وہ پہلا مسلمان حکمران جس نے جاسوس کبوتروں کی مدد سے یورپی حملہ آوروں کا سدباب کیا تھا

لاہور(نیوزڈسک )آپ کے لئے یہ بات یقیناً حیرانی کا باعث بنتی رہی ہے کہ بھارت پاکستان سے آنے والے کبوتروں کو جاسوسی کے الزام میں کیوں پکڑ کر ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور ان کبوتورں سے کیوں خوف کھاتا ہے۔بھارتی حکومت کے اس خوف کا ایک باقاعدہ پس منظر ہے۔

بھارتی جانتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں نے اپنے دور میں قاصد اور جاسوس کبوتورں کے ذریعے سے بڑے بڑے معرکے سر کئے تھے۔سلطان نورالدین زنگی نے اپنے دور میں قاصد کبوتروں سے فوجی کام لئے تھے ۔ انہوں نے اعلٰی نسل کے کبوتر سدھا کر انہیں دشمن کے علاقوں کی جاسوسی اور نامہ بری کے لئے استعمال کیا تھا۔

بھارتی آج بھی اس خدشہ کے تحت پاکستان سے آنے والے کبوتروں کی مکمل پڑتال کرنے پر مجبور ہیں کہ نہ جانے مسلمان ان کے خلاف کب کون سا ہتھیار استعمال کرڈالیں۔ سلطان نورالدین زنگی نے اپنی وسیع و عریض سلطنت میں ڈاک کی بے شمار چوکیاں قائم کی تھیں۔

وہاں ہر وقت ڈاک لانے اور لے جانے کے لیے کبوتر،گھوڑے، خچریں، اونٹ اور ہر کارے موجود رہتے تھے۔ ڈاک کے جانوروں کی نگہداشت کا خاص انتظام تھا اور شناخت کے لیے ہر جانور کے جسم پر ایک خاص نشان لگادیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہر جانور کے گلے میں ایک گھنٹی لٹکادی جاتی تھی جس کی آواز سے معلوم ہوجاتا تھا کہ ڈاک آرہی ہے۔

سلطان نورالدین زنگیپہلا مسلمان حکمران تھا جس نے نامہ برکبوتروں سے عجیب وغریب ’’تاربرق‘‘ کا کام لیا اورانکی مدد سے اس نے یورپی حملہ آوروں کے حملوں کا نہایت موثر طریقے سے سدباب کیا۔ سلطان کی مدت سے خواہش تھی کہ عام ڈاک اور ہر کاروں کے بجائے خبر رسانی کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے جس سے دشمن کو اپنے فاسد اور مذموم ارادوں میں کامیاب ہونے کی مہلت نہ مل سکے۔

جب اس کو معلوم ہوا کہ اس کام کو ان بھولے بھالے معصوم جانوروں سے بڑھ کر بہتر طریقے سے کوئی انجام نہیں دے سکتا تو اس نے نامہ برکبوتر تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی اور اس مقصد کے لیے ماہرین کا ایک بڑا عملہ مقرر کیا جو کبوتروں کونامہ بری کے لیے سدھا تا تھا اور ان کی مکمل نگہداشت کرتا تھا۔

اس کے ساتھ ہی سلطان نے اپنی وسیع قلمرو میں جا بجا چوکیاں قائم کیں اور ہر ایک چوکی پر وقائع نویس مقرر کیے جو اپنے نواحی علاقوں کی خبریں سلطان کو پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔ ان چوکیوں سے متصل اونچے اونچے مینار تعمیر کرادیئے گئے تاکہ نامہ برکبوتر چوکی کو شناخت کر کے ان میناروں پر اْتر سکیں۔

ڈاک کے ہر کاروں اور چٹھی رسانوں کا ایک مخصوص لباس ہوتا تھا اور ان کو ’’سعاۃ‘‘ کہا جاتا تھا۔ سلطان کے حکم سے دمشق ،موصل، حلب، حمص اور دوسرے تمام اہم شہروں اور قصبوں میں ڈاک خانے قائم کیے گئے جہاں مقررہ اوقات پر ڈاک آتی اور تقسیم ہوتی تھی۔

اس کی طرف سے ملک کے تمام جاگیرداروں ور صوبوں کے حکام اعلیٰ کو ہدایت تھی کہ وہ ڈاک کے ملازموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اس بات کا انتظام کریں کہ ان کی آمدورفت اور تقسیم ڈاک میں کسی قسم کا خلل نہ پڑے۔

سرکاری ڈاک کے لیے الگ انتظام تھا اور اثنائے راہ میں اس کی سخت حفاظت کی جاتی تھی۔سلطان نور الدین زنگی کے ڈاک کے منظم نظام نے اسکی سلطنت پر رٹ کو ہمیشہ قائم رکھنے میں مدد دی تھی۔