نقطہ نظر/انجینئرہارون زبیر

عصرنو

انسان کی موجودہ ریاستی نظام تک رسائی مصائب و الم کے خم دار راستے سے گزر کے ہی ممکن ہوئی ہے۔ اچھےاوربرے ، تلخ اور خوشگوار تجربات کے امتزاج سے انسان خود کو محفوظ بنا سکا ہے یا نہیں یہ انسانی حیات کی بقا کے ساتھ منسلک ہے۔ سینے پہ بم باندھ کے اپنے ہی ہمشکل کو قید حیات سے آزادی دینے والا موجودہ دور کا انسان خسارے میں رہے گا یا مشینری کی شکل میں انسان کو سہولیات دینے والا اسی کا ہمشکل کامیاب رہے گا ۔

یہ فیصلہ ابھی قبل از وقت ہو گا۔ لیکن کچھ حقائق ایسے ہیں جن سے انکار ممکن نہیں ۔ غار کا انسان ڈر اور خوف میں لپٹا جب بستیاں آباد کرتا ہے تب وہ آپس میں رہنے کے لئے ایک نظام تیار کرتا ہے۔ اس ریاستی نظام میں انسان انسان کو تحفظ بھی دیتا ہے ۔تاریخ میں بڑی دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوتی ہے جب ایک ریاست کا علمبردار دوسری ریاست پہ حملہ آور ہوتا ہے ۔کوشش کرتا ہے کہ اپنی طاقت کے زور پہ دوسری ریاست کے وسائل کو ہتھیا لے۔جنگ و جدل ،سروں کو روند کے اپنے ریاستی باشندوں کو وسائل مہیا کرتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ لاشوں کے ڈھیر سے ہٹ کے مجموعی طور پہ انسان کو وبا سے بچاو کے لئے دن رات ایک کر کے علاج بھی ڈھونڈتا ہے نسل کی بقا کے لئے سائنسی تجربات بھی کرتا ہے۔ اس لئے ابھی کوئی بھی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی کہ انسان کس جگہ پہ کھڑا ہے۔ موجودہ دور کے اندر دیکھ لیں اقوام مغرب ایک طرف علاج آدم کے لے نت نئی ایجادات کر رہی ہیں اور دوسری طرف ڈرون ،کیمیائی ہتھیار تیار کر رہی ہیں اس دوڑ میں اقوام مشرق و مغرب دونوں سراپا مگن ہیں.

بات ریاستی نظام سے شروع ہوئی تھی کہ انسان مذہبیت ،بادشاہت ،ملوکیت،مزدکیت،آمریت سے گزر کے جمہوریت پہ پہنچ گیا ہے لیکن علاجِ تنگی و غربت ابھی بھی میسر نہیں۔ اپنی ہی ریاست کو دیکھ لیں ۔سیاست ایک گروہ ایک طبقہ یا ایک معاشرے کو حق دینے کے لئے اقتدار تک رسائی کا نام ہے۔ لیکن جب سیاسی افق پہ نظر پڑتی ہے تو الٹی کنگا بہتی نظر آتی ہے۔ سیاست دھوکہ دے کہ مکر کر کے فریب دے کے اقتدار تک رسائی کا نام ہو چکا ہے ترجیحات پہلے طے کر لی جاتی ہیں کہ حصول اقتدار کے بعد منزل وہ نہیں ہوتی جسکا وعدہ ہوتا ہے ۔ چند چہرے ہیں جو بامقصد سیاست کرتے ۔نوابزادہ نصراللہ جیسے کردار مدت ہوئی تہ خاک چلے گئے صدا بہار اپوزیشن ۔سیاست اگر ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہو تو عبادت ہی عبادت ہے لیکن اگر سیاست راؤ انوار جیسے کریمنل کے تحفظ کے لئے ہو تب شر ہی شر ہے ۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی تناظر میں سیاست صرف سیاستدان نے ہی بدنام نہیں کی ۔ بابے رحمتے نے بھی حسب توفیق اپنا مکمل حصہ ڈالا۔آمریت نے تو سیاست میں پود ہی وہ پیدا کی جو اس کی آمریت کو دوام بخشے۔نظریہ ضرورت کے بانی سے لے کے موجودہ بابے رحمتے تک ،آمروں سے سیاستدانوں تک ،پرنٹ میڈیا سے الیکڑانک میڈیا تک ان گذشتہ ستر سالہ تاریخ میں عوام بھی تماشبین کردار سے نکل کے کچھ نہ کچھ فہم رکھنے لگی ہے۔سوشل میڈیا نے مقدس چادر اوڑھے ہر کردار کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ ۲۰۱۸ کی سیاست اور ۱۹۸۰ کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے اب سیاست ریاست کے لوگوں کو بجلی دینے ، روزگار دینے، صحت وتعلیم کی سہولیات دینے کا نام ہے ۔ اب کچھ ڈیلیور کرنے میں ہی کسی سیاسی جماعت کی بقا ہے نئے دور کے تقاضوں سے جو خود کو لیس نہیں کرے گا اس کا بھٹو زندہ ہونا مشکل ہے ۔امید قوی ہے کہ چراغ وہی جلے گا جس میں جدید ضروریات کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا تریاق ہو گا۔ جہاں سیاسی کلچر تبدیلی کا غماز ہے وہاں عوام کی اجتماعی سوچ کی تبدیلی بھی درکار ہے ۔عوامی توقعات اجتماعی ہوں گی تو انفرادی ترقی ہو گی۔ میں ذاتی طور پہ اس ساری اکھاڑ بوچھاڑ کو خوش آئند سمجھتا ہوں جمود موت ہے طلسم ٹوٹنا چاہیے تبہی خوشحالی آئے گی۔