خواجہ محمد کلیم/ضرب کلیم

سیکس ایجوکیشن، عدم رواداری اور پاکستان کا مستقبل

قحط سا قط ہے، گھٹن سی گھٹن، ایساگھٹا ٹو پ اندھیرا جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ لیکن ایسا تو ہر گز نہیں، لکیر کے دوسری طرف رزق بھی موجود ہے، تازہ ہوا بھی اور عقل و دانش کی روشنی بھی۔ اذیت لیکن یہ ہے کہ ا ن نعمتوں سے استفادہ کرنے کو کوئی تیار نہیں، ہاں واویلا جتنا کہیے، ماتم ہر دم جاری ہے۔ ہر کوئی اپنے حق کی بات گلا پھاڑ کر کرتا ہے لیکن یہ شعور لینے کو کوئی شخص کب تیار ہو گا کہ حق کا دعویٰ اس وقت تک باطل ہے جب تک ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھا نہ دیا جائے۔ مزدوری محنت کش کا حق ہے لیکن اس وقت جب وہ اپنا کام مکمل کر دے۔ ایک طالب علم جس نے کلا س کو تفریح کا ذریعہ سمجھا اور استاد کو غیر ضروری چیز، کیا وہ سند کا حق دار ہوسکتا ہے؟ اولا دکی تربیت درست طریقے سے نہ کرنے والا شخص اس سے خدمت اور فرمانبرداری کی توقع کیسے کر سکتا ہے؟ یہ خاکسار ملکی حالات سے تنگ آکر بیرون ملک جانے کے خواہشمندوں سے الجھ جاتا تھا۔ دو واقعات نے لیکن میرے اس نظریے کی ایسے دھول اڑائی ہے کہ میں خود سے شرمندہ ہوں۔ اب اگر لندن، پیرس یا امریکہ میں بس جانے کا امکان میسر ہو تو کون کافر منع کرے؟ ریاست کی سب سے پہلی ذمہ داری اورفرد کی سلامتی ہے۔

زینب کا قتل، جس کے بعد مجھے ایک مرد ہونے کے ناطے خود سے بھی گھن آنے لگی ہے۔ قتل پنجاب میں ہو یا خیبر پختونخوامیں، ریاست اور اس کے شہریوں پر اس قتل کا قرض اس وقت تک باقی رہے گا جب تک اس ملک کے تمام بچوں کی حفاظت کا ایسا بندوبست نہیں کردیا جاتا کہ کوئی درندہ کسی بچے کی طرف بری آنکھ سے دیکھنے کی بجائے اپنی آنکھیں خود سے پھوڑ لینے کو ترجیح نہیں بنا لے گا۔ ’’سیکس ایجوکیشن ‘‘ جس کا نام سن کر ایک طبقہ آگ بگولہ ہو جاتا ہے ایسی بُری چیز نہیں۔

ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی نے ایک ویڈیو ارسال کی ہے۔ اس اینی میشن ویڈیو میں مناسب الفاظ، شائستہ لہجے اور بھلے اندازسے بچوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کو اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لئے روزمرہ زندگی میں معاشرے کے اندر کون سے اصولوں پر کاربند رہنا ہے۔ نہ صرف بچوں کے لئے بلکہ والدین کے لئے بھی اس میں بہت سے سبق ہیں۔ سیکس ایجوکیشن کو لیکن شاید کچھ لوگ جنسی عمل کی تربیت سمجھتے ہیں جو اس کی مخالفت کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ بچوں کو اس فعل شنیع سے بچاؤ کی تدبیر سمجھانے کا سلیبس ہے۔ پہلا سبق اس میں یہ ہے کہ والدین کو بچوں کا ایسا دوست ہونا چاہیے جن سے وہ ہر بات ایسے کر سکیں جیسے ایک گناہ گار اپنے خالق سے۔ بلاشبہ والدین اس دنیا میں اولاد کے لئے خدا کا ایک روپ ہیں جن کو خالق نے ان کے پالنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ کی خوشنودی میں خدا کی خوشنودی کوئی لاٹری نہیں بلکہ یہ ذمہ داری نبھانے کا مقدس انعام ہے۔

انسان سرکس کا جانور نہیں کہ پنجرے میں قید رکھا جائے۔ چوبیس گھنٹے، سات دن، پورا مہینہ یا ایک سال، ماں باپ بچوں کا سایہ بن کر تو نہیں رہ سکتے۔ تعلیم، تربیت، انسانی ضروریات اور سماجی روایات کے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے گھر، گلی، محلے، شہر اور ملک یا بیرون ملک، اکیلے یا دوستوں کے ساتھ نقل و حمل اور ہاسٹل میں رہائش وغیرہ، ایسے مراحل ہیں جن سے ہر بچے کو پالا پڑتا ہے۔ اخلاقی یا سماجی جرائم سے چشم پوشی بجائے خود ایک جرم ہے۔ جرم تو محسن انسانیت کی سربراہی میں قائم کائنات کے اس معاشرے میں بھی تھے جو اپنے قوانین اور اصولوں کی وجہ سے آج بھی ریاستوں کا آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ جہالت کے سبب لیکن ہم اس کے ادراک سے قاصر ہیں۔ ہر گز یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ ظلم کا شکار بننے والی خاتون یا بچوں کے اہل خانہ کو لاکھوں روپے عوضانہ عطا کرے۔ ایک شہری اگر ریاست کے سامنے اپنے بعض حقوق سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہے تو ریاست پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حقوق کی پہلی اورآخری محافظ بن جائے۔ بصورت دیگر کسی وحشی حملہ آور کی مجبور و مقہور رعایا اور اکیسویں صدی کے عوام میں کیا فرق ہو سکتا ہے؟

مشال خان کا خون وحشیوں کے ایک جتھے کے نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ ریاست کے شہری، درجہ اولیٰ میں ریاست اور اس کے ادارے مشال خان کی ماں کی کوکھ اجاڑنے کے مجرم ہیں۔ کوئی اقبال لالہ سے پوچھے کہ بازو قلم کرواکر چہرے پر اطمینان کا سہرا سجانا کس قدر اذیت ناک ہے۔

اپنے کاغذوں پر دل بنانے والے ذرا مشال خان کی ماں کے دل میں بھی جھانکیں۔ بظاہر ایک ایسی چوک جو انسانی غلطی ہو سکتی ہے یا ایک ایسا جرم جس سے ریاست یا کسی شہری کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا اس پر ملک کے وزیراعظم کو تو ٹکے ٹوکری کر دیا جائے لیکن کھلے عام ارادہ قتل ظاہر کرنے والے سلطان راہی سینہ چوڑا کیے آوارہ ہیں۔ یہ کیسی ریاست ہے جہاں انگور کی بیٹی کے چند قطروں سے آنے والا از خود نوٹس کا سیلاب برسوں تھمنے میں نہیں آتا لیکن جیل سے چھوٹنے والا ایک وحشی جتھا مذہب کی تقدیس کے نام پرکھلے بندوں جرم کا اعتراف اور ہجوم کے انصاف کو فروغ دینے کا عہد کرتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا۔ شاید ایسے ہی وقت کے لئے کسی نے کہا تھاکہ قانون اندھا ہو تا ہے۔

ریاست اور اس کے ادارے شفاف انداز میں یہ فیصلہ کر چکے کہ مشال خان کو جس جرم کی سزا دی گئی وہ اس کا مرتکب ہی نہیں تھا۔ فرض محال وہ مجرم تھا بھی تو کیا ہم یہ چاہتے ہیں اس ملک میں قانون اور انصاف کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہوجائے۔ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو چند لوگوں کے ایک گروہ کو یہ چھوٹ کیسے دی جا سکتی ہے کہ وہ خود ساختہ الزامات پر کسی بھی شہر ی کے چیتھڑے اڑا دے؟

میری جان، میرا مال، میرے عیال اور میرا سب کچھ فاطمہ ؓ کے باباﷺ پر قربان لیکن یہ اسلام کے کیسے شیدائی ہیں جو خدائی فوجدار بن کر خود ساختہ الزامات پرہجوم کی عدالت میں ہجوم کا فیصلہ فوری نافذ کرنے کی بدعت اس ملک میں جاری کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو تو اپنی سلامتی اور ترقی کے لئے قانون کی عمل داری کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی مچھلی کو جَل کی۔

جماعت اسلامی کا گھناؤنا کردار ایسے عیاں ہوا جیسے صاف مطلعے میں چمکتا سورج۔ کچھ لوگ یہ عذر تراشتے ہیں کہ یہ جماعت کی پالیسی نہیں بلکہ چند افراد کا ذاتی فعل ہے۔ عذر گناہ بد تر از گناہ۔ ثابت ہو ا کہ CIVILIZATION OF SOCITY کے بغیر ووٹوں کے بکسے پرچیوں سے بھرنے سے جمہوریت نہیں آتی۔ جماعت اسلامی کو ایک منظم جماعت ہونے کا دعوی ہے، کہاں گیا نظم؟ ایک شہر کے امیر کی یہ جرات کہ وہ امیر جماعت کی پالیسی کے خلاف شتر بے مہار بن جائے؟ تھوڑی بہت عقل کی توقع جماعت سے جو تھی اس پر انا اللہ پڑھ لیا۔ سرمایہ کاری کون کرے گا اس ملک میں؟ ایٹمی طاقت بھی اگر ریاست کے اپنے شہریوں کی جان کی سلامتی کی ضامن نہیں بن سکی تو کس کام کی؟ مذہب کی جبری تبدیلی کی شکایت پر غیر مسلم ملک چھوڑ کر جاتے تھے تو کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی اب مسلم بھی بھاگنے کی سوچیں گے تو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘ میں بچے گا کیا؟