بون میرو سکینڈل،مزید16متاثرہ خواتین سامنے آ گئیں

حافظ آباد(سٹیٹ ویوز ) پنجاب کے شہر حافظ آباد میں گزشتہ روز خواتین کی ریڑھ کی ہڈی سے پانی(بون میرو)نکال کر اسے فروخت کرنے کا انکشاف ہوا تھا اور اب مزید 16 متاثرہ خواتین سامنے آگئیں جبکہ وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالے جانے والی متاثرہ خواتین کو میڈیکل ٹیسٹ کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ایم ایس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خواتین کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب سرنج کے نشانات پائے گئے ہیں۔اس ضمن میں مزید 16خواتین سامنے آئی ہیں جن کی بون میرو نکالی گئی تھی ۔گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے لڑکیوں کا بون میرو نکال کر فروخت کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او حافظ آباد سے رپورٹ طلب کی تھی۔

ڈی پی او حافظ آباد غیاث گل کا کہنا ہے کہ مبینہ طور خواتین کی ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالنے کا مقصد کیا تھا اس بارے میں جلد پیش رفت ہوگی جب کہ تمام ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ڈی پی او کے مطابق خصوصی کمیٹی 3 دن میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ دیگی جب کہ متاثرہ خواتین کے نمونے ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے ہیں اور رپورٹ آنے پر حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے بھی معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ سائرہ افضل تارڑ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر 3 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ غریب خواتین کو لالچ دے کر ان کی زندگیوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور واقعے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر معاملہ سمجھ سے باہر ہے، بون میرو نکالنا اتنا آسان نہیں، اگر اس میں گرفتار ملزمان ملوث ہیں تو انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔متاثرہ خواتین نے انکشاف کیا کہ گروہ کا سرغنہ ندیم 2 سو سے زائد خواتین کے بلڈ سیپمل اور مادہ جات نکال چکا ہے، اس حوالے سے ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین کے لیے چلنا پھرنا اور کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب کے شہر حافظ آباد میں غریب خواتین کو وزیر اعظم فنڈز کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر ان کی ریڑھ کی ہڈی سے خون نکالنے والے چار رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق 16 متاثرہ خواتین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں میڈیکل ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے تاہم ان کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آسکی جبکہ متاثرہ خواتین کے نمونے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹی بھی بجھوا دیئے گئے۔اس کے علاوہ پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کی نشاندہی پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ملازم ساجد کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا دعوی بھی کیا۔بعد ازاں ترجمان حافظ آباد پولیس کے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جہیز دلوانے کا جھانسہ دے کر خواتین کے جسم سے مواد حاصل کرنے والے گروہ کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان کے مطابق سرفراز نامی شخص نے اطلاع دی تھی کہ ندیم نامی شخص، جو خود کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کا ملازم ظاہر کرتا ہے، نے جہیز فنڈ دلوانے کا جھانسہ دے کر اس کی 16 سالہ بیٹی کنیزہ کے جسم سے مواد حاصل کیا جس کے بعد اس کی بیٹی کی طبعیت ناساز ہوگئی۔پولیس ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع کے بعد ایس ایچ او سٹی کی مدعت میں فوری مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ڈی پی او حافظ آباد نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیں اور مرکزی ملزم سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ دیگر گرفتار ملزمان میں آمنہ بی بی، عرفان اور اسلم شامل ہیں جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم ندیم نے انکشاف کیا کہ اس نے اب تک 12 خواتین کو جہیز دلوانے کا جھانسہ دے کر مواد حاصل کیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے مواد کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے پی ایف ایس اے کو بھجوا دیا گیا ہے

جبکہ ملزمان ندیم ، عرفان اور اسلم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔حافظ آباد میں جاری اس گھناؤنے عمل میں گرفتار ملزمان میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جن کے قبضے سے متاثرہ خواتین کی تصاویر، ان کے شناختی کارڈز، انجکشنز، ادویات اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا تھا۔