حفیظ جالندھری

ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنہیں پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سےبھی جانا جاتا ہے۔

حالات زندگی
حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کو ہندوستانی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم 1905 میں جالندھر کی جامع مسجد سے شروع کی اور قرآن مجید ناظرہ پڑھا۔وہ 1907 میں مشن ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول جالندھر میں داخلہ لیا۔

1909 میں حصول علم کیلئے دوآبہ آریہ اسکول میں ایڈمشن حاصل کیا، یہیں سے ان کے دل میں جذبۂ حریت بیدار ہوا۔آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعراء کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔
ادبی خدمات
انہوں نے اردو شاعری اور پاکستان کیلئے مثالی خدمات سر انجام دیں اور قومی ترانہ تحریر کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔ وہ بیک وقت ایک غزل گو اور نعت گو شاعر بھی تھے۔ تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ان کی کچھ غزلیں اور نظمیں بھی ایسی ہیںجو اردو ادب میں زندہ جاوید ہوچکی ہیں اور انہی میں سے ایک ‘ابھی تو میں جوان ہوں’ شامل ہے۔ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے ۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ابھی تو میں جوان ہوں کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔

تصانیف
حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں اورسوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر، گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب چیونٹی نامہ قابل ذکر ہیں۔

نمونہ کلام

اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر
کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا

بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں
تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

دل سبھی کچھ زبان پر لایا
اک فقط عرض مدعا کے سوا

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

وفات
حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو لاہور پاکستان میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔