GB Hafeez

وزیراعلی گلگت بلتستان نےبیوروکریسی کےراج کوخارج ازامکان قراردیدیا

گلگت (رستم علی/سٹیٹ ویوز) وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ گلگت بلتستان میں بیوروکریسی کا راج نہیں ہے تمام فیصلے عوام کی منتخب حکومت کرتی ہے اچھے فیصلوں کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے اور برے فیصلوں کی بھی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے.

انہوں نے ہفتہ کے روز پریس کلب گلگت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک جیسے بڑے منصوبے سے فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ کڑوے فیصلے کریں، میٹھے فیصلوں سے علاقے ترقی نہیں کرتے ہیں ہمیں علاقے کی ترقی کیلئے بولڈ فیصلے کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ یہ کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں نے ایکٹ بنا ئے بغیر ٹیسٹ انٹرویو پر پابندی لگائی ہے آج وہی لوگ دھرنوں میں جا کے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں.

انہوں نے گلگت بلتستان میں ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات سے قبل جب میں اسمبلی کا ممبر بھی نہیں تھا سابق وزیر اعظم نوازشریف کی سربراہی میں گلگت بلتستان کونسل کا اجلاس سرینا ہوٹل میں ہوا اجلاس کا ایجنڈا بجٹ منظور کرنا تھا اجلاس کے ختم ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے مجھے بھی اندر بلایا اس وقت پیپلز پارٹی کے موجودہ صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کونسل کے ممبر تھے انہوں نے میرے اندربیٹھنے پراحتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا پھر نواز شریف نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کچھ کہنا ہے تو میں نے نواز شریف سے کہا کہ 2012میں انکم ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ کے بعد جو ٹیکسز لگے ہیں اس ایکٹ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ اس ایکٹ کو بناتے وقت عوام سے کوئی مشورہ نہیں کیاگیا ہے اور نہ اعتماد میں لیاگیا ہے اس ایکٹ میں گلگت بلتستان کے عوام کو کوئی پیکیج بھی نہیں دیاگیا ہے اور نہ ہی ٹیکس ریٹرن کا فارمولا طے کیاگیا ہے میں نے اس مسئلے پر کمیٹی بنانے کی درخواست کی انتخابات کے بعد ہم اسلام آباد گئے اور کمیٹی تشکیل دی گئی انہوںنے کہا کہ ٹیکس کے ایشو پر دھرنے کے دوران ہم نے خاموشی سے کام کیا اور حکومتی اور پارٹی ذمہ داران کوبیان دینے سے بھی روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ پریس کلب سے متصل بلڈنگ کو بھی پریس کلب کے حوالے کیا ہے میں چیف انجینئر کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس کا ماسٹر پلان بنائے اوراس کی تعمیر میں پارکنگ کیلئے جگہ ہو اور ہمارے ثقافت کی جھلک بھی نظر آجائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت پریس کلب کی نئی بلڈنگ کو رہائش کے اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی پریس کلب کہا جاسکتا ہے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے مگر ساتھ ہی میڈیا سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے خبروں اور تجزیوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرینگے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں صحافت کے فروغ کے لئے محکمہ اطلاعات کو شاں ہیں اور حکومت صحافت کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے سیکرٹری اطلاعات فدا حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اخبارات کو اشتہارات سرکولیشن کی بنیاد پر جاری کئے جاتے ہیں تاہم کچھ دوست عین وقت پر ہم سے تعاون نہیں کرتے ہیں جو ادارہ حکومت کے اقدامات کی تشہیر کرتے ہیں ان کیلئے ہمارے ہاتھ بھی کھلے ہونگے اگر جو اخبارات ایسے اقدامات نہیں کرینگے تو ان کے لئے ہمارے ہاتھ بھی تنگ ہونگے اور ہم ریاست کی رٹ قائم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں میڈیا پالیسی کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی سفارشات مشیر اطلاعات تک پہنچائی گئی ہے جس پر جلد عملدرآمد ہوگا.