پاکستان سپورٹس بورڈ کی ناک نیچے نام نہادفٹسال فیڈریشن نے قدم جمالئے

اسلام آباد(مسعود ربانی/سٹیٹ ویوز)پاکستانی کھلاڑیوں نے تقریباً ہر کھیل کے میدان میں اپنا لوہا منوایا ہوا ہے جس کی مثال شاید کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی لیکن اس کے برعکس نام نہاد نووارد کھیلوں کی فیڈریشنز کھیل کے نام پر صرف کاغذ کالے کر رہی ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہیں جس کی مثال حال ہی میں پیدا ہونے والی فٹسال فیڈریشن ہے جو کہ ذرائع کے مطابق تاحال پاکستان اسپورٹس بورڈ سے منظور شدہ نہیں ہے اس کے باوجود اس فٹسال فیڈریشن نے انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کرانے کی نوید سنادی اور کچھ دن قبل ایک پریس کانفرنس وفاقی وزیر برائے رابط ریاض پیرزادہ کے ساتھ کرنے کا اعلان کیا تاہم ریاض پیرزادہ صاحب نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پریس کانفرنس میں شرکت نہ کی۔ فیڈریشن کے سیکرٹری اور دیگر آفیشلز نے اس پریس کانفرنس میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کا اعلان کیا ۔

یاد رہے اس نام نہاد فیڈریشن کے سیکرٹری ملک عدنان جو کے ساؤتھ ایشین فٹسال ایسوسیشن کے خزانچی بھی تھے ان کو کریپشن کے الزامات کے تحت ساؤتھ ایشین فٹسال ایسوسیشن نے برطرف کر دیا ہے اس کا ثبوت سافا نے اپنے جاری کردہ لیٹر میں دیا ہے جو کے 24 جنوری 2018 کو جاری کیا گیا ہے اس کے باوجود کمال کارکردگی سے تمام کام جاری ہیں .

پاکستان اسپورٹس بورڈ کی عین ناک کے نیچے اب یہی فٹسال فیڈریشن ایک انٹرنیشنل کوچ کی زیرنگرانی کوچنگ کورس کرا رہی ہے اور سب سے اہم بات اس کورس کے مہمانِ خصوصی ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ اختر نواز گنجیرا تھے جن کو تمام تر معاملات کا علم ہے اس کے باوجود لب خاموش ہونا دال میں کالے ہونے کا ثبوت ہے ذرائع کے مطابق اسی فیڈریشن کے اعلیٰ افیشل پاکستان اسپورٹس بورڈ پر بہت مہربان ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کھیلوں کے قانون کو صرف اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جاتا رہے گا یا کھیلوں کو ترجیح دی جائے گی