امریکہ پاکستان میں آج تک کیا گل کھلاتا رہا ، اہم رازوں سے پردہ اُٹھ گیا

واشنگٹن(سٹیٹ ویوز)13 سال قبل امریکی سیکرٹری دفاع ڈونالڈ رممز فیلڈ ایک فہرست کے ساتھ پاکستان پہنچا اس نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران اپنی شرٹ کی جیب سے وہ فہرست نکال کر سامنے رکھی اور جنرل کو بتایا کہ، حال ہی میں صدر جارج ڈبلیو بش نے خوف و غصہ کا اظہار کیا ہے کہ اس فہرست میں شامل زیادہ تر دہشتگردایسے ہیں جن کو غائب کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک قابل اعتماد امریکی اتحادی کے طور پر کام کررہا ہے ۔ مشرف نے اس معاملے کو دیکھنے کیلئے وعدہ کیا تھا۔ ایک مہینے بعد پاکستانی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی، انٹر سروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی نے، فہرست میں شامل دہشتگردوں میں سے ایک کو گرفتار کیا۔ امریکی سابق انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ یہ سچ ہےکہ پاکستان بہت سے طریقوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے امریکہ کے بہترین ساتھیوں میں شامل رہا۔ پاکستانیوں کے مقابلے میں کسی نے بھی دہشتگردوں سے جنگ کا سامنا نہیں کیا۔

۔سرکاری حکام نے کہا کہ پاکستان کےساتھ تعاون کےلئے امریکہ کچھ بھی کرلے الٹا امریکہ کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ پاکستان کی انٹیلی جنس سروس نے القاعدہ اور پاکستانی طالبان جیسے بعض دہشتگردیوں کیخلاف تمام ورکنگ مکمل کی جبکہ افغان طالبان، حقانیوں اور بھارت کیخلاف جہادیوں کی حمایت جاری رکھی۔ کم از کم دو مواقع پر سابق سی آئی اے ڈائریکٹر مائیکل مور نے عسکریت پسندوں کی فہرست کیساتھ یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کواس امید پریہ فہرستیں فراہم کی جارہی ہیں کہ افواج پاکستان میں جتنی دہشتگردوں سے لڑنے کی صلاحیتیں ہیں اتنی دنیا کی کسی آرمی میں نہیں۔ گزشتہ مہینے میں، دفاع سیکرٹری جیمس میٹس اسی طرح کے مشن پر اسلام آباد ،دہلی اورفرانس کا رخ کیا تھا تاکہ پاکستان کو کسی نہ کسی صورت میں رام کیا جاسکے خواہ اس میں عالمی دبائو کو بڑھانا ہو یا امریکی مصالحت اورعسکری امداد شامل ہے

لیکن اس کے باوجود پاکستان نے امریکی وزیردفاع جیمس میٹس کو لوہے کے چنے چبواتے ہوئے واپس ناکام ونامراد لوٹا دیا ۔ ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ پاکستان کےساتھ ہماری بات چیت گزشتہ پچاس برسوں سے ایک جیسی ہیں۔جبکہ پاکستان کو دہشتگردوں کےخلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور پناہ گزینوں کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ 2010 میں، سی آئی اے چیئرمین جاناتھن بینک کی پاکستان میں شناخت ہوئی تو سفارتی سطح پر ہلچل مچ گئی ،پاکستان کے پریس میں خبریں شائع ہوئی جس میں امریکی حکام کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور میں ایک پاکستانی خاتون کے ساتھ دو پاکستانی افرادجاں بحق ہوئےجسے امریکہ بحفاظت واپس نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔

ریمنڈ ڈیوس نے دعوی کیا کہ مردوں نے اسے لوٹنے کی کوشش کی جب، مئی 2011 میںاسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا اور القاعدہ کے رہنما کو ہلاک کیا گیا تھا کیلیٹن اس وقت بھی وہاں موجود تھا ۔ایک سینئر ایڈمنسٹریشن کے اہلکار، افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک، اور دیگر گروہوں کے خلاف افغانستان میںامریکی مفادات اور امریکی عملے کو دھمکی دی گئی اور فیصلہ کن کارروائی کی تیاریاں کی گئیں۔

آخر میں سی آئی اے نے آئی ایس آئی کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ معطل کردی۔سی آئی اے کے تجزیہ کار ہیڈکوارٹر کو یہ خیال تھا کہ براہ راست پاکستان میں ڈرائون کے ذریعے پاکستانیوں کو قتل کیا جائے اس میں بچے ، خواتین یا بوڑھے بھی کیوں نہ آتے ہوں اپنا ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے امریکہ کو واضع اقدام اُٹھانا پڑے گا۔

اوبامہ انتظامیہ کے سابق قومی سلامتی کونسل کے سابق مشیر جوشوا وائٹ نے کہا امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے جس کو نکلنے کےلئے پاکستان کی ضرورت ہے . پاکستان کی اینٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی واحد خفیہ ایجنسی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کو جھجنھوڑ کر رکھ دیتی ہے .