دنیا کے وہ بڑے شہر جہاں پانی کی کمی کاسامنا ہے

لندن (سٹیٹ ویوز)جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا بڑا شہر بن گیا ہے جہاں سے جدید دور میں پینے کے پانی کی کمی واقع ہو گئی ہے۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف ماہرین ایک عرصے سے توجہ دلا رہے تھے۔بظاہر تو پانی دنیا کے 70 فیصد حصے پر پھیلا ہوا ہے، لیکن اس کا صرف تین فیصد ہی پینے کے قابل ہے جو آبادی بڑھنے، آلودگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔

دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور 2.7 ارب انسان ایسے ہیں جنھیں سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔2014 میں دنیا کے پانچ سو بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر ‘پانی کے دباؤ’ سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ وہ صورتِ حال ہے جب پانی کی سالانہ مقدار 1700 مکعب میٹر (17 لاکھ لیٹر) فی کس سے کم ہو جائے۔اقوامِ متحدہ کی پیش گوئی کے مطابق 2030 کی دنیا میں تازہ پانی کی طلب 40 فیصد تک بڑھ جائے گی، جس کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور انسانی رویوں میں تبدیلی ہے۔
اس تمام تر صورتِ حال میں کیپ ٹاؤن آئس برگ کی چوٹی کی مانند ہے جس کا صرف ایک حصہ پانی سے باہر اور نو حصے اندر ہوتے ہیں۔ذیل میں دنیا کے چھ ایسے اہم شہروں کی صورتِ حال بیان کی جا رہی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ کیپ ٹاؤن کی طرح پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بنگلور
اس انڈین شہر کے ٹیکنالوجی کا مرکز بننے کے بعد وہاں کی آبادی میں بےتحاشا اضافہ ہوا ہے جس کا اثر لامحالہ طور پر پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام پر پڑا ہے۔مزید یہ کہ شہر میں پانی کی ترسیل کا نظام اس قدر خراب ہے کہ مقامی حکومت کے مطابق نصف صاف پانی ضائع ہو جاتا ہے۔صرف یہی نہیں، جو پانی گھروں تک پہنچ بھی جاتا ہے وہ بھی آلودہ ہوتا جا رہا ہے۔

بیجنگ
ورلڈ بینک نے پانی کی کمی کی تعریف متعین کر رکھی ہے، یعنی جب فی کس صاف پانی کی مقدار دس لاکھ لیٹر سالانہ سے کم ہو جائے۔2014 میں بیجنگ کے دو کروڑ سے زیادہ باسیوں کو صرف ایک لاکھ 45 ہزار لیٹر پانی سالانہ میسر تھا۔چین کو مجموعی طور پر بھی پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ وہاں دنیا کی کل آبادی کا 20 فیصد حصہ آباد ہے لیکن اس کے حصے میں صرف سات فیصد صاف پانی آیا ہے۔آلودگی کا مسئلہ اس کے علاوہ ہے۔ 2015 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ کا 40 فیصد پانی اس قدر آلودہ ہے کہ پینا تو درکنار، زرعی اور صنعتی مقاصد کے لیے بھی کارآمد نہیں۔

قاہرہ
قاہرہ شہر کے اندر سے بہنے والا دریائے نیل نے ویسے تو ہزاروں برس سے تہذیبوں کی آبیاری کی ہے، لیکن اب اس عظیم دریا کو شدید دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔نیل مصر کے صاف پانی کا 97 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، لیکن اب یہ رہائشی اور زرعی فضلے سے آلودہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق مصر میں آلودہ پانی سے متعلقہ بیماریوں سے بڑے پیمانے پر اموات ہو رہی ہیں، اور 2025 تک وہاں پانی کی شدید کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔روس میں پانی کی بہتات ہے لیکن یہ پانی آلودہ ہوتا جا رہا ہے.

ماسکو
روس میں مجموعی طور پر تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ پایا جاتا ہے، لیکن سوویت دور میں کی جانے والی زرعی توسیع کی وجہ سے اسے بھی آلودگی کا سامنا ہے۔ماسکو کا 70 فیصد پانی زمین کی سطح سے حاصل ہوتا ہے، جو زیادہ آسانی سے آلودہ ہو جاتا ہے۔مقامی ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کا 35 سے 60 فیصد پانی حفظانِ صحت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔

استنبول
مقامی اعداد و شمار کے مطابق ترکی کو مجموعی طور پر پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ 2030 تک یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر لے گا۔حالیہ مہینوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ آبادی والے استنبول میں خشک مہینوں میں پانی کمی ہو جاتی ہے۔ شہر میں پانی کے ذخیرے میں 30 فیصد کی کمی واقع ہو گئی ہے۔