آگ لگانے والے پرندے

شکاری پرندے جنگلات میں آگ لگانے لگے

میلبرن(سٹیٹ ویوز) ایک دلچسپ اور حیرت انگیز تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آسٹریلیا کے بعض شکاری پرندے بہت چالاکی سے خود جنگلات کو آگ لگاتے ہیں تاکہ اس سے چھوٹے ممالیے اور دیگر پرندے باہر نکلیں اور وہ انہیں شکار کرکے کھاسکیں۔تحقیقی جرنل ایتھنو بایولوجی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں کئی ایسے بڑے شکاری پرندے پائے جاتے ہیں جو خود جنگلات میں آگ لگاتے ہیں تاکہ چھوٹے جانوروں اور دیگر پرندوں کے نکلنے کے بعد وہ انہیں کھا سکیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آسٹریلیا کے قدیم مقامی ابورجینی قبائل اس بات سے واقف ہیں اور وہ ان پرندوں کو ’آگ کے عقاب‘ کہتے ہیں۔آسٹریلیا کے بعض جنگلات میں بجلی کڑکنے یا انسانی سرگرمی سے خشک گھاس پھوس آگ پکڑ لیتی ہے تاہم ماہرین نے بتایا ہے کہ ایک قسم کی سیاہ چیل (مِل وس مائگرینس) ، بھورا شکرہ (فالکو بیریگورا) اور ایک اور قسم کا شکاری پرندہ (ہیلیاسٹر سفینرس) اپنی چونچ میں جلتی ہوئی لکڑی یا انگارہ اٹھا کر اسے خشک گھاس پر پھینکتے ہیں۔یہ تینوں پرندے مل کر آسٹریلیا کے 73 لاکھ مربع میل سوانا جنگلات میں آسانی سے آگ بھڑکا سکتے ہیں جنہیں نیشنل جیوگرافک نے پنجوں میں آگ لے جانے والے پرندے کہا ہے۔جنگل کے ایک حصے پر آگ لگانے کے بعد وہاں سے اپنے مسکن میں رہنے والے کیڑے مکوڑے ، چھوٹے ممالیہ اور دیگر پرندے باہر نکل آتے ہیں

جن پر یہ پرندے جھپٹ کر انہیں کھانے لگتے ہیں اور اس طرح اپنے پیٹ بھرنے کے لیے ہولناک آگ لگاتے ہیں۔آسٹریلیا میں پرندوں کے ماہر اور اس رپورٹ کے مصنف باب گوسفرڈ نے کہا ہے، ’ آتشزدگی کے بعد یہ پرندے چھپکلیوں اور دیگر جان داروں کو نوالہ بناتے ہیں۔ انہوں نے سال 1964ء میں شائع ہونے والی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا پرندہ اپنے پنجے میں دہکتی ہوئی لکڑی کا ٹکڑا اٹھالایا

اور اسے تازہ گھاس کے ایک ٹکڑے پر گرادیا اس کے بعد پرندہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانوروں کی بھگدڑ دیکھنے کے لیے موجود رہا ۔ خوفزدہ چوہوں اور سانپوں کو اس پرندے اور اس کے ساتھیوں نے چن چن کر کھانا شروع کردیا۔بعد ازاں پرندوں نے کئی جگہ یہی واردات کی اور کئی مقامات پر آگ لگائی۔