ریڈ فاونڈیشن نےادارےکادائرہ کارپاکستان تک بڑھانےکاعندیہ دےدیا

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز) ریڈ فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد رفیق نے سٹیٹ ویوز سےگفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے بعد اب ہم پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے اور تعلیمی نظام میں بہتری لانے کیلئے اپنا دائرہ کار بڑھانے والے ہیں، معیاری تعلیم کے فروغ اور با مقصد تعلیم کیلئے ہم اپنی ٹیم کو مزید تربیتی مراحل سے گزارنے والے ہیں ، ریڈ فاونڈیشن نے پاکستان و کشمیر میں نجی سطح پرسب سے زیادہ یتیم و بے سہارا بچوں کی کفالت کرتے ہوئے زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔
سی ای او ریڈفاونڈیشن شاہد رفیق کا دورہ سٹیٹ ویوز
سی ای او ریڈ فاونڈیشن شاہد رفیق نے پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا گروپ سٹیٹ ویوز کے اسلام آباد میں مرکزی دفتر کا دورہ کیا جہاں ایڈیٹر سید خالد گردیزی اور کنٹرولر نیوز کاشف میر نے انہیں ادارے کے بارے میں بریفنگ دی اورگلوبل ویلج میں سٹیٹ ویوز کے کردار اور اہمیت بارے تفصیل بتائی ۔

ریڈ فاونڈیشن 1994ء سے 2018ء تک
شاہد رفیق نے کہا کہ1994ء میں ریڈ فاونڈیشن کا آغاز 25 طلبہ کے ایک سکول سے کیا گیا تھا ، آج 2018ء میں ریڈ فاونڈیشن کے 382 سکولوں (بشمول مری اسلام آباد، گلگت بلتستان ، مری) میں1 لاکھ سے زائد بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں جبکہ ہم ساڑھے نو ہزار یتیم و بے سہارہ بچوں کو اپنے ادارے کے فنڈ سے تعلیم دے رہے ہیں۔اس وقت ریڈ فاونڈیشن میں بشمول ہیڈ آفس عملے اور اساتذہ 5ہزار کا سٹاف مختلف ذمہ داریوں پر آزادکشمیر بھر میں معمور ہے۔ ریڈ فاونڈیشن سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ و طالبات کی تعداد 1 لاکھ 20 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جن میں 13 ہزار یتیم بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں جو دنیا بھر میں پیشہ ورانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
تعلیمی بورڈ امتحانات میں ریڈ فاونڈیشن کی کارکردگی
شاہد رفیق نے بتایا کہ ریڈفاونڈیشن نے تعلیمی میدان میں مقابلے کی دوڑ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہےجس کیلئے ہماری پوری ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے۔ ہم محض کھوکھلے نعروں اور دعوؤں پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی اور تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔سال 2009ء سے ریڈ فاونڈیشن کے طلبہ و طالبات نے میرپور بورڈ کے امتحانات میں اہم پوزیشنین لینے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا آج وہ اب اس حد تک بڑھ چکا کہ ریڈ فاونڈیشن خطے میں اعلیٰ تعلیمی معیار کی پہچان بن چکا ہے۔میٹرک کے سال 2017ء کے امتحانات میں میرپور بورڈ میں پہلی پوزیشن سمیت ٹاپ20پوزیشنز پر ہمارے 22بچوں کا نام لکھوانا ریڈ فاونڈیشن کا تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ میٹرک کے ان امتحانات میں 63 ہزار سے زائد طلباء طالبات شامل تھے جن میں ریڈ فاونڈیشن کے بچوں کی تعداد 4ہزارتھی، ایک طرف 59ہزار بچوں میں سے 23بچوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی، دوسری طرف ہمارے 4ہزار بچوں میں سے 22بچے پہلی 20پوزیشنز لینے میں کامیاب رہے ، ہمارا مجموعی رزلٹ 95فیصد رہا جو ہمارے لیے ایک سنگ میل ہے۔ میٹرک ، ایف ایس سی کے علاوہ اب ہمارے طلبہ بی ایس سی میں بھی نمایاں پوزیشنیں لے رہے ہیں ۔ میڈیکل کالج کے داخلے ہوں یا ڈگری کالجز اور یونیورسٹیوں کے داخلے، ہمارے طلبہ میرٹ کی فہرستوں میں سب سے نمایاں نظر آتے ہیں ۔ ہم نمایاں پوزیشنیں لینے والے طلبہ و طالبات اور ان کے اساتذہ کو ایوارڈ اور انعامات سے نواز کر ان کو حوصلے بھی بلند کرتے ہیں ۔
تعلیم، تربیت اور ہم نصابی سرگرمیاں
شاہد رفیق نے کہا کہ ریڈ فانڈیشن کا مقصد اور ہدف محض تعلیم اور نمبرات کی دوڑ ہی نہیں ہے بلکہ ہم اپنے بچوں کی سیرت سازی اور کردار سازی پر بھی کام کرتے ہیں، پرائمری کی سطح پر بچوں کو قرآن پاک کی تلاوت اور مڈل لیول پر قرآن پاک کا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، کھیلوں سمیت طلبہ و طالبات میں مختلف مقابلے کرائے جاتے ہیں جس سے ان کی جسمانی صحت بہتر ہونے کے ساتھ تخلیقی صلاحیتیں سامنے لانے میں بھی مدد ملتی ہے۔نویں جماعت میں ہم اپنے طلبہ کو لیڈرشپ ڈیویلپمنٹ کا کورس کراتے ہیں ، طلبہ و طالبات کو مختلف اداروں اور مقامات کے مطالعاتی و تفریحی دورے بھی کرائے جاتے ہیں ۔ شاہد رفیق نے کہا کہ میں ذاتی طور پر امتحانی نتائج کیلئے بچوں میں نمبروں کی دوڑ کے مروجہ طریقے سے مطمئن نہیں ہوں، کوشش اور خواہش ہے کہ طلبہ، زندگی گزارنے کے اسلوب سیکھ سکیں ، جدید دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکیں ، انکی ذہنی صلاحیتیں اس حد تک بلند ہوں کہ یہ بول چال ، خیالات ، رابطہ سازی میں ماہر ہوں اور پروفیشنل لائف میں بہتر سے بہترین ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم علم کے ساتھ طلبہ کو ہنر مندی کی طرف لیجانے کیلئے بھی کوشاں ہیں تاکہ یہ بچے اور بچیاں مستقبل میں اچھے انسان اور اچھے شہری بن کر وہ زندگیاں گزار سکیں جن سے ملک و قوم کو بھی فائدہ ہو۔
تعلیمی فروغ میں درپیش مشکلات
ریڈ فاونڈیشن کے ساتھ حکومتی تعاون اور درپیش مشکلات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاہد رفیق نے کہا کہ ہم آزادکشمیر میں رول آف لاکے مکمل پابند ہیں ، حکومت آزادکشمیر اور وفاقی حکومت کو ٹیکس بھی دیتے ہیں ، محکمہ تعلیم سیکرٹریٹ نے تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کا جو طریقہ رائج کر رکھا ہے اس سے مطمئین نہیں، اتھارٹیز کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پسماندہ علاقوں میں نجی سطح پر تعلیمی ادارے بنانا اور انہیں معیار پر چلانا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ میرپورتعلیمی بورڈ کی طرف سے مختلف کلاسزکے امتحانات میں رائج طریقہ کار پر بھی ہمارا اختلاف ہے ، ہم محکمہ تعلیم کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کو حل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ملک میں تعلیمی شرح بلند کرنے کیلئے اقدامات
سی ای او ریڈ فاونڈیشن شاہد رفیق نے بتایا کہ وہ آزادکشمیر میں ادارے کی کارکردگی سے مطمئین ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ریڈ فاونڈیشن کا دائرہ کار اب پاکستان کے مختلف صوبوں تک بڑھائیں تاکہ آزادکشمیر کی طرح پاکستان میں شرح خواندگی بہتر ہو اور تعلیمی معیار کو بلند کیا جا سکے، شاہد رفیق نے کہا کہ ہم ریڈ فاونڈیشن یونیورسٹی بھی قائم کرنے جا رہے ہیں۔
فنڈنگ اور اخراجات کا طریقہ کار
ریڈ فاونڈیشن کےمالی نظام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سی ای او شاہد رفیق نے کہا کہ ریڈ فاونڈیشن ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ ادارہ ہے، اس کا آڈٹ ہم ہر سال کراتے ہیں ۔ تمام سکولوں کا اپنا اپنا بجٹ طلبہ و طالبات سے حاصل ہونے والی فیسوں کی بنیاد پر بنتا ہے اور اسی سے ہم ان کے انتظامی اخراجات کرتے ہیں، ہر سکول اپنے بجٹ میں سے 10 فیصد رقم فاونڈیشن فنڈ کی مد میں ہیڈ آفس کو دیتا ہےجبکہ مخیر حضرات اور مختلف تنظیمیں ہمیں جو فنڈنگ دیتی ہیں ان سے ہم انتظامی اخراجات سمیت یتیم بچوں کی کفالت و تعلیم ، تربیتی کورسز ، سکولوں کے تعمیراتی کام کے ساتھ ٹیکسز بھی ادا کرتے ہیں، یتیم بچوں کے جملہ اخراجات پر ہم سال میں 24 کروڑ روپے سے زائد خرچ کر رہے ہیں جبکہ ہر یتیم طالب علم پر سالانہ 20 ہزار روپے اخراجات ہوتے ہیں جنہیں ہیڈ آفس ادا کرتا ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر ریڈ فاونڈیشن شاہد رفیق کی جدوجہد
[su_highlight color=”#fa1214″]چیف ایگزیکٹو آفیسر ریڈ فاونڈیشن شاہد رفیق کا تعلق راولاکوٹ سے ہے ، شاہد رفیق نے 1996ء میں راولاکوٹ کے نواحی علاقے چھوٹا گلہ میں ریڈ کے ایک سکول سے پڑھانے کا آغاز کیا، تین سال کے بعد انہیں ہیڈ آفس میں کوآرڈینیٹر کو طور پر ذمہ داریاں سونپی گئیں، سال 2000ء میں انہیں دبستان سردار بہادر علی خان سکول کھڑک میں وائس پرنسپل کے طور پر ذمہ داریاں دےکر بھیجا گیا جبکہ 2001ء میں انہیں اسی سکول کا پرنسپل بنا دیا گیا ۔ 2007ء میں انہیں ٹریننگ آفیسر کے طور پر ذمہ داریاں دیکر ہیڈ آفس اسلام آباد بھیج دیا گیا، 2008ء میں انہیں ایچ آر منیجر بنایا گیا جبکہ 2010ء میں شاہد رفیق کو ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر ترقی دی گئی اور 2014ء میں انہیں فاونڈیشن کے بورڈ نے 3،3 سال کی مدت پر چھ سال کیلئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔ شاہد رفیق 2 سال بعد جب وہ چیف ایگزیکٹو نہیں رہیں گے تب وہ ریڈ فاونڈیشن کے سیٹ اپ سےالگ ہو جائیں گے۔[/su_highlight]