قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

مدبررہبراورنڈر قائد….مگر کون ؟

رہبر یا قا ئد کی اہمیت کیا ہو تی ہے ؟اسکا اندازہ اس کہا وت سے لگایا جا سکتا ہے جسمیں کسی ایک خا ص وصف سے کسی کو رہبر بنا نے کی غلطی کیجائے ۔کہتے ہیں پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک تا ریک اور ستاروں سے محروم رات کو ایک الوکسی شا خ پر گم سم بیٹھا تھا کہ اتنے میں وہاں سے دو خرگوش گز رے ، انکی کوشش تھی کہ وہ اس درخت کے پاس سے خا موشی سے گز ر جا ئیں جس پر الو بیٹھاتھالیکن وہ جو نہی وہاں سے آگے بڑھے توالو نے انہیں پکارا۔ ٹھہرو۔۔اس نے ان کو دیکھ لیا تھا ،کون ؟خرگوش نے مصنوعی حیرت سے پوچھا انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی گہری تاریکی میں بھی کو ئی انکودیکھ سکتا تھا ۔خرگوش بھا ئیو ! ذرا بات تو سنو۔الو نے پھر کہا لیکن خرگوش تیزی سے بھا گ نکلے اور دوسرے پرندوں اور جانوروں کو خبر دی کہ الو سب سے مدبر اور دانا ہے کیونکہ وہ اندھیرے میں بھی دیکھ سکتا ہے ۔لومڑی نے کہا کہ ذرا مجھے اس بات کی تصدیق کر لینے دو چنا نچہ وہ اگلی شب اسی درخت کے پاس سے گزری تو الوسے پوچھا کہ اس نے کتنے پنجے اٹھائے ہو ئے ہیں ، جس پر الو نے کہا کہ دو۔ جواب درست تھا ، اگلا سوال یہ پو چھا کہ یعنی کا کیامطلب ہے تو الو نے کہا کہ مثال دینا ، جس پر لومڑی بھاگم بھاگ واپس آئی اور تمام پرندوں اور جانوروں کو جمع کر کے گوا ہی دی کہ اس وقت ہم سب میں سب سے زیا دہ دانا اورمدبر الو ہے کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ اور مشکل سوالوں کے جواب دے سکتا ہے اس پروہاں موجود بگلے نے پوچھاکیا الو دن کو دیکھ سکتا ہے؟

ایسا ہی سوال ایک جنگلی بلے نے بھی پوچھا۔ جس پر دونوں کو جنگل بدر کردیا گیا ، الو کو متفقہ طور پر یہ پیغام بھیجا گیا کہ وہ انکا رہبر اور سربراہ ہے ۔ الو نے بخوشی پیشکش قبول کر لی ۔جب الو اپنی رعایا کے پاس پہنچا تو دن تپ رہاتھا۔ تیز روشنی کی وجہ سے الو کو کچھ سجھائی دے رہا تھا نہ ہی دکھا ئی تو وہ بہت احتیا ط سے قدم رکھ رہا تھاجس سے اسکی چال میں متا نت اور رعب پیدا ہو گیا جس پر لومڑی نے اپنے انتخاب پر با قی جا نوروں سے داد سمیٹی ۔ جب الو اپنی آنکھیں سمٹا کر ادھر ادھر دیکھتاتوجانور اسکو مدبر رہنما کہتے اور ساتھ ہی ساتھ اسکو دیوتا کا لقب بھی دے دیا گیا ۔ اتنی پذیرائی دیکھ کے الو کی چال میں مستی آگئی اور وہ ایک طرف چلنا شروع ہو گیا ، اسکی دیکھا دیکھی با قی جا نور بھی اندھا دھند اپنے رہبر کی تقلید میں چلنا شروع ہو گئے ۔ جانور نعرے مارتے رہے۔ چلتے ٹھوکریں کھاتے سب کے سب ایک سڑک پر پہنچ گئے ، صاف رستہ سمجھ کے الو نے سڑک کے درمیان چلنا شروع کردیاجس پر اس کی تقلید کرنے والے جانور اور خاص کر لومڑی نے یہ راگ الاپنا شروع کردیا کہ انکا رہبر دانااور مدبر ہی نہیں بہادر اور جفا در ہے جوسڑک کے درمیان شان سے اور بے خوف چل رہاہے ، ایک عقاب جو اوپر اڑرہا تھا نے الو کی سیکرٹری لومڑی کو بتایا کہ آگے سے ایک ٹرک تیز رفتا ری سے ان کی طرف آرہاہے ۔ جس پر لومڑی نے اپنے رہبراور آقا کو خطرے سے آگا ہ کیا ۔ جس پر الو نے بڑی رعونت سے پوچھا اچھا ؟ تو لومڑ نے پوچھا کہ کیا آپ کو خطرات سے ڈر نہیں لگتا ؟خطرہ کیسا خطرہ ؟الو نے پھر پوچھا ۔ اتنی دیر میں ٹرک قریب آپہنچا ۔لیکن الو بڑی شان اور بے نیا ز ی سے چلتا رہا رہبر فرا ز کے پیروکا ر بھی قدم سے قدم ملا ئے خراما ں خراماں چل رہے تھے ۔ واہ ۔واہ ہمارا رہبر مدبر ہی نہیں بہا دربھی ۔۔۔۔ابھی جملہ پورا بھی نہیں ہواتھا کہ ٹرک رہبر سمیت احمقو ں کے پورے ٹولے کو کچلتاہوا نکل گیا ۔

اس کہا وت کو پڑھنے کے بعد آئیے ہم پاکستان کی سیاست کا جا ئزہ لیتے ہیں کہ یہاں پر وہ کون ہے جس نے پاکستان کو اور اہل پاکستان کو خطرات سے بچایا؟اور وہ کون ہے جو الوئوں کو یا کسی ایک خاص وصف کی بنیاد پر اسے رہبرمان کریا بنا کر قوم کو بیوقوف بناتا رہااو ر ملک کو آگ اور خون کی موٹر وے پر تنہا چھوڑ گیا ؟ ہم زیا دہ دور نہیں چلتے بلکہ جنرل ضیا ء کی شہا دت کے بعد کی منظر کشی کرتے ہیں ۔ جب پاکستان کی عوام کے پاس صرف ایک بڑی پا رٹی پاکستان پیپلز پا رٹی کی شکل میں موجو دتھی اس وقت ملک میں بینظیر بھٹو کے علاوہ کو ئی قد آور سیا سی نام نہ تھا ، نوابزادہ نصراللہ اس وقت سیاست کابڑانام تھے ۔ پی پی پی کا زور توڑنے اور ملکی سیاست میں تواز ن رکھنے کیلئے دائیں با زو کے مقابلے میں با ئیں با زوکی سیاست متعارف کرائی گئی اور پاکستا ن پیپلز پارٹی کے مقابلے میں آئی جے آئی بنی جسے نو ستا روں کا اتحا د بھی کہا جاتا رہا ، اسی اتحاد نے میاں نواز شریف پیدا کیا جو بعد ازاں اپنے ساتھ موجود بڑے ناموں کے مقابلے میں قد آور شخصیت بن گئے ، حکومتیں ٹوٹتی اور بنتی رہیں ۔

سیاسی انتقام اور محلا تی سازشوں نے ستا سی سے لیکر ننانوے تک وہ وہ روپ دکھلا ئے کہ پاکستان میں سیاست کو بدبودار کام کا رتبہ ملا اور سیاستدانوں کی کریڈیبیلٹی پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سوالیہ نشان بن گیا ، اسکو دوام اس وقت ملا جب جنرل پرویز مشرف نے با رہ اکتوبر انیس سو ننانو ے کو جمہوریت پر شبخون ما را اور میاں نواز شریف کو اقتدار سے الگ کردیا ۔ اس سے قبل بینظیربھٹو خودساختہ جلا وطنی کاٹ رہی تھیں اور انکے شوہر نامدار آصف علی زرداری تیئس نومبر 2004کو جیل سے رہا ہو گئے۔ اس کے بعد ق لیگ بنی اور پنجا ب سے چوہدریوں نے جنرل مشرف کے ساتھ شریک اقتدار ہو کر سات سال تک اس ملک پر بلا شرکت غیرا حکومت کی ۔ ن لیگ کا نام صرف پنجا ب کی حد تک رہا ۔ لیڈر شپ کو زندگی کی امان امریکہ کی ڈائریکٹ مداخلت پر ملی ۔ وقت چلتا رہا اور پھر پاکستانی قوم نے بینظیر کا قتل دیکھا جوپاکستان کی تا ریخ پر سیا ہ داغ بن کر ابھرا ۔

افتخار چوہدری کی برطرفی کے بعد انصاف کا تما شا شاہراہ دستو ر پر لگا اور اسکا جنا زہ بھی نکلا لیکن اچانک سول سوسائٹی اتنی تگڑی ہو گئی کہ وہ انصاف کا مکا ملک کے سب سے طا قتور حاکم کو ناک آئوٹ کرگیا۔ اسکے بعد پاکستان پیپلز پا رٹی کو ہمدردی کا ووٹ ملا اور آصف علی زرداری اس ملک کے صدر بن گئے۔ ملک نے وہ دن بھی دیکھا جب مسٹر ٹین پرسنٹ نے ایک ڈکٹیٹر کوگا رڈ آف آنر دیا بھی اور لیا بھی ۔ ایوان صدر اور جیلوں کی یونیورسٹی نے آٖ صف زرداری کو کنگ میکر اور سیاست کی دنیا کا بے تا ج با دشا ہ بنا دیا ۔ یہاں سے شروع ہو تا ہے وہ تجزیہ جس سے اس کالم کی ابتدا ہو ئی اس میں ہم کو ڈھونڈنا ہے اس الو کو جس کو نہ ملک کا پتہ ہے اور نہ ہی عنان حکومت ا ور سیاست کا ! اسکی واحدقابلیت یہ ہے کہ وہ اندھیرے میںاندھے کی طرح بڑی دور کی کوڑی لاتا ہے ۔ اس نے رٹے رٹا ئے جملو ں سے قوم کو اس قدرمتاثر کیا ہوا ہے کہ اس کے سوا سب کو با قی سارے ڈفراو ر چور لگتے ہیں ۔ وہ اتنی توا تر سے جھوٹ بولتا اور اسکا پرچار کرتا ہے کہ اسکے لو مڑ دوست اسکو دانا اورمدبر رہبر سمجھتے ہیں۔

اس نے تو ان سب بگلوں اور جنگلی بلوں کو پا رٹی بدر کیا ہوا ہے جو اسکی با ت نہیں ما نتے ۔ یہ بگلے ہم کو ہا شمیوں ، نیا زیوں اور گلہ لائیوں کی شکل میں یہاں مل سکتے ہیں ۔ اب صرف اس با ت کا انتظار ہے کہ وہ کب اپنے پیروکاروں کومسائل اور مصائب کے تیز رفتا راور بھا ری کم ڈمپر تلے کچلتا ہے ۔ ؟ اس سے قبل ہم پاکستان پیپلز پا رٹی کی حکومت میں بجلی ، آٹا اور گیس کو نا پید ہوتا دیکھ چکے ہیں ۔ یہ تو اچھا ہو اکہ جلد ہی اگلا الیکشن بھی آگیا اور ساتھ ساتھ قوم کو عقل او ر ایسٹیبلشمنٹ کو ہوش ۔ ورنہ۔۔۔ذرداری صاحب کی مدبری کا حساب دینا ہم سب کیلئے بہت درد ناک ہوتا ۔آج کل سی پیک لانے والی حکومت او ر اسکے سرخیل میاں نوازشریف سخت عتاب کا شکار ہیں ،عدل اور جمہورکی لڑائی چل رہی ہے ، میاں نواز شریف کو گرانے کیلئے غیر فطری اتحاد بھی قا ئم کئے جا رہے ہیں ، لیکن طاقت اور قوت میاں نوازشریف کے ہا تھ میں تھی اور اب ایک با ر پھر آرہی ہے ، اگر مقبولیت کا فیصلہ جلسے جلوسوں نے کرنا ہے تو میاں نواز شریف اس فیصلہ کے تحت فا تح نظر آرہے ہیں ، انکے مقابلے میں موجود اپوزیشن ایک دوسرے کیخلاف اس قدر بیان بازی کر چکی ہے کہ اب وہ کسی بھی نام پر ایک سٹیج یا ایک کمرے میں اتحاد کیلئے بیٹھنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ، دیکھا جا ئے تو میاں نوازشریف اکیلا ہی پوری اپوزیشن پر بھا ری نظر آرہا ہے ، اور اپوزیشن ہے کہ بکھری بھکری اور بہکی بہکی ہے جو آمدہ انتخابا ت میں ن لیگ کیلئے نیک شگون ثا بت ہو سکتی ہے !