1584ارب روپے سرکاری اکائونٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)حکومت نے سرکاری پیسے پر وفاقی اورصوبائی حکومت کو قرضے جاری کرکے اس سے کروڑوں روپے منافع کماکر موجیں مارنے والے کمرشل بینکوں کا ہنی مون کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نئی معاشی اصلاحات کے تحت وزارتوں اوربڑے ترقیاتی منصوبوں کے کمرشل بینکوں کے 84,753اکائونٹس میں پڑے سرکاری ترقیاتی فنڈز جن کی مالیت 1584ارب روپے ہے ۔ مرحلہ وار سرکاری اکائونٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، 2021تک اس رقم کا بڑا حصہ واپس سرکاری خزانے میں منتقل کردیا جائے گا۔

1584ارب روپے کا یہ پیسہ کمرشل بینکوں سے نکال کر سنگل ٹریژری اکائونٹس میں منتقل ہونے سے کئی چھوٹے کمرشل بینکوں کے دیوالیہ ہونے اور بند ہونے کا خدشہ ہے ، ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کی ہدایت پر مختلف میگا پراجیکٹس اوردیگر منصوبوں کےلئے وزارت منصوبہ بندی ، بھاری فنڈز مختلف وزارتوں اورڈویژنوں کو جاری کرتی ہے ۔ انہیں مختلف کمرشل بینکوں میں رکھ کر ترقیاتی کاموں کیلئے جان بوجھ کر استعمال کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کمرشل بینک اس پیسے کو منافع کمانے کےلئے متعدد بار استعمال کریں اوراس ضمن میں ان وزارتوں کے حکام اوران میگا ترقیاتی منصوبوں ر عملدرآمد کروانے والے اداروں کے حکام بینک انتظامیہ کو اس رقم کی مختسر مدت کےلئے کی جانےوالی سرمایہ کاری سے ہونےوالے منافع سے حصہ وصول کرتے ہیں اوریہ بھاری رقم فوری طور پر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے کے بجائے قومی خزانے سے نکلنے کے بعدوزارتوں کے افسران اور کمرشل بینکوں کی کمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

بااثر کمرشل بینک مالکان اوربیوروکریسی کی ملی بھگت سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت مالی سال کے آخری مہینوں کا بجٹ خسارہ پورا کرنے کےلئے کمرشل بینکوں سے ٹریژری بل کے عوض جو پیسہ ادھار لیتی ہے وہی پیسہ ہوتا ہے جو کمرشل بینکوں میں سرکاری محکموں اورسرکاری ترقیاتی منسوبوںکےلئے خود سرکار کی جانب سے جاری ہوتا ہے اس طرح کمرشل بینک مالکان اوربیوروکریسی کی ملی بھگت کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔

حکومت مالی سال کے آخری مہینوں کا بجٹ خسارہ پورا کرنے کےلئے کمرشل بینکوں سے ٹریژری بل کے عوض جو پیسہ ادھار لیتی ہے یہ وہی پیسہ ہوتا ہے جو کمرشل بینکوں میں سرکاری محکموں اورسرکاری ترقیاتی منصوبوں کےلئے خود سرکار کی جانب سے جاری ہوتا ہے اس طرح کمرشل بینک مالکان اور میگاپراجیکٹس پرعملدرآمد کروانے والے سرکاری اداروںکے حکام حکومتی پیسے سے ہی حکومت کو قرض دیکر اس پر حاصل ہونے والا بھاری منافع آپس میں بانٹ لیتے ہیں اوریہ پیسہ سرکاری ہونے کے باوجودحکومت کو اس پر کمرشل بینکوں کو بھاری منافع ادا کرنا پڑٹا ہے

،یہ سلسلہ چند سال قبل مشیر وزارت خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے زمانے میں بند کروانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم کمرشل بینکوں کے مالکان نے اس سلسلے کو ختم کروادیا اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اس غلط کاری کے سبب ایک طرف حکومت کے ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہوجاتے ہیں اوردوسری طرف کمرشل بینکاسی پیسے کو حکومت کو ادھار دے کر اس سے بھاری رقوم کما کر مزے اُڑا رہے ہیں۔