چیف جسٹس آف پاکستان ایک بار پھر بازی لے گئے۔۔!

کراچی (سٹیٹ ویوز/ویب ڈیسک )چیف جسٹس ثاقب نثار نے ماحولیاتی آلودگی اور پانی فراہمی کیس میں سپریم کورٹ کے سابق جج امیرہانی مسلم کو واٹر کمیشن کا سربراہ مقررکردیا اور انہیں سپریم کورٹ کے جج کے اختیارات تفویض کر دیے ۔دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ وہ جسٹس(ر)امیر ہانی مسلم کا سن کر مایوس کیوں ہو گئے؟۔

بھرپور کارروائی کیلئے ہانی صاحب کو مکمل اختیار دیں گے ،ہم غیر معمولی کام کر رہے ہیں رات 12 بجے تک بھی عدالت لگائیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بچپن میں جب شرارت کرتے تھے تو نانی کہتی تھی کہ بھبھوا آجائے گا، جسٹس ثاقب نثار کی اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ میرے ججز رات کو بھی بیٹھ سکتے ہیں،یہ لوگ مجھے اچھا کھانا بھی کھلاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پانی کے منصوبوں میں بجلی کا تعطل نہیں ہونا چاہئے،چیف سیکرٹری صاحب !ہم آپ کی مدد کیلئے آئے ہیں،اگرآپ کو فنڈ نہیں ملتا تو سوچ کر آیا ہوں اپنی تین ماہ کی تنخواہ دوں گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم کام نہیں رکنے دیں گے لوگوں کا مسئلہ حل کریں گے ،آپ کو دوسروں سے بھی چندہ کر لیں گے ،ان کا کہناتھا کہ سمجھوںگا سندھ حکومت رقم دینے کے قابل نہیں تو یہ بھی کر لیں گے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آج چھٹی کے روزبھی گندے پانی اور ڈبے کے دودھ سمیت 3 اہم کیسز کی سماعت جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ گندے پانی اور ڈبے کے دودھ سمیت 3 اہم کیسز کی سماعت کررہا ہے۔

سپریم کورٹ کے بینچ میں چیف جسٹس آف پاکستان سمیت جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، سیکرٹری صحت ٖفضل اللہ پیچوہو، ایم ڈی واٹربورڈ ہاشم رضا زیدی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سمیت دیگر وکلا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام حکام کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ چھٹی کے دن یہاں آئے، عوامی مفاد کا معاملہ ہے سب کو مل کرکام کرنا ہوگا۔عدالت عظمیٰ میں ناقص دودھ سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ متعدد مقامات پر چھاپے مارے اور ریکارڈ چیک کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھینسوں کو لگانے جانے والے ٹیکوں کے 39 پیکٹس بھی برآمد کیے گئے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ ڈرگ انسپکٹر مارکیٹوں میں چھاپے ماریں اور بھینسوں کو لگانے جانے والے ٹیکے ضبط کریں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکرٹری صحت کو حکم دیا۔

کہ ٹیکوں کو ضبط کرنے کا ڈرگ انسپکٹر کو دیا جائے اور ایف آئی اے، ڈرگ انسپکٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے اسٹاک کا جائزہ لے۔انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے کہ مارکیٹوں میں یہ ٹیکے کتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےریمارکس دیے کہ جس کمپنی کا دودھ مضرصحت پایا جائے۔

اس کا پورا اسٹاک ضبط کرلیا جائے۔کمپنیوں نے ڈبوں کے دودھ سے متعلق اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ کمپنیاں صرف دودھ اور کچھ ٹی وائٹنرز بناتی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹی وائٹنر پرگزدودھ نہیں بلکہ اچھے برانڈ کے دودھ بھی ناقص ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ ٹی وی یا اخبارات پراشتہارات میں واضح کریں کہ ٹی وائٹنرز دودھ نہیں اور آپ کو لکھ کر دینا ہوگا کہ یہ دودھ ہرگز نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہر برانڈ کے دودھ کا جائزہ لیں گے جبکہ انہوں نے عدالتی معاون کو حکم دیا کہ ہرکمپنی سے 50 ہزار روپے لے کرمعائنہ کرائیں۔

ڈبہ پیک دودھ کی پی سی ایس آئی آر خود معائنہ کرے۔عدالت عظمیٰ نے ڈبے کے دودھ کا معائنہ کراکے کے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی اور چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جس کمپنی کا دودھ مضرصحت ہوا اس کا پوراسٹاک اٹھالیں، کمپنیاں خواہ کہیں کہ بھی ہوں سب کا معائنہ کرایا جائے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیسز کی سماعت کے موقع پر عدالت کے اطراف پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کے رونما ہونے پر بروقت کارروائی کی جا سکے ۔