سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان کی حقوق کے حوالے سے اہم انکشاف کردیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز،زاہد حلیم) شہید بھٹو فاونڈیشن کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر قومی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان کی حقوق کے حوالے سے اہم انکشاف کردیا۔

اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس پاکستانی ہے زمین پاکستانی ہے وسائل پاکستانی ہے مارشل لاء لگانے اور کوڑے مارنے کیلئے پاکستانی ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ہے اگر ایسا ہی ہے تو ہم سے اپنا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ واپس لے لیں۔

پاکستان کا نام روشن کرنے میں گلگت بلتستان کے عوام کی کارکردگی شامل ہیں لیکن ہمیں حقوق نہیں دیا جارہا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں اصل حکومت بیورکریسی کی ہے اور بیورکریسی گلگت بلتستان کی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس کو میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔

ْ سید مہدی شاہ کا کہنا تھا کہ سی پیک میں چاروں صوبوں کیلئے حصہ ہے لیکن جب ہم سی پیک میں اپنا حق کا مطالبہ کریں تو متنازعہ بنایا جاتا ہے اب یہ فراڈ مزید ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے سوال کیا کہ اگر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے تو ہمارے سرحدوں پر فوج کس کے ہیں اور دو نشان حیدر کس کو دیا گیا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ یقینا گلگت بلتستان کی عوام بیدار ہوچُکی ہے اور ہم مزید نعروں پر بلکل ہی یقین نہیں کریں گے اگر وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے اور گلگت بلتستان کو صرف نعروں پر ٹرخانے کی کوشش کرتے ہیں تو میں سیاست چھوڑ کر گھر میں بیٹھنا پسند کروں گا کیونکہ ہم مزید اپنے عوام سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔

انہوں نے کشمیری قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاملات میں جب اُن سے مشاورت کرتے ہیں تو اُن کے معاملات میں بھی ہم سے مشاورت کرنا چاہئے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے قائدین نے 1947 میں بغیر کسی معاہدے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسکی سزا آج تک ہمارے عوام بھگت رہے ہیں۔