Punjab Assembly

آل پنجاب وائس چیئرمین اتحاد کا پنجاب اسمبلی کے گھیرائوکا اعلان

شیخوپورہ(محسن شاد،سٹیٹ ویوز)آل پنجاب وائس چیئرمین اتحاد کے زیر اہتمام ضلع بھرکی 99 یونین کونسلوں کے وائس چیئر مینوں کا فنڈز اور اختیارات نا ملنے پر ایک بار پھر ہنگامی اجلاس کا انعقاد ۔مورخہ 15 جنوری 2018 کو پنجاب بھر کی یونین کونسلوں کے وائس چیئرمین اور ہزاروں کونسلرز پنجاب اسمبلی کاگھیراؤ کریں گے اور اختیارات نا ملنے پر حکومت کے خلاف غیر معینہ مدت تک دھرنہ دیا جائے گا ..

پنجاب بھر کے تمام اضلاع کی 4300 کے قریب یونین کونسلوں کے وائس چیئرمین اور کونسلرز اس دھرنے میں شرکت کریں گے اس سلسلہ میں شیخوپورہ میں چوہدری غلام فرید ورک کے ڈیرہ پر پورے ضلع کے وائس چیئرمینوں کا اجلاس زیر صدارت میاں خلیل احمد آرائیں وائس چیئر مین یونین کونسل بھکھی منعقد ہوا اجلاس میں ضلع شیخوپورہ کی تمام یونین کونسلوں سے تعلق رکھنے والے وائس چیئرمینوں جن میں نوید احمد بھٹی،محسن اکرم،محمد نصراللہ، سلیم اختر ، محمد سرفراز ، خالد پرویز، مجاہد علی ، محمد یوسف خان، خادم حسین، نذیر احمد کمبوہ، غلام نبی، خلیل احمد ورک، حاجی شبیر احمد ، عرفان احمد، اعجاز حیدر، وقاص الحسن ، رانا ملازم علی، رانا عامر مشتاق ، سید عقیل عباس، محمد اشرف، محمد سرور، محمد آصف کھوکھر، محمد عباس مغل ،چوہدری محمد اسحاق، عبدالرشید، حاجی محمد، رانا عبدالشکور، مرزا راشد بیگ، رانا وقار احمد، ملک ذوالفقاراحمد، غلام حسین دودھی، ایمان جاوید، رحمت علی بھٹی، توکل اللہ ڈوگر، حاجی مقصود احمد ڈوگر، عمر حیات ورک، عاصم علی، سید عبدالاحد، چوہدری ملک صابر حسین ،میاں عاشق حسین، عرفان علی، چوہدری معظم علی، ارشادعلی منڈا، عنصر علی، میجر حسن سردار، ملک فیصل کھوکھر، ثناء اللہ ورک، حاجی عبدالرحمن، عثمان علی، حاجی سلیم ڈوگر، رانا طارق محمود، سعید شاہ، ندیم اقبال بھٹی، محمد جاوید، محمد اختر ، ابوبکرسرور، غلام فرید، محمد خلیل ورک، عابد علی، میاں ریاض احمد ۔ میاں خلیل احمد ۔ لیاقت علی ملہی، محمد سلیم گجر، عمران نذر وٹو، عباس علی وٹو، جہانگیر علی گجر، رانا نادر محمود، رانا راشد جاوید، محمد مشتاق ڈوگر، عارف حسین، وقار شریف، محمد وارث، ڈاکٹر عابد حسین، ندیم عباس بھٹی، ممتاز حسین بھٹی، عاشق حسین، عطاء اللہ، مقصود علی ڈوگر، عمادالدین، سلطان قیصر شہریار ڈوگر، یاور سعید، فلک شیر گجر، رانا طارق جاوید، میاں محمد اسلم ، کرامت علی، منیب بھٹی، خضر حیات ڈوگر، محمد اشرف کمبوہ، سہیل ارشد ڈوگر، سعید حسین، بلال احمد گجر، فیاض احمد چیمہ۔ محسن کمبوہ، رانا جمشید عالم ۔ ذوالفقار علی بھٹو، اور محمد زید نواز کے علاوہ ضلع بھر کی یونین کونسلوں کی وارڈوں سے منتخب ہونے والے لاتعداد کونسلرز نے اس ہنگامی اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں مشترکہ طور پر ایجنڈا پیش کیا .

ہر یونین کونسل میں وائس چیئرمینوں کے ساتھ ناروا سلوک وائس چیئرمینوں کے پاس کسی قسم کے اختیار ات نا ہونے اور سرکار کی طرف سے ملنے والے تعمیراتی کاموں کے لئے فنڈز سے صرف چیئرمینوں کو ہی نوازنے کی بھر پور انداز میں مزمت کرتے ہوئے ضلع بھر کی یونین کونسلوں کے تمام وائس چیئرمینوں کو فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں خلیل احمد آرائیں نے کہا کہ ہم پچھلے تقریبا دو سال سے چیئرمینوں کا ون مین شو دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں مسلم لیگ سے ہی تعلق ہے مگر مسلم لیگی حکومت نے وائس چیئرمینوں بارے جو بل پاس کرکے یوسی وائس چیئرمین کو بلا اختیار کیا ہے

اس سے ان کی صفر برابر بھی عزت نہیں ہے پورے ضلع میں 80 فیصد یونین کونسلوں میں چیئرمین صرف وائس چیئرمینوں کی وجہ سے جیت پائے ہیں الیکشن میں نشان بھی ایک تھا اور خرچہ بھی چیئرمین سے زائد کیا مگر تمام اختیارات صرف چیئرمین کے پاس ہیں ہم اپنے چیئرمینوں کے سامنے ہاتھ کیوں پھیلائیں وائس چیئرمینوں کے ساتھ ساتھ کونسلرز کوبھی اختیارات دیے جا ئیں

میاں اسلام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وائس چیئرمینوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہی کیا جانا تھا تو وائس چیئرمین کی سیٹ پر الیکشن لڑوایا ہی کیوں گیا ہے لوگوں نے ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے عوام ہم سے ترقیاتی کاموں بارے سوال کرتے ہیں ہمارے پاس تو فنڈز بھی نہیں اور اختیارات بھی نہیں ہم لوگوں کے نالیوں سولنگوں کے کام اپنی جائیدادیں فروخت کر تو نہیں کروا سکتے وائس چیئرمین ارشاد علی منڈا نے کہا کہ ہم یونین کونسل میں اپنے دستخطوں سے برتھ سرٹیفیکیٹ تک نہیں نکلوا سکتے

چیئرمینوں کو تمام اختیارات دینا ہمارے ساتھ سخت زیادتی ہے اور ہم نے زیادتی بہت برداشت کر لی ہے اب برداشت سے باہر ہے اگر حکومت آئین میں تبدیلی کر کے وائس چیئرمینوں کو با اختیار نہیں بنائے گی تو پورے پنجاب کی یونین کونسلوں سے منتخب ہونے والے وائس چیئرمین اور کونسلرز حضرات پنجاب حکومت کو بتا دیں گے کہ اپنے حقوق کس طرح لئے جاتے ہیں ، میجر حسن سردار نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ضلع بھر میں 90 فیصد یونین کونسلوں سے منتخب ہونے والے وائس چیئرمینوں کا تعلق مسلم لیگ کے ساتھ ہے مگر مسلم لیگی حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے آج ہمیں اپنی ہی جماعت کے غلط فیصلے کی وجہ سے سڑکوں پر نکلنا پڑ رہا ہے ہم ون مین شو ہر گز برداشت نہیں کریں گے ہمیں ضلع لیول پر وائس چیئرمین ہاؤس دیا جائے علیحدہ سے فنڈز جاری کئے جائیں جن پر صرف وائس چیئرمینوں کا حق ہو اور وہ فنڈز ہم اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ کر سکیں اجلاس سے دیگر متعدد وائس چیئرمینوں نے بھی خطاب کیا

اور اپنی اپنی تجاویز پیش کی گئیں وائس چیئرمینوں کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ہریونین کونسل میں ووٹ کو عزت دیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے کالے قانون کو نہیں مانتے لہذا 2013 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے فوری طور پر تما م یونین کونسلوں کے وائس چیئرمینوں کو بااختیار بنائیں

اور وائس چیئرمینوں و کونسلرزحضرات کا سیاسی قتل عام بند کیا جائے آخرمیں تما م وائس چیئرمینوں کو پندرہ جنوری کے روز لاہور روانگی کے لئے صبح سات بجے پابند کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی یونین کونسلوں کے تمام کونسلرز کو ساتھ لے کر لاہور کے لئے قافلوں کی شکل میں نکلیں گے جہاں پر آل پنجاب سے وائس چیئرمینوں اور کونسلرز حضرات ہزاروں کی تعداد میں شرکت کریں گے اورحکومت کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنہ دیا جائے گا اور زبردست مظاہرے کئے جائیں گے