من کی باتیں/محمد خالد قریشی

واہ کینٹ No-Go-Area ؟

واہ کینٹ پاکستان کے قیام کے چند سال بعد بن گیا،جہاں پاکستان کی اسلحہ ساز فیکٹری بنی اور قائم ہے۔اکثر یت آباد کار سیالکوٹ سے آئے جہاں پہلے سے چھوٹے پیمانے پر فیکٹری تھی،تقریباََ 55 سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔واہ کینٹ کا شمار پاکستان کے خوبصورت شہروں میں ہوتا ہے جہاں ایک منعظم ڈسپلن کے تحت کنٹرول اینڈ کمانڈ ہے۔کراچی،لاہور اور اسلام آباد کے بعد واہ کینٹ جو آیا خواہ ملازمت کے لئے یاپھر کاروبار کے لئے وہ واہ کینٹ سے واپس نہیں گیا۔اس کی تیسر ی یا پھر چوتھی نسل واہ کینٹ اور گردونواح کی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں آباد ہو گئے۔واہ کینٹ کا تعلیمی ماحول بہت اچھا ہے ،واہ کینٹ کے اندر لیٹریسی لیول 100% ہے اور واہ کینٹ میں اکثریت ملازم پیشہ افراد کی ہے جو کہ اپنی اولاد کی بقاء صرف حصول تعلیم سمجھتے ہیں۔

واہ کینٹ چونکہ کینٹ ایریا ہے اسی لئے اکثریت بچے فوج میں گئے یا پھر ڈاکٹر ،انجینئراور آئی ٹی کے شعبوں میں گئے۔پاکستان کے حالات کے اچھے ،برے اثرات یقینا واہ کینٹ پر مرتب ہوئے،پالیسی ساز منصوبے بناتے ہیں مگر اس کے اچھے اور برے اثرات سے نا آشنا ہوتے ہیں،کیونکہ غیب کا علم صرف ’’اللہ سبحان تعالیٰ‘‘ کو ہے اس لئے قرآن حکیم میں واضع ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’تم جس میں اپنی بہتری ،فلاح سمجھتے ہو اس میں شائد نہ ہو اور جس میں تم اپنی بہتری ،فلاح نہیں سمجھتے اس میں تمہارے لئے بہتری اور فلاح ہو‘‘کیوں کہ ہم با حیثیت قوم اس زریں اصول پر کار فرما ہیں کہ ’’نقد شوق سے اُدھار اگلے چوک سے‘‘ ۔آج پاکستان کے حکمران ،سیاستدان،فوجی اور سیاسی لوگ اسی پر غور کریں کہ امریکہ کی جنگ لڑلڑ کر پھر بھی بُرے ہو گئے،آج اگر پاکستان کے حکمران امریکہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو افغانستان میں ایک اور ’’بھارت ‘‘ کو تسلیم کریں،ورنہ ’’امریکہ بہادر‘‘ کی دھمکیاں اور پابندیاں قبول کریں۔

لعنت اس امریکہ بہادر پر کہ تین دہایوں سے پاکستانی قوم حالت جنگ میں ہے ،کیوں؟۔پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے عدم استحکام کا شکار ہے،امن و امان خراب ہے۔اس کے واضع اثرات ’’واہ کینٹ‘‘ پر بھی ہیں،انتہائی حساس علاقہ ہے مگر آرمی چیف اور چیئر مین واہ کینٹ محترم جنرل صاحب سے گذارش ہے کہ واہ کینٹ کے انٹری بیریئرز پر توہین آمیز سلوک کا نوٹس ضرور لیں۔عوام ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں،گھنٹوں کے حساب سے واہ کینٹ کے رہائشی تنگ ہیںمگر عوامی نمائندے یا تو بے بس ہیں یا پھر ترجیح عوامی مسائل نہیں قومی مسائل ہیں،اس لئے ان سیاستدانوں کی وجہ سے قوم پریشان ہے۔1979 ؁ء میں جب جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان اور آرمی چیف نے 30 لاکھ سے زائد افغانیوں کے لئے پاکستان کے دروازے کھول دئے تو مقصد یقینا اعلیٰ ہو گا۔

ایثار اور قربانی کے علاوہ امریکی حمایت کی ضرورت تھی مگر آج پاکستان کا کونہ کونہ غیر محفوظ ہو گیا ،سیکورٹی بہت اہم ہے۔میری پیدائش واہ کینٹ میں ہوئی،تعلیم ابتدائی طور پر واہ پبلک اسکول سے حاصل کی مسسز جان اور مسسز اسلام پرنسپل اور وائس پرنسپل تھیں ،آج بھی تیسری اور چوتھی نسل واہ کینٹ میں قیام پذیر ہیں۔حقیقی بہن ڈاکٹر ہیں ،کزن اوررشتے دار واہ کینٹ میں ہیں،کاروبار کرتے ہیں،حقیقی ’’Home Town ‘‘ واہ کینٹ ہے اور میری طرح ہزاروں لوگ ہوں گے جن کی کہانی ایسی ہے ،جب واہ کینٹ کی جانب جاتے ہیں تو بچپن اور لڑکپن کے سہانے خواب سامنے آ جاتے ہیں ۔واہ کینٹ کی گلیاں ،کوچے،محلے،بازار،اسکول اور میدان سب کچھ یاد آتا ہے،زندگی کی فلم چلتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے ایک ایک گلی محلے سے گذر جائوں گا ،مگر سب خواب ،خیال اور یادیں ختم ہو جاتے ہیں۔جب واہ کینٹ کے انٹری بیریئر پر انتہائی غیر انسانی تکلیف دے سلوک ہوتا ہے،لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں،یقینا اچھی کوشش ہے،واہ کینٹ سے جو تعلق اور وابستگی ہماری اور ہمارے جیسے ہزاروں لوگوں کی ہیں وہ دو چار سال سرکاری نوکری کرنے والوں کی نہیں ہے۔واہ کینٹ میں اگر صرف ریوینو بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنی تفتیش اور تحقیقات کر کے سالانہ کی بنیاد پر انٹری پاس جاری کریں،ٹوکن وصول کریں۔مگر عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں ۔

واہ فیکٹری بہت اہم ہے ،اس کی سیکورٹی ضروری ہے۔ٹیکسلا انٹری بیریئر سے حسن ابدال تک واہ آرڈینینس فیکٹری کے لئے سروس روڈ دیں جہاں کسی کو آنے نہ دیں۔مین مال روڈ پر عام لوگوں کو ضرور آنے دیں جن کا آبائی ،ذاتی تعلق واہ کینٹ سے ہے اور جن کے پاس انٹری پاس ہے جو مارکیٹوں میں کاروبار کرتے ہیں ان کا کاروبار تباہ کر دیا۔خدا کے لئے واہ کینٹ میں صرف فیکٹری ملازمین ہی نہیں رہتے ان کے اہل و عیال اور دیگر کاروباری لوگ پر رہتے ہیں۔واہ کینٹ انتظامیہ نے آج دن تک عوام کی فلاح کے لئے کوئی رہائشی منصوبہ نہیں دیا۔قبرستان کا معقول انتظام نہیں ہے،کاروباری مارکیٹوں کو جدید تقاضوں سے آشنا نہیں کیا۔آج پچاس پچاس سال کاروبار کرنے والوں کو روز نئی پابندیاں اور قوانین نہ بنائیں۔اہلیان واہ کینٹ کی فلاح کے لئے ان کی مشاورات سے شہریوں کو آسانیاں پیدا کریں،MNA ،MPA اور دیگر سیاسی لوگ تو انٹی پیریئر سے گذر جاتے ہیں،عام عوام خوار ہوتی ہے۔بیریئر نمبر 3 سے آنے والا اسی بیریئر سے واپس جائے گا۔واہ کینٹ انتظامیہ کو شائد معلوم نہیں کہ موٹروے سے ایک بڑی تعداد آتی ہے کم ازکم موٹروے جنگ باہترروڈ سے واہ کینٹ کو انٹری گیٹ بنائیں۔موٹروے سے اُتر کر واہ گارڈن کے یو ٹرن سے واپس بیریئر نمبر 3 پر آئیں تو ایک لمبی لائن ٹیکسلا ،نواب آباد سے داخل نہیں ہو سکتے ،کم از کم انٹری بیر یئر پر چار پانچ کا ئونٹر بنا دیں۔انٹری کے لئے ٹیکس لے لیں،لیکن عوام کو سہولت دیں،جناب چیئر مین P.O.F واہ کینٹ سے ہمدردانہ گذارش ہے کہ ہزاروں لوگوں کی روزانہ آمدورفت ہے،واہ کینٹ کے انٹری بیریئر پر انسانی سلوک عوام سے کریں۔عوام کو تکلیف دے کر ہمدردی حاصل نہیں ہوتی عوام کو آسانیاں اوررعایت دیں،سیکورٹی اہم ایشو ہے مگر آمدورفت بھی ضروری ہے۔تعلیم ،صحت،روزگار کے لئے روزانہ آنا جانا پڑتا ہے۔امید ہے کہ واہ کینٹ انتظامیہ اس پر ہمدردانہ غور کریں گے ۔

شناختی کارڈ،ڈرائیونگ لائسنس کی جگہ Bio-Matric سسٹم رکھیں ،صرف ایک Thumb لگانے سے سارا ڈیٹا آجائے گا۔اُمید ہے کہ عوام کی سہولت کے اقدام کریں گے ۔ہمدردانہ گذارش ہے کہ موٹروے پر درجنوں ٹول انٹری گیٹ ہیں،روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں آتی اور جاتی ہیں۔خود کار نظام سے وابسطہ ایک طریقہ کا ر واضع ہو گیا،بلا امتیاز آمدورفت جاری ہے۔واہ آرڈینینس فیکٹری کا انتظام Pak-Army کے سپرد ہے،اس لئے عوام کی اچھائی اور برائی کے اثرات مرتب ہوں گے۔عوام کو سہولت ملے گی تو فوج کے بارے میں اچھے جذبات مرتب ہوں گے۔ایک تو انٹری بیرئیر پر کم از کم چار عدد کا ئونٹر بنے ہوں،جہاں سے بھی جو داخل ہو اور جہاں سے واپس جانا چاہئے،جا سکے۔شناختی کارڈ کوئی اتھارٹی نہیں،صرف NADRA سے Bio-Matric سسٹم لگائیں،Thumb Impression لگائیں،پرنٹ حاصل کریں،انٹری پاس جاری کریں جو کہ عارضی ہو، اس کی فیس رکھیں۔ایک گیٹ سے E-Tag والے آئیںاور ایک سے عارضی پرمٹ والے آئیں۔آج کل اور مستقبل میں موٹروے سے آمدورفت ہو گی۔جنگ باہتر سے G-T روڈ واہ کینٹ سے داخلے کا جدید اور بڑا گیٹ بنائیں،جہاں سے لوگوں کی آمدورفت ہو۔جتنے لوگ واہ کینٹ آئیں گے کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،کوئی بھی شخص مین گیٹ سے Bio-Matric کروا ئے بغیر داخل نہیں ہو گا۔میں حکام بالا سے اُمید کرتا ہوں کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔