ہنزہ، برفانی تودہ گرنے سے ایک اور جھیل بن گئی

ہنزہ (سٹیٹ ویوز)ضلع ہنزہ کی بالائی وادی شمشال میں خوردہ پین گلیشئیر کے پھیلاو سے فرجراف گلیشئیر کا پانی بند ہوکر جھیل کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔سنٹر ہنزہ سے 52 کلو میٹر کے فاصلہ پر وادی شمشال میں واقع خوردہ پین گلیشئیر کی تاریخ ایک لمبے عرصے پر محیط ہے۔

اس گلیشئیر کا مخالف پہاڑی کے ساتھ ٹکراو کے عمل سے فرجراف نالہ کا پانی مکمل طور پر بند ہوکر جھیل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔شمشال ایک تنگ وادی پر مشتمل ہے جس کی آبادی 236 گھرانوں پر مشتمل ہے 2003 میں پہلی بار اس وادی کیلئے آمدورفت کی رسائی ممکن ہوئی ہے

تاہم وادی کیلئے جانے والی سڑک تنگ اور دشوار گزار ہونے کے ساتھ ساتھ کچی بھی ہے۔اس دور افتادہ وادی میں قدرتی گلیشئیرز بھی کافی تعداد میں موجود ہیں جن میں خوردہ پین گلیشئیر صدیوں سے کٹاو اور پھیلاو کے عمل سے گزر رہا ہے۔1876 سے لیکر 2018 تک کئی دفعہ جھیل بننے اور ٹوٹنے کا عمل جاری رہا ،1960 میں یہ جھیل پھٹنے کے باعث شمشال کی آبادی کے ساتھ ہنزہ اور گلگت کی آبادی کو بھی متاثر کیا تھا۔

اس سلسلے میں فوکس ہیومنٹیرین پاکستان نے گلیشئیر کے حوالے سے حکومتی حکام کو ایک بریفنگ کا اہتمام کیا تھا جس میں کمشنرگلگت ریجن عثمان احمد ،ڈی سی کمشنر ہنزہ علی اصغر سمیت شمشال کیونٹی کے افراد شریک ہوئے ،جس میں ممکنہ خطرات کے حوالے سے حکام بالا کو آگاہ کیا گیا۔