گوشۂ عُزلت سے/پروفیسرذوالفقاراحمد ساحر

جنوری، غرناطہ کا غُسل خُونین

ہر سال ۲ جنوری آتا ہے اور گذر جاتا ہے۔مجھے ۲جنوری کو ۱۴۹۲؁ ء کا منحوس دن یاد آتا ہے جس کے بارے میں تاریخ ایک خُوں چکاں اور الم ناک تصویر فراہم کرتی ہے۔ یہی سال جہاں مسلمانوں کے لیے ایک دور تاب ناک کا اندوہ ناک خاتمہ تھا تو عیسائی تہذیب کی ظلم و بربریت کی ایک نئی کروٹ بھی ثابت ہوا۔مسلمانوں پر غرناطہ میں جو ظلم ہوا وہ حکمرانوں کی اور پادریوں کی آٹھ صدیوں کی مخاصمت کاتعصب سے بھر ا ہوا اظہار بہیمیت تھا۔مگر سر زمین امریکا ،جو صرف معصوم ریڈ انڈینز (Red Indians) کے ہنسی مذاق اوردیہاتی سرگرمیوں کے علاوہ کسی منظر سے آشناہی نہ تھی، یورپ کے قذاقوں کے قدموں تلے پامال ہوئی۔ ۱۴۹۲؁ ء ہی میں کرسٹو فر کولمبس نے اپنے ساتھ ڈاکوئووں اور لُٹیروں اور سزا یافتہ مجرموں کے ساتھ چار بحری جہازوں کے بیڑے کے ساتھ اوقیانوس پار کیا۔اور بہاماس کے جزائر سے امریکا کی وسیع چراگاہوں ، میدانوں ،کھیت کھلیانوں اور معصوم کسانوں پر بارُود کی بارش برساتا ہو ا، خُون کی ندیاں بہاتا ہوا آگے بڑھا۔وہ اپنے خیال میں یہی سمجھتا رہا کہ اس نے ہندوستان کاراستہ ڈھونڈ لیا ہے۔اور مشرق کے راستے سے انڈیا پہنچ گیاہے۔کولمبس نے اسی لیے وہاں کے باشندوں کو ریڈ انڈین کانام دیا۔جو ہنوز آگ جلانے کے فن سے واقف تھے مگر تلوار کا استعمال نہیں جانتے تھے۔

کولمبس نے امریکا کے تین سفر کیے۔ ہر سفر میں اس نے اس عظیم بر اعظم کو خاک و خون میں نہلایا ۔بندوقوں اور توپوں سے لاکھوں افراد کا قتل کیا۔جھونپڑے اورکھیت جلاڈالے ۔بچوں کو غلام بنایا ۔اور بے شمار سونا، چاندی لے کر یورپ واپس آیا۔اس کی دیکھا دیکھی یورپ کی تمام قومیں سرزمین امریکا کے اصل باشندوں کو تاراج کرنے کے لیے دوڑ پڑیں ۔پُرتگالی ،ہسپانوی ، ولندیزی ،اطالوی ،انگریز ،فرانسیسی ،جرمن ،سکنڈے نیوین،الغرض آج کا امریکا جن افراد پر مشتمل ہے یہ سب اُن لوگوں کی جائز ناجائز اولاد وں پر مشتمل ہے جو اُس وقت دولت کمانے نئی سرزمین کی طرف دوڑے ۔پھر افریقی غلاموں کی تجارت کا ایک ظُلمت بھرا دور شروع ہوتاہے۔جس میں انسانیت امریکی نوابوں اور جاگیر داروں کے ہاتھوں بُری طرح پامال ہوتی ہے ۔جدید امریکا اَن گنت ریڈ انڈینز کے خُون اور افریقی غلاموں کی ہڈیوں کی بنیاد پر تعمیر ہونے والی وہ ترقی یافتہ عمارت ہے جس کی چکا چوند اور تزئین وآرائش دجًالی تہذیب کاسب سے بڑا آئی کان (I CON)ہے۔

بات ۲جنوری کے غرناطہ کی ہورہی تھی۔میری سٹڈی میں غرناطہ کے خُوب صورت محل ’’الحمرا ‘‘کی چند نادر تصاویر اور ’’مسجد قُرطبہ ‘‘ کے مناظر مجھے ۲ جنوری ۱۴۹۲؁ ء کے اس تاریخی دن کی یاد دلائے ہیں جو طارق بن زیاد اورموسی بن نصیر کے اقدام کے تاریخ ساز لمحات کاسلسلہ انتہا ہے۔بنی اُمیہ کے دور میں خلافت اسلامیہ کی سرحدیں اوقیانوس کے کناروں سے لے کر ماورالُنہر اور ڈینیوب کے ساحلوں اور پیرے نیز کی بلندیوں سے لے کر ہندوستان کے مشہور دریا سندھ کے کناروں تک پھیل گئی تھی۔اتنی شان دار فتوحات میں سے فتح اندلس بھی ایک زبردست تاریخی حقیقت ہے جو خلیفہ ولید بن عبدالملک (۷۰۵ء تا ۷۱۵ ) کے زمانے میں طارق بن زیاد نے ۷۱۱؁ ء میں اسلامی قلم رو میں شامل کیا۔

اکثر تاریخوں میں لکھا ہے کہ اُس دور میں ہسپانیہ (اندلس ) پر گاتھ قوم قابض تھی۔ ایک فوجی جنرل راڈرک نے بادشاہ کے مرنے کے بعد تخت سلطنت اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔شمالی افریقہ کی ایک چھوٹی سی ریاست سبتہ (CEUTA) پر ہسپانیہ کاقبضہ تھا۔اس ریاست کا گورنر جُولیان ( ( JULIAN تھا ، جس نے مملکت کے دستور کے مطابق اپنی بیٹی شاہی دربار میں طلیطہ (TOLEDO) میں بھیج رکھی تھی۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق راڈرک جو کہ عیاش اور بدچلن شخص تھا، نے اس نوجوان حسینہ کو دریائے تاجہ(TAGUS) میں نہاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔سفلی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ امانت میں خیانت کامرتکب ہوا۔ گورنر جُولیان کو خبر ملی وہ غُصے کے مارے آگ بگولا ہو گیا۔اور اُس نے اس فعل قبیح کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا۔راڈرک کو شکار کاشوق تھا۔اُس نے جو لین سے فرمائش کی کہ وہ افریقا سے اُسے باز بھجوائے۔ جُولیان نے جواب دیا، اگلی مرتبہ میں خود اتنے باز لے کر آئوں گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔چنانچہ وہ موسی ٰ بن نصیر (مشہور اسلامی جرنیل اور حضرت نُضیر رضی اللہ صحابی کے بیٹے ) کے پاس حاضر ہوا اور سپین پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ یوں موسی ٰ نے طارق کو بارہ ہزار سپاہ کے ساتھ بھیجا ۔جھیل لاجنڈا کے کنارے اسلامی فوجوں نے نصف لاکھ گاتھوں کو مار بھگایا۔اور فرانس اور ہسپانیہ کے درمیان پیرے نیز کا برفانی سلسلہ ء کوہ اسلامی یلغار کی سرحد قرار پایا۔افسوس کہ ولید کی بے وقت موت نے موسی ٰ کے قدم روک دیے ۔سلیمان بن عبدالملک نے مُوسی ٰ کو معزول کردیا۔

اُندلس کی اسلامی عہد کی تفصیلات بہت تاب ناک ہیں ۔ ’’ صقر قریش ‘‘(قریش کاعقاب) یعنی عبدالرحمان الدًاخل کادمشق سے فرار ہو کر قرطبہ پہنچنا اور جدید قرطبہ کی بنیاد یں رکھنا (۷۵۴ء ) ،مسجد قرطبہ جیسی شان دار عمار ت کا سنگ بنیاد رکھنا اور اپنی اولاد کو ایک عظیم ،ترقی یافتہ تہذیب کی راہ پر لگا کر داعی ء اجل کی لبیک کہنا ایک تاریخ ہی نہیں بل کہ تہذیب حجازی کا خوب صورت سنگ ِمیل بھی ہے۔عبدالرحمان الناصر (دوم ) اور عبدالرحمان الثالث (سوم ) ہشام اوًل ،ابن عامر وغیرہ وہ کردار ہیں جنھوں نے قُرطبہ کو عظمت بخشی ۱۲۳۶؁ ء میں یہ شہر عیسائیوں نے دوبارہ حاصل کر لیا۔مرابطون (مرابطین ) کا اشبیلیہ وہ شہر ہے جس میں اسلامی دور کی متعدد عمارات آج بھی موجود ہیں۔یوسف بن تاشفین ،معمتد اور سُلطان یعقوب اس شہر کی تاریخ کے نمایاں کردار ہیں ۔رومن دور میں دوبڑے بادشاہ قیصر ٹروجن اور قیصر ہیڈرین اسی شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ہیڈرین اپنے دور کا عظیم فاتح تھا جس نے برطانیہ کو رُوم کا حصہ بنایا ۔اس کی بنائی ہوئی دیوار (ہیڈرین وال )آج بھی اپنے دور کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔

مسلمانوں نے اس میں جیرالڈا مینار اوار گولڈن ٹاور او ر القصر جیسی عمارتیں تعمیر کیں۔آج بھی موجود ہیں۔یہ شہر ۱۲۸۰؁ ء تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا ۔عیسائیوں بے ۱۲۸۰؁ ء تک شمالی ہسپانیہ مسلمانوں سے چھین لیاتھا مگر جنوبی ہسپانیہ کا عظیم شہر غرناطہ ۱۴۹۲؁ ء تک مسلمانوں کی خانہ جنگی او ر آپس کی غداریوں کے باوجود اسلامی دور میں شمار کیا جاتا ہے۔مشہور و معروف الحمر ا ،جس کا حُسن ایک الف لیلوی تاثر رکھتا ہے، اسی شہر میں واقع ہے اور آج بھی اپنی عظمت ،نزاکت ،نفاست اور تعمیر ی فراست کی عمدہ مثال ہے۔
اس شہر کے عیسائیوں کے قبضے میں جانے کے بعد مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔مشہور دانش ور طارق علی اپنی کتاب ’’انار کے سائے ‘‘ میں لکھتے ہیں ۔

’’کلیسا کی کھڑکی کے نیچے ایک سپاہی تعینات کیا گیا تھا۔زی می ینس نے اس کو گھورا او رکچھ اشارہ کیا۔یہ اشارہ مشعل برداروں تک پہنچا او ر آگ بھڑ ک اٹھی ۔آدھے ثانیے تک خاموشی رہی ۔پھر دسمبر کی رات میں ایک زبردست چیخ گونجی اور پھر یہ آوازیں آئیں۔لَا اِلہٰ الااللہ ُ محمدالرسول اللہ ۔شعلے بلند سے بلند ہوتے جارہے تھے ۔دہکتا آسمان جہنم بنا ہواتھا۔اُڑتی چنگاریوں کا مرقع جو خوب صورت خطاطی کے جلنے سے پیدا ہو رہا تھا لگتاتھا کہ ستارے آنسو بہارہے ہیں۔ایک فقیر نے اپنے کپڑے اُتارے او ر آگ کی طرف بڑھنے لگا ۔’’علمی کتابوں کے جلنے کے بعد زندگی کا کیا مطلب ۔اور وہ آگ میں کُود گیا‘‘(صفحہ نمبر ۱۰)
یہ صرف ایک جھلک تھی۔سچ تو یہ ہے کہ اس جنوری کے بعد مسلمانوں کو بھی زندہ آگ میں جھونکا گیا۔اُن کے سامنے تین آپشن رکھے جاتے ۔
۱) عیسائی بن کر رہو۔
۲) اندلس چھوڑ دو۔
۳)آگ میں زندہ جلادینے کے لیے تیار رہو۔
۱۶۲۰؁ ء تک یعنی ایک سو سال کے عرصے میں مسلمان زبردستی عیسائی بنائے گئے ۔قتل ہوئے یامراکش ہجرت پر مجبور ہوئے۔ان سو برسوں میں سارا اندلس مسلمانوں سے خالی ہوگیا۔پاکستان کو دوسرا ہسپانیہ بنانے کی سازش ہندئوئوں نے بہت پہلے سے کررکھی ہے۔ہندواسی ایجنڈے پر ہمارے ملک کو مسلمانوں سے ’’پاک ‘‘ کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ایک سیاسی دانش ور ڈی پی دھر (دُرگا پرشاد دھر) نے ایک سپین بھیجا تھا ۔تاکہ معلوم ہوسکے کہ کن حالات میں مسلمانوں کو یورپ سے نکال باہر کیاگیاتھا۔اُن حالات کو ہمارے ملک کے ہوس پرستوں کے ذریعے پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔بنگلہ دیش بن گیا تو ہندو بہت خوش ہوئے کہ آج دو قومی نظریہ بحرہ عرب میں غرق ہوگیا۔اب وہی حالات بلوچستان اور کراچی میں پیداء کیے جارہے ہیں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے پاکستان والو!