ڈاکٹر طاہرالقادری نے ساری زندگی احتجاج نہ کرنے کا اعلان کردیا

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز ) سربراہ عوامی تحریک طاہر القادری نے کہا ہے کہ اس بار مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو زندگی بھر احتجاج نہیں کروں گا۔ تفصیلات کے مطابق نجی نیوزچینل کےایک پروگرام ٹونائٹ ود معید پیرزادہ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہمارے کسی سے مذاکرات ہی نہیں ہوں گے تو اس میں ضامن کی ضرورت کہاں سے آگئی۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ اس بار میچ فیصلہ کن ہوگا ٹائی نہیں ہوگا۔ اگر ہمیں اس بار بھی کوئی کامیابی نہ مل سکی تو میں معاملے اور انصاف کو اللہ پر چھوڑدوں گا اور اس کے بعد کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلاؤں گا ۔

یاد رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اے پی سی ایکشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں متفقہ فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا شہدائے ماڈل ٹائون کے انصاف، معصوم زینب اور قصور پولیس کی بربریت کا شکار شہریوں کے انصاف کیلئے 17 جنوری سے مال روڈ لاہور سے طاقتور عوامی احتجاج کا آغاز ہوگا۔

قوی امید ہے احتجاج میں اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں کی مرکزی قیادت شریک ہو گی۔ تمام آپشن کھلے ہیں کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ احتجاج کا آخری رائونڈ فیصلہ کن ہو گا ۔17 جنوری کے بعد کے لائحہ عمل کیلئے 16جنوری کو12بجے دن ایکشن کمیٹی کا اجلاس عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ہو گا۔

اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، جہانگیر ترین، قمر الزمان کائرہ، سینیٹر کامل علی آغا، ڈاکٹر حسن محی الدین ،ڈاکٹر حسین محی الدین ،میاں منظور وٹو،خرم نواز گنڈا پور،عبد العلیم خان،ناصر شیرازی،شعیب صدیقی،چوہدری فیاض وڑائچ و دیگر رہنما شریک تھے۔

طاہر القادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا جب تک نا انصافی کرنیوالے اقتدار میں ہیں انصاف نہیں مل سکتا ،قومی قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے سلطنت اشرافیہ کے اقتدار کے مکمل خاتمے کے بغیر نا انصافی کا خاتمہ نہیں ہو گا۔

ہمارا احتجاج آئین اور جمہوری اقدار کے دائرے میں ہو گا۔ آئین کے سوا ہم پر کوئی پابندی نہیں،حصول انصاف کیلئے آخری حد تک جا سکتے ہیں۔ دریں اثناء ایکشن کمیٹی کے ممبران سہ پہر 4 بجے مرکزی سیکرٹریٹ میں پہنچے اور 17جنوری کے احتجاج کی توثیق کی گئی۔

ایکشن کمیٹی نے حکومت کو خبردار کیا ہمارا احتجاج پرامن ہو گا پولیس گردی اور غنڈہ گردی کے نتائج بھیانک ہوں گے ۔اجلاس میں معصوم بچی زینب کے قتل کے اذیت ناک واقعہ پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے قصور پولیس اور ایڈمنسٹریشن کی مجرمانہ غفلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسکا ذمہ دار براہ راست وزیر اعلیٰ پنجاب اور رانا ثناء اللہ کو ٹھہرایا گیا۔

اجلاس میں قصور میں پولیس فائرنگ سے شہید ہونیوالے شہریوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ قبل ازیں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مختلف سکولوں کےبچوں اور بچیوں کی طرف سے ’’ جسٹس فار زینب‘‘ احتجاجی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ سنگین جرائم جڑ سے ختم کرنے ہیں۔

تو پھر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ کو او ایس ڈی بنانا اور عدالتوں میں طلب کرنا ہو گا، فائرنگ کا حکم ایس پی، ڈی ایس پی کی سطح کا افسر دیتا ہے، شہباز شریف صرف نعشوں کی قیمت لگاتے ہیں۔ تیس، تیس لاکھ لے کر قصور پہنچ گئے، حکمرانوں میں اتنی جرات نہیں کہ دن کی روشنی میں قصور جاتے۔

جب حکمران پبلک کو فیس نہ کرسکیں تو پھر انہیں سٹیپ ڈائون کر جانا چاہیے، میں چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قصور کے سانحہ کی ایف آئی آر منگوائیں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہو گا، 4دن کے بعد معاملہ کمزور ایف آئی آر کی وجہ سے ختم ہو جائے گا، یہی انکا طریقہ واردات ہے۔

بچوں اور بچیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ میں شیخ رشید احمد، قمر الزمان کائرہ، میاں منظور احمد وٹو، سینیٹر کامل علی آغا، ناصر شیرازی، خرم نواز گنڈا پور، ڈاکٹر حسن محی الدین، ڈاکٹر حسین محی الدین، چوہدری فیاض احمد وڑائچ و دیگر رہنما شریک تھے ۔بچوں اور بچیوں نے انٹرنیشنل مارکیٹ سے منہاج القرآن سیکرٹریٹ تک احتجاجی مارچ کیا اور ’’

شہباز حکومت ختم کرو‘‘ ، ’’ گو شہباز گو‘‘ اور ’’جسٹس فار زینب‘‘ کے نعرے لگائے۔ احتجاجی مارچ کے اختتام پر شیخ رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس نہج پر آگیا کہ اب جاتی امراء کی طرف مارچ کرنا ہو گا اور انہیں اٹھا کر لانا ہو گا۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے قاتلوں کا ٹرائل ہوا ہوتا تو سانحہ قصور پیش نہ آتا۔

قمر الزمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مارشل لائوں میں ہم احتجاج کرتے ،لاٹھیاں کھاتے اور لاٹھیاں مارتے بھی تھے مگر گولیاں نہیں چلائی جاتی تھیں، سیدھی گولیاں چلانے والی درندگی کا آغاز شریف دور حکومت میں ہوا۔ ہم ماڈل ٹائون کے شہدا کو بھی انصاف دلائیں گے۔

زینب کو بھی اور پولیس بربریت کا شکار ہونیوالے قصور کے شہریوں کو بھی اس درندگی کے ساتھ حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد جانے سے روکنے کیلئے ماڈل ٹائون میں لاشیں گرائی گئیں اور 17جنوری کے پر امن احتجاج کو روکنے کیلئے قصور میں لاشیں گرائی گئیں۔

یہ لاشیں گرا کر خوف و ہراس پھیلاتے ہیں کہ کوئی انکے سیاسی، معاشی جرائم پر آواز نہ اٹھا سکے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا جو معاشرے ہمارے اللہ اور رسولؐ کو نہیں مانتے ،ان معاشروں میں بھی ریاستی ادارے احتجاج پر سیدھی گولیاں نہیں برساتے۔