شب و روز / جاوید ملک

زینب کے نام

قصور کی ننھی پری نیلی آنکھوں والی معصوم زینب اس نظام کی غلاظت کا وہ نوحہ ہے کہ جو پتھرسے پتھر دل کو بھی چیر دیتا ہے ۔ دوروز تک قصور کی سڑکوں پر نکلے یہ ہزاروں لوگ کہ جن کا غم و غصہ دیوانگی کی حدوں کو چھو رہا تھا اپنے حکمرانوں کو برا بھلا کہتے اس نظام کی فرسودگی پر بین کرتے کرتے ان کی آنکھیں خشک اور گلے بیٹھ چکے تھے۔ وہ ہسپتال تھانے ہر سرکاری عمارت پر آویزاں سائن بورڈ وں پر ڈنڈے برسارہے تھے دروازوں کو لاتیں ماررہے تھے توڑ پھوڑ کررہے تھے پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو لیگی ارکان اسمبلی کی رہائش گاہیں ، ڈیرے حکمران جماعت کے دفاتر ہجوم کا نشانہ بنانے لگے حکومت کو عوامی غم و غصہ کو قابو کرتے کرتے دو دن لگ گئے لیکن قصورآج بھی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اس کی فضاؤں میں ننھی زینب کی سسکیاں گونجتی محسوس ہوتی ہیں کیا بات صرف اتنی سی ہے کہ ایک نامعلوم انسان نما درندے نے 7سالہ معصوم زینب کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور پھر اس کا گلہ گھونٹ کر اس ننھی کلی کو مسل دیا ۔

کیا بات صرف اتنی سی ہے کہ پولیس اس درندے کو ابھی تک گرفتار نہیں کرپائی ۔۔۔کیا بات صرف اتنی سی ہے کہ لوگوں نے اس معصوم کے درد کو محسوس کیا ۔۔۔ اس معصوم کے چہرے میں اپنے بچوں کا عکس دیکھا اور پھر تڑپ اُٹھے ، اس تڑپ نے نظام کی بیڑیاں توڑ دیں اُنہیں مصلحتوں اور خوف سے آزاد کردیا اور پھر فضائیں ان کی دل دہلا دینے والی چیخوں سے گونج اُٹھیں وہ گھروں سے نکلے تو برسوں کی بے بسی کا لاوہ پھٹ گیا اور پھر قصور نے آگ و خون کا لبادہ اوڑھ لیا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے غلاموں کا یہ چہرہ نیا تھا ایک معمولی پولیس اہلکار کے سامنے منمانے والوں کے لہجوں کی گھن گرج نے سب کو دہلادیا پھر فضاء گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے گونجی لیکن بارود کو چھاتی سے لگانے والے آج اتنے تھے کہ شاید حکمرانوں کی گولیاں کم پڑجاتیں۔ لوگ جابحق ہوئے زخمی ہوئے مگر غم و غصے کا طوفان سب کو بہا لے گیا ۔

لیکن سوال پھر وہی ہے کیا یہ بات صرف اتنی سی ہی ہے ؟ایک لمحہ کو غور کیجئے ، میں ہر روز وفاقی دار الحکومت کے نیشنل پریس کلب کے باہر سینکڑوں مظاہرین کو دیکھتا ہوں ،ظلم کا شکار کئی خاندان مہینوں گرمی سردی سے بے نیاز کھلے میدان میں پڑے رہے مگر انصاف میسر آنا تو دور کی بات کسی نے ان کی سنی تک نہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اخبار میں سنگل کالم خبر کسی کے خلاف چھپ جاتی تو کہرام مچ جاتا تھا مذکورہ شخص کو ہر سطح پر جواب دینا پڑتا تھا مگر اب چوبیس گھنٹے ٹی وی چینلز پر نیوز کاسٹرز گلہ پھاڑتے ہیں اخبارات لوٹ مار ، نا انصافی اور ظلم و ستم کی داستانوں سے اٹے ہوتے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ارباب اختیار طاقت کے نشے میں اس قدر اندھے اور بہرے ہوچکے ہیں کہ جب تک لوگ سڑکوں پر آکر تشدد کا راستہ نہ اپنائیں حکمرانوں کو کچھ سنائی ہی نہیں دیتا ۔ یہ ساری صورت حال ہمیں کس طرف لے کر جارہی ہے تصور کرکے ہی جھرجھری سی آجاتی ہے ۔

قصور کے وحشیانہ اور بہیمانہ واقعہ کے نتیجہ میں ننھی زینب کے والدین پر جو قیامت گزری اس کا درد پوری قوم نے محسوس کیا بلکہ درحقیقت ہر شخص کو اس درد میں اپنی گھٹی گھٹی چیخیں بھی سنائی دیں صبر کا دامن چھوڑ کر قانون ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کے چہرے پر ایک ہی سوال نقش تھا کہ یہ قانون از خود حرکت میں کیوں نہیں آتا کس نے اس کو اس قدر زنگ آلود کردیا ہے کہ خون چھینٹوں کے بغیر یہ دو قدم بھی چل نہیں پاتا قصور میں قلیل مدت کے دوران ایک مخصوص علاقہ میں پیش آنے والا یہ بارہواں واقعہ ہے اگر پہلے ہی واقعہ کے بعد پولیس اتنی ہی چابکدستی کا مظاہرہ کرتی تو گیارہ معصوم بچیاں بربریت کا نشانہ بننے سے بچ جاتیں کاش کہ یہ حکمران پولیس کی وردی کا رنگ بدلنے کا بجائے ان کے اطوار بدلتے ملک میں سڑکوں کے جال بچھانے کے بجائے قانون کی عملداری کو یقینی بناتے انصاف کو عوام کی دہلیز تک پہنچادیتے تو آج انہیں جمہوریت کیلئے ٹسوے بہانے اور مجھے کیوں نکالا کے درد بھرے ترانے گانے کی ضرورت نہ ہوتی پھر لوگ ان کا مقدمہ خود لڑتے مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی رہی ہے پولیس سمیت تمام اداروں کو شہباز شریف اپنی انگلی کے ساتھ نچاتے رہے ہیں اہل افسران کو کھڈے لین لگا کر جی حضوروں کے ہاتھ اختیارات تھمادیے گئے گزشتہ گیارہ سالوں میں پنجاب میں پولیس مقابلوں کے اندر ہلاک ہونے والوں کے حوالہ سے اگر غیرجانبدرانہ اعلی سطحی کمیشن تشکیل دے دیا جائے تو حکمرانوں کے کئی بھیانک کھیل اپنی تمام تر سفاکیت کے ساتھ ہمارے سامنے آجائیں گے ۔ کہیں پولیس مقابلوں کی آڑ میں ذاتی انتقام کی آگ سرد کی گی گئی اور کہیں کارکردگی دکھانے کیلئے کسی لاوارث کو نشانہ بنادیا گیا ایسی گڈ گورننس کا پول مسلسل کھلتا چلا جارہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ نظام کی فرسودگی کو دور کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں اور پولیس کا قبلہ درست کرکے ذاتی پسند و ناپسند کو پس پشت ڈال کر اہل ترین افسران کی تقرری یقینی بنائی جائے اگر سوارب روپے کے لگ بھگ بجٹ کے باوجود پولیس عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہے اور تھانہ کلچر میں رتی برابر بھی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آرہی تو حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لے کر اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے ہوئے از سر نو نظام کی اصلاح کرنا ہوگی نا انصافی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو اس کے بطن سے غم و غصے کا اژدھام جنم لیتا ہے جو پھر طاقت کا وحشیانہ کھیل رچانے والوں کو سب سے پہلے نگل لیتا ہے ممبران اسمبلی کے گھروں پر عوام کے دھاوے تمام پارٹی سربراہان کیلئے نوشتہ دیوار ہیں اگر اب بھی وہ نہ سنبھلے تو پھر وہ تاریخ کے اوراق میں صرف گالی بن کر زندہ رہیں گے ۔
ننھی زینب نے پوری قوم کو جھنجوڑا ہے ممتاز قانون دان شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ جو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سیاسی جماعت کے روح رواں بھی ہیں کی ایک نظم پر اپنے کالم کا اختتام کررہا ہوں شیخ احسن الدین نے اس نظم میں ہم سب کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے 
زینب کے نام 
زینب تو میری بیٹی ہے
زینب تو سب کی ہے
یہ سنگ دلوں کی بستی ہے
یہ شہر ہے مردہ پرستوں کا
یہاں قدم قدم پر مقتل ہیں 
یہاں حوا کی بیٹی لٹتی ہے
کبھی کاری ہو کر مرتی ہے
کبھی ونی کے نام پر بکتی ہے 
غیرت کا الاؤ روشن ہے
اور بیٹیاں اس کا ایندھن ہیں 
ہم مجرم ہیں ، ہم قاتل ہیں 
ہم بے بس ہیں ، ہم بے حس ہیں 
مردوں کے شہر میں زندہ ہیں
زینب تجھ سے شرمندہ ہیں
ہر زینب سے شرمندہ ہیں