betul Muqadas

جن راستوں سے حضرت عیسی گزرے

اسرائیل جہاں فصیل کے اندر الگ دنیا آباد ہے۔اس تاریخی عمارت کو یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں جکہ مسلمان حرم شریف کہتے ہیں۔میں ان دنوں اسرائیل میں ہوں۔ پہلی بار یہاں آیا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے یروشلم کے بارے میں سنتا پڑھتا آیا ہوں۔

جب آپ کسی جگہ کے بارے میں بہت کچھ پڑھ لیتے ہیں اور پہلی دفعہ وہاں جاتے ہیں تو بہت کچھ جانا پہچانا سا لگتا ہے۔میرا خیال تھا کہ یروشلم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ لیکن یہ شہر تو کچھ اور ہی ہے۔ میں نے اب تک یہاں جو کچھ دیکھا اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس تاریخی شہر کے بارے میں آپ جتنا بھی پڑھیں کم ہے۔روم کی طرح اس پرانے شہر کی دیواریں، اینٹیں اور گلیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ شہر کئی بار اجڑا اور آباد ہوا۔

یروشلم کا پرانا شہر فصیل بند دیوار کے اندر ہے اور اس میں جانے کے آٹھ دروازے ہیں۔یہاں ہر صدی میں لوگوں کا خون بہا ہے۔ حضرت عیسی کو بھی یہاں بخشا نہیں گیا۔ یہاں کی تنگ راہوں میں سے ایک ویا ڈیلز روزا سے میں گزرا۔ یہ وہی سڑک ہے جہاں سے ایک روایت کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سولی تک لے جایا گيا تھا۔
دیوار گریہ
پرانی دہلی کی طرح قدیم یروشلم بھی فصیل بند دیواروں کے اندر آباد تھا اور شہر میں داخلے کے لیے کئی دروازے تھے۔ یہاں آٹھ دروازے ہیں اور اب تک سب موجود ہیں۔ان اونچی دیواروں اور مضبوط دروازوں کے باوجود سنہ 1099 میں یورپی صلیبی جنگجو داخل ہوئے اور شہر کے 40 ہزار مسلمان اور یہودی شہریوں کو قتل کر کے شہر پر قبضہ کر لیا۔
یہاں سارے عالم سے زائرین آتے ہیںیہ تاریخی مغربی دیوار ہے جسے دیوار گریہ بھی کہتے ہیں اور یہاں ہزاروں سیاح روزانہ آتے ہیں۔ہم اس مقام پر بھی گئے جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسلمانوں کو شہر پر دوبارہ قبضہ دلایا تھا۔ ہم نے وہ مکانات بھی دیکھے جو سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل نصف اسرائیل اور نصف اردن میں تھے۔یروشلم دنیا کے تین بڑے مذاہب یہودی، اسلام اور مسیحی کا مقدس شہر رہا ہے۔ یہاں تینوں مذاہب کے مقدس مقامات ہیں جن کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں۔ یہی ہم نے پڑھا تھا اور یہی دیکھا بھی۔یہودیوں کے مقدس ترین مقام مغربی دیوار پر دیکھا کہ کچھ عقیدت مند گریہ کر رہے تھے۔ عیسائیوں کے قدیم گرجا گھر میں لوگ جس عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے ویسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔مسجد اقصی میں نہ صرف مسلم عقیدت مند تھے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاح بھی نظر آئے۔

یہاں مذہب کا بول بالا ہے۔ مذہبی مقامات پر ہمہ وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہتا ہے جن میں بہت سے فرط جذبات سے مغلوب نظر آتے ہیں۔ یہاں لوگ کہتے ہیں کہ شہر میں مذہب کے لیے ہمیشہ ایک قسم کا جنون پایا جاتا ہے۔یروشلم میں سکیورٹی ہر وقت چوکنا رہتی ہے کیونکہ یہاں آئے دن پر تشدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیںاندرونی سڑکوں پر دونوں طرف قطار سے دکانیں موجود ہیں اور مسلح سکیورٹی اہلکار ہر جگہ تعینات ہیں۔فصیل کے اندر ایک علیحدہ اور قدیم دنیا ہے تو فصیل کے باہر ایک بڑا یروشلم آباد ہے جو جو جدید اور مکمل طور پر یہودی آبادی ہے۔

مشرقی یروشلم میں زیادہ تر اسرائیلی عرب آباد ہیں۔دونوں اسرائیلی شہری ہیں، لیکن ان کے درمیان اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ رابطے کی کمی کے سبب لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔چرچ آف نیٹیویٹی میں کرسمس کے موقعے پر زیادہ رونق ہوتی ہے۔اسرائیل کی آبادی 80 لاکھ ہے جبکہ دہلی میں اس سے تقریبا دگنی اور گھنی آبادی ہے۔ فلسطین غرب اردن اور غزہ میں رہتے ہیں اور یہ دو مقامات ایک دوسرے سے جڑے نہیں ہیں۔

اس کا حال سنہ 1971 سے پہلے کے مشرقی اور مغربی پاکستان جیسا ہے۔ ان دو علاقوں میں ایک دوسرے سے دور رہنے والے کئی منقسم خاندان بھی آباد ہیں۔ غرب اردن اور غزہ کے لوگ ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے۔ اور دونوں جگہوں کے لوگ بغیر پرمٹ ایک دوسرے کے علاقے میں نہیں جا سکتے۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن اسرائیلی حکومت کے مطابق یہ اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ وہ یروشلم کو ہمیشہ اسرائیل کا دارالحکومت کہتے ہیں۔

غرب اردن اور غزہ میں فلسطینی اسرائیلی فوج سے نبرد آزما رہتے ہیں۔حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے دعوی کو تسلیم کیا ہے لہذا یہاں عرب برادری میں بہت مایوسی ہے۔ اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ مسئلے کو حل کریں تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔اسرائیلی عربوں اور فلسطینی عربوں کے درمیان جاری قضیے کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے ان کے سامنے دو ریاست کا فارمولہ رکھا لیکن اب تک اس کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔