لوح ایام/شکیل احمد ترابی

نجم سیٹھی لبرل تو ہے ، احمدی بھی؟؟؟؟؟؟

اللہ غریق رحمت کرے اس بات کے راوی جناب صفدر چوہدری (سابق سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان )کی۔اپنی روایتی مسکراہٹ لبوں پر بکھیرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں سیف الرحمان نے جعلی مقدمہ قائم کر کے نجم سیٹھی کو پابند سلاسل کر دیا، اُن کے میگزیں “فرائیڈے ٹائمز” کے پریس کو سِیل کردیا۔

نجم سیٹھی ۔۔۔ لبرل آدمی ، جماعت اسلامی کے کُھلے ناقِد۔

مگر جماعت کے مرنجانِ مرنج اور محبتیں بکھیرنے والے امیر جناب قاضی حیسن احمد نے جماعت کے سیکریٹری اطلاعات جناب امیر العظیم کے زریعے اُنکی اہلیہ سیدہ میمنت حُسین المعروف جگنو محسن کو پیشکش کی کہ اگرچہ ہمارے ہاں رنگین طباعت کا اہتمام نہیں۔ آپ کی آزمائش میں ہم نہ صرف آپ کیساتھ ہیں بلکہ آپ چاہیں تو آپکا میگزین جماعت کے طباعتی مرکز سے چھپ سکتا ہے۔

جگنو نے یہ پیشکش قبول کی انکا میگزین چھپتا رہا۔ رہائی کے بعد جگنو، نجم سیٹھی کو لیکر جماعت کے مرکز منصورہ پہنچ گئیں۔

کچھ دیر بعد قاضی صاحب کی پریس کانفرنس تھی۔ دار الضیافہ میں دونوں میاں بیوی نے اپنے ماضی کی جماعت دشمنی کے پیشِ نظر جھجک اور شرمندگی سے قاضی صاحب کی محبت اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ جگنو بولیں قاضی صاحب ہمیں ایک اور نازک معاملے میں آپ کی حمایت درکار ہے۔ قاضی صاحب نے مشفق لہجے میں کہا فرمائیے۔

جگنو گویا ہوئیں ، نجم ۔۔۔احمدی یا قادیانی نہیں مگر ہماری آزادانہ سوچ کی مخالفت کرتے ہوئے بعض لوگ یہ گھٹیا الزام ان پر لگاتے ہیں ۔ قاضی صاحب آپ ہماری مدد کیجئے۔

قاضی صاحب نے کہا سیٹھی صاحب کلمہ طیبہ پڑھئیے، سیٹھی نے حکم بجالایا۔ قاضی صاحب نے پوچھا آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں؟

نجم سیٹھی نے اثبات میں جواب دیا۔ قاضی صاحب کے حکم پر سیٹھی نے یہ عمل دہرایا۔

محبت کے پیکر قاضی حسین احمد نے سیٹھی کا ہاتھ پکڑا، پریس کانفرنس کے ہال میں داخل ہوئے۔

حاضرین مجلس سے السلام علیکم کے بعد استفسار کیا آپ ان کو جانتے ہیں؟

سب نے کہا یہ نجم سیٹھی ہیں۔ قاضی صاحب نے مجلس میں جناب نجم سیٹھی کو کلمہ طیبہ پڑھنے اور حضور صلعم کے نبیِ آخر الزماں کا ایک مرتبہ پھر اقرار کا کہا۔ سیٹھی کے اقرار کے بعد قاضی صاحب نے کہا کے کسی آزاد خیال مسلمان کو احمدی وغیرہ قرار دینا بہتان ِعظیم ہے، اِلا یہ کہ کسی کا عمل کوئی اور بات ثابت کرتا ہو۔

اپنے پیارے بھائی صفدر چوہدری مرحوم و مغفور کی اس روایت کو میں نے کسی اور موقعے پر بیان کرنا تھا۔

مگر عاصمہ جہانگیر کی موت اور دعائے مغفرت بارے میری پوسٹ پر میرے بعض مخلص اور کچھ تنگ نظر و ذہن لوگوں نے جس ردِ عمل کا اظہار کیا اس سوچ پر اناللە و انا الیە راجعون پڑھتا ہوں۔بھائیو اور بہنو۔۔۔ میں نے عاصمہ کو مجاہدہ اور نہ ہی شہیدہ اسلام قرار دیا ہے۔

وہ انسانی لغزشوں اور اپنے آزاد خیال نظریےکے باوجود ہمیشہ استعماری قوتوں کے سامنے جرات مندی سے کھڑی رہیں۔

ظالم جابر یحیحیٰ ہو یا ضیا و پرویزمشرف۔ مقابلے میں نواز شریف ہو یا انکی ذاتی دوست بے نظیر ۔۔۔۔وہ غیر عادلانہ اقدام پر انکے سامنے برہنہ تلوار ثابت ہوئیں۔ جسٹس افتخار کی بحالی کی تحریک میں پیش پیش رہیں مگر بحالی کے بعد عدالتی جبر افتخار دکھائیں یا ثاقب نثار ۔۔۔۔ عاصمہ پوری دیانت داری و بے باکی کیساتھ کھڑی رہیں۔

میری فیس بک وال پر “ایسے مجاہدین” تبصرے فرمارہے ہیں جو میرے وقت آزمائش شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا گے تھے، حاسددرپردہ آج بھی گھٹیا حرکتوں میں مصروف۔بے شرموں و مفاد پرستوں کا ٹولہ۔

مجھ پر جناب حامد میر کی ایک رٹ پر پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں خفیہ فنڈز سے چھ لاکھ لینے کا الزام وزارتِ اطلاعات نے لگا دیا۔جس پر میں نے سب سے پہلے سپریم کورٹ میں وزارت اطلاعات پر دعویٰ کیا۔ عاصمہ کی بیٹی منیزےجہانگیر بھی ان معصومین میں شامل تھی جس نے خفیہ فنڈ سے رقم نہ لی مگر الزام کا شکار ہو گئیں۔ عاصمہ نے اپنی بیٹی کے لئے جسٹس ریٹائیرڈ طارق صاحب سے دعویٰ کروایا۔ کچھ صحافیوں کی طرف سے عاصمہ جہانگیر پیش ہوئیں۔ مرحومہ نے مجھے پیشکش کی کہ بغیر فیس کے آپ کا مقدمہ بھی لڑ سکتی ہوں ۔ میں نے شکریے کیساتھ معذرت کرلی۔ مگر عدل کے سب سے بڑے ایوان کی عمارت میں ، میری سٹی گُم ہو گئی کہ ایک خاص پس منظر کی حامل خاتون مجھ جیسے کُھلے ڈُلے “مولوی صحافی” کا مقدمہ لڑنے پر کیسے آمادہ ہوئیں؟ دل و دماغ سے آواز آئی اللہ جس کو توفیق بخش دے۔

جبکہ میرے ذاتی نہیں ادارے کے ایک مقدمے پر اسلامی انقلاب کے نعرے لگانے والے نے خاصی بڑی رقم اینٹھ لی۔ دماغ نے پھر جواب دیا جن “چولوں” سے ہدائت چھین لی جائے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں۔عمل کی دنیا کچھ اور ہی ہے بھائیو۔

اس سے زیادہ وضاحت کی مجھے چنداں ضرورت نہیں۔ ہرایک کا معاملہ اسکی نیت کے مطابق اس کا رب کریگا۔ اللہ میری لغزشیں معاف فرمائے اور میرے ہر عمل کو خالص اپنے لئے بنا لے۔

اس تحریر کے بعد کسی رکیک تبصرے کا جواب نہیں دونگا۔