہوگے کسی سے قرض بھی مانگا ہوگا کہ ماں اور بیٹی کے لیے دوائی لانا ہے اور کسی نے تم کو دھتکارا بھی ہو گا یقینا لیکن ابرار تم اپنی جگہ صحیح لیکن تمھار ا فیصلہ غلط ہو گیا جب تمھار ی بیوی اور تمھاری بیٹی تم کو اپنے درمیان پاتے تھے ماں کی بیماری ختم بیوی کے شکوے ختم اور بیٹی کی سردی ختم ہو جایا کر تی تھی اب کیا ہوگا تم نے یہ سوچا ہو گا کہ روز روز تم ان کو اس طرح نہیں دیکھ سکتے لہذا ڈرپوک شخص کی طرح اب کو اس میدان کارزار میں درندوں کے حوالے کر کے تم نے کیوںموت کو گلے لگا لیا یقینا تم نے اپنے ساتھ تو غلط کیا ہے اپنی نسل کے ساتھ ظلم عظیم کر گئے ہو ہاں تم کہہ رہے ہو کہ تم جواں تھے بہت سے لوگوں کے پاس نوکر ی کے لیے گئے باہر جانے کے لیے پیسے ادھا ر لیے ہوں گے جو ایجنٹ کھا کلر رفو چکر ہو گیا ہو گاہاں تم نوکری کے لیے گئے ہو گے لیکن سفارش نہ ہونے کی وجہ سے تم تھک ہا ر گئے ہو گے تمھارے پاس کرائے کے پیسے بھی نہ ہوں گے تپتی دھوپ اور کڑکتی سردی میں تم ایوانوں ک چکر لگا لگا کر اتنے تھک گئے ہو گے کہ اپنے لیے حرام موت کے انتخاب پر بھی شرمندگی نہ ہوئی ہو گی !!!کاش ابرا ر تم یہ سوچتے کہ اتنے زخم اور دُکھ جھیلنے کے بعد تم کندھن بن جاتے اور اپنا فیصلہ اپنے مالک پر چھوڑ دیتے وہ تمھارے لیے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالتا لیکن تم نے بہت جلد ی کرکے اپنے اہل و عیال اور اپنی گڑیا سے بیٹی کو اس دنیا کی بے رحم موجوں کی نظر کردیا.

!!!ہاں تم یہ پوچھ رہے ہو کہ تمھاری خود کشی کی ذمہ داری کس پر عائد ہو تی ہے تمھار ا یہ سوال پوچھنا جائز ہے ہاں میں یہ برملا کہتا ہوں کہ میں تمھاری خود کشی کا ذمہ دار ہوں یہ نظام حکومت و نظام عد ل ذمہ دار ہے یہ وزیر مشیر ذمہ دارہیں یہ ٹھیکے داری سسٹم ذمہ دار ہے یہ سماج ذمہ دار ہے جس نے تمھیں اس قبیح فعل پر مجبور کیا ہاں ہم سب سے پوچھ ہوگی تم سے بھی بزدلی کی پوچھ ہو گی اور ہم سے تمھاری خود کشی کی کیوں کے ہم نے تمھیں روزگا ر کے مواقع فراہم نہیں کیے کیوں کے ہم نے تمھیں سفار ش لانے کو کہا کیوں ہم نے تمھاری آنکھوں میں بے بسی کو محسوس نہیں کیا کیوں ہم نے تم کو دھتکارا یقینامجھ سے پوچھ ہوگی اور میرے پاس تمھارے کسی سوال کا جواب نہیں ہے میرے پاس تمھاری کسی ننھی شہزادی کے کسی سوال کا جواب نہ ہو گا وہ پوچھے گی کے میرا باپ غریب تھا دل کاامیر تھا اُس کو کس چیز نے مجھ سے دور کیا میں اس کے سامنے بھی شرمندہ ہوں اور اُس سے معافی کا طلب گا ر بھی !!!ہاں ابرار میں یہ تسلیم کرتاہوں کہ کسی بنے بھی تمھارے درد اور بے بسی کو محسو س نہ کیا ہاں یہ بھی درست ہے کہ غربت و افلاس میں اپنے پرائے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں لیکن تم نے جس طرح اپنوں کا سا تھ چھوڑا وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے آج تم اپنے جانے کے بعد اپنے گھر کی حالت دیکھتے تو تم ضرور یہ کہتے ایسے لوگوں کو جو کبھی کبھی زندگی سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں ہاں تم ان کو یہ کہہ رہے ہو کہ کبھی ایسے فعل کے بار ے میں سوچنا بھی نہ ہاں تم یہ بھی کہہ رہے ہو کہ کچھ ہو یا نہ ہو اپنوں کا ساتھ ہونا چاہیے ماں کی مامتا ہونا چاہیے تم اپنوں کے لیے دوا ہو سکون ہواور کبھی بھی اپنوں کواس طرح دنیا کی بے رحم موجوں کی نظر نہیں کر ناہاں تمھارا یہ درس آنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے !!!

قارئین آئے روز کہیں نہ کہیں غربت بے روزگاری حکومتی نااہل پالیسیوں کی وجہ سے کہیں کوئی اپنی ذات کو مایوس ہو کر ختم کر دیتا ہے اورکہیں کوئی ماں اپنے تین بچوں کو جو چار چار دن کے بھوکے ہوں زہر دے کر ہمیشہ ک لیے اپنی اوران کی بھوک ختم کر دیتی ہے اور کہیں بے چاری ماں غربت و بھو ک کے ہاتھوں دریائے راوی میں بچوں سمیت کود جاتی ہے آخر کیوں ان سب چیزوں کا ذمہ دار کو ن ہے ہم ہیں اور کون ہے صرف چند لمحات کے لیے اپنے گھرانے پر نظر دوڑائیں اپنی چاند سی معصوم بیٹی اگر بھوک سے نڈھال ہو یا دوائی نہ ہونے کے باعث نقاہت کا شکار ہو تو تمھارے د ل پر کیا بیتے گی کیا وہ منظر تم تحریر کر سکتے ہو یا بیان کبھی نہیں لہذا اپنے بچوں کا صدقہ اتارا کرو چپکے چپکے ایسے خاندانو ں کی تلاش کر کے مدد کیاکرو تاکہ کوئی ماں کوئی باپ بھوک کے باعث خو دکشی نہ کرے اور نہ اپنے بچوں کو کروائے بس ایک قدم بڑھائو ۔قارئین حکومتی
عدم تو جیہی اور بے بسی کا ماتم چھوڑیں اس طرح بے بسی کی ایک خبر اور اُس کے ساتھ باپ بیٹی کی لاشوں کی تصاویر میرے سامنے ہیں کیالکھوں اور کیا نہ لکھوں بس اپنا گھرانہ بار بار آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے آخر میں یہ درد بھری حقیقی سطور آ پ کی نظر کرتا ہوں اور فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ ان باپ بیٹی کی موت کے ذمہ دار کہیں ہم تو نہیں ہیں جو جواب آئے اس پر کوئی نہ کوئی پہلا قدم ضرور اٹھائیں ملتان سے خبر کچھ اس طرح تھی کہ باپ نے قسم دی بیٹی نے زہر بھرا پیالا پی لیا قبریں پہلے سے تیارتھیں بچے باپ سے کھانا مانگتے رہے مگروالد کے پاس پیسے نہیں تھے والد آصف نے بھی زہر پی لیا اور اپنی اور اپنے بچوں کی کئی دنوں سے لگی بھوک کو ختم کر دیا بہت بھو ک لگی ہوئی تھی ابو نے کہاپانی پی لو آئندہ بھو ک نہیں لگے گی شاہ میر اور نور فاطمہکی گفتگو نے سب کو رُلا دیا !!!آہ ! صرف بھوک نے پاب بیٹی کی جان لے لی اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہ رینگی

اسلامی مملکت پاکستان کا وجود اس لیے تو نہیں ہوا تھا کہ یہاں کے رہنے والے بھو ک کی شدت سے زہر پی لیں یا پھندے سے جھول جائیں اس ملک میں جہاں امیروں کے کتے بڑے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں کا کھانا کھاتے ہوں اور بیڈ پر سوتے ہوں اس ملک میں گھوڑوں کو تو سیبوں کا مربہ کھلایا جا سکتا ہے لیکن کسی سفید پوش کی مدد کرنا اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں دراصل ہم صرف اپنا اور اپنے اہل وعیال کا سوچ سوچ کر دوسروں کے لیے بے حس ہو گئے ہیں ضرورت ا س امر کی ہے کہ ہر کوئی اگراپنی اپنی جگہ اپنے اپنے محلے و علاقے میں سماجی و فلاحی روابط کو استوار کرے کچھ دوست مل کر فلاحی مرکز کھول لیں صرف یہ شعور دلائیں کہ خدارا بھوک و غربت کے باعث خود اور اپنے اہل واعیال کو قتل نہ کرو ان کو خود کشیوں پر مجبور نہ کرو اگر اہم اپنی اپنی بساط کے مطابق ہر گلی محلے علاقے و ملک میں یہ شعور دلانے میں کامیاب ہو جائیں تو شاید روز قیامت ہم بھی بارگاہ خداوندی و بارگاہ مصطفی حضور ﷺ کے سامنے سرخرو ہو سکیں ۔ آج فیصلہ کریں کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی بچہ کو ئی خاندان بھوک سے نہ مرے کوئی بچہ/بچی فیس نہ ہونے کے باعث سرکاری سکول میں نہ جاسکے جہاں ہم اپنے بچوں کی کئی ہزارکی ماہانہ فیس اور ہزاروںمیں جیب خرچہ دیتے ہیں وہیںپر اگر ہم اور نہ سہی اپنے بچوں کا صدقہ سمجھ کر ان بے بس خاندانوں کی مد د کر سکیں تو یقین مانیں کہ وہ دن ورات آپ سکون کی انتہا پر ہوں گے اگر ایسا نہ کرسکے تو یقینا پھر کوئی بیٹی /بیٹا پھر نہ کہہ دے کہ بابا جی ! ماما جی بہت بھوک لگی ہوئی ہے اور پھرکوئی درد کا مارا باپ اپنے بچوں کو زہر کاپیالا دے کر ہمیشہ کے لیے نہ سُلا دے ۔

اگر حکومت یہ اعلان کردے کہ آ ج کے بعد کوئی بھوک و غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہیں کر ے گا بلکہ حکومت کی طرف سے قائم فلاحی مراکز (حکومتی و پرائیوٹ ) پربھیج دیں تو ملک پاکستان میں خوشحالی کی طرف بارش کا یہ پہلا قطر ہ ہو گا !!!”بابا جی بہت بھوک لگی ہوئی ہے “ان سات الفاظ نے بڑی دیر سے پریشان کر رکھا ہے کیا آپ بھی ان الفاظ کو محسوس کر رہے ہیں !!!دُعا ہے کہ مالک ہم سب کو سیدنا عمر فاروق ؓ جیسا حکمران عطا فرمائے (آمین)