Gilgit essambly

گلگت بلتستان حکومت کادس ہزارگھرانوں کوبلا سود قرضےدینےکااعلان

گلگت (رستم علی/سٹیٹ ویوز) سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان بابر امان بابر نے کہاہے کہ ترقیاتی سکیموں کی نگرانی اورترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کا باقاعدہ سیل بنایا جارہا ہے جس کے تحت وزیراعلیٰ،چیف سیکرٹری اورتمام سیکرٹریز کے دفتروں میں ڈیجیٹل سکرین لگائی جائیں گی اورتمام سیکرٹریز اورمتعلقہ افسران کو موبائل فون بھی دئیے جارہے ہیں جس کے ذریعے ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار کی دفتروں سے نگرانی کی جائے گی سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحتی مقامات کے غریب گھرانوں کو گھروں کی مرمت کیلئے بلا سود قرضے دئیے گئے تھے جو انتہائی کامیاب رہا ہے رواں سال پانچ سو مزید گھرانوں کوبلا سود قرضے دئیے جائیں گے اور اگلے دو سالوں میں دس ہزار گھرانوں کو بلا سود قرضے دیں گے۔

جمعرات کے روز گلگت کے مقامی ہوٹل میں سکیلنگ اپ نیوٹریشن یونٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام،سول سوسائٹی ،متعلقہ اداروں اور میڈیا کے نمائندگان کے لئے منعقدہ ایک روز ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مانیٹرنگ کا جو نظام ہے اس کے تحت کسی شکایت پر ٹیمیں بھیجی جاتی ہے جو کئی دن لگا کر تفصیلات لے کر آتے ہیں جبکہ بعض اوقات آفیسرز دفتروں میں بیٹھ کر ایم بی (میجر فسٹ بک )لکھتے ہیں تفصیلات ٹھیکیدار لے کر آتا ہے تو اس پر دستخط کرتے ہیں اور اس طرح کام چلتاہے مگر نئے نظام کے تحت ایسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ کام کی مانیٹرنگ کیلئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کا پراجیکٹ لے کر آیا ہے اس پراجیکٹ کے تحت آئی سی ٹی اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر ایک سافٹ وئیر بنارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کاباقاعدہ سیل بنایا جارہاہے اس پراجیکٹ کے تحت تمام سیکرٹریز کے دفاتر میں ڈیش بورڈ لگارہے ہیں اور ان کو ایک ایک موبائل سیٹ بھی دے رہے ہیں ابتدائی طورپر ایک سو فون سیٹ دئیے جائیں گے اور وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے دفاتر میں بھی ڈیجیٹل سکرین لگائیں گے جہاں سے روزانہ ترقیاتی سکیموں کی نگرانی ہوگی اور تمام سکیموں کا اپ ٹو ڈیٹ ڈیٹا مل جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ سال 2017-18کے تحت پچاس فی صد ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی جا چکی ہے جو قابل عمل تھی جبکہ گزشتہ مالی سال کا سو فی صد بجٹ خرچ ہوا جس کی بنیاد پر گلگت بلتستان کو نو ارب اضافی ترقیاتی فنڈز ملے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کوبہت فروغ ملا ہے سی پیک کی تکمیل کے بعد سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے میڈیکل کالج ،دل کا ہسپتال اور کینسر ہسپتال بنائے جارہے ہیں سی پیک کے تحت 45ارب روپے سے گلگت چترال ایکسپریس وے بنایاجارہاہے انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی کا بہت مسئلہ ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ریجنل گرڈ کا نہ ہونا تھا جو اب پی ایس ڈی پی میں آگیا ہے کیونکہ ریجنل گرڈ نہ ہونے سے جس علاقے میں بجلی زیادہ تھی اس کو بجلی کی کمی والے علاقے میں نہیں دے پارہے اور اس وجہ سے سرمایہ کاری بھی نہیں آرہی ہے ریجنل گرڈ کا مسئلہ حل ہوگا تو ہمارے مسائل حل ہونگے انہوں نے کہا کہ 20میگاواٹ ہینزل پراجیکٹ پر کام ہونے والا ہے 16میگاواٹ نلتر پر کام جاری ہے جبکہ100میگاواٹ کے آئی یو بننے کے بعد ہم بجلی در آمد کرنے کے بعد قابل ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ 32میگاواٹ عطاء آباد پاور پراجیکٹ کی منظوری دی گئی ہے امید ہے اگلے دو سالوں میں سردیوں میں بھی بجلی وافر مقدارمیں ہوگی۔