آزادکشمیرکےڈاکٹرزنےتحفظ دینےکامطالبہ کرتےہوئےکام چھوڑہڑتال شروع کردی

اسلام آباد( کاشف میر/سٹیٹ ویوز) محکمہ صحت کے ڈایریکٹر جنرل چوہدری بشیر کے ساتھ وکیل راجہ شہباز خان کی طرف سے مبینہ لڑائی اور ایف آئی آر کے بعد ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشن نے ریاست گیر کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی۔

ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر واجد علی خان نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے ملازمین خاص کر ڈاکٹرز اور انتظامی آفیسران کو سکیورٹی مہیا نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے آئے روز اس طرح کے نل خوشگوار واقعات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدم تحفظ کے شکار ہم لوگ تب تک کام جاری نہیں رکھیں گے جب تک ریاست ہمیں تحفظ نہ دے۔ انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں حملہ آور ہونے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

ڈی آئی جی مظفرآباد سردار گلفراز خان نے سٹیٹ ویوز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہر شہری کو تحفظ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ملزم کیخلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی لیکن ملزم نے سیشن کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت لے لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ایم ایچ۔ ایمز سمیت تمام بڑے ہسپتالوں میں پولیس تعینات رہتی ہے۔ ہم ڈاکٹروں کو ہر ممکن مزید تحفظ دینے کیلیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر موقع پر پولیس کو اطلاع بروقت دے دی جاتی تو ملزم کو وہیں سے گرفتار کیا جا سکتا تھا۔

دوسری جانب ڈی جی صحت عامہ بشیر چوہدری کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھا پائی کرنے والے راجہ شہباز احمد ایڈووکیٹ نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر ہیں ۔ اہلیہ کے ساتھ ہٹیاں میں دوران ڈیوٹی کسی نے تلخ کلامی کی تھی تو میں وہ شکایت لیکر ڈی جی صحت عامہ کے پاس گیا تھا لیکن ڈی جی نے میرے ساتھ انتہائی نا مناسب رویہ اپنایا۔ قبل ازیں راجہ شہباز خان ایڈووکیٹ نے مظفرآباد میں سنٹرل پریس کلب میں ساتھیوں کے ہمراہ کہا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر بے لگام بیوروکریسی کو لگام دیں۔ ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ انتہائی بدتمیز اور بد اخلاق آفیسر ہین ان کے دفتر میں جانے والے سائلین کی تضمیک کی جاتی ہے ہٹیاں بالا ہسپتال میں ہونے والے ناخوشگوار واقعہ پر اہم ان کے پاس گئے تو آفیسر موصوف نے اپنے غنڈوں کو بلا کر مجھے دفتر میں بند کر دیا ہے میں نے ڈی جی ہیلتھ کو ہاتھ تک نہیں لگایا کیوں کہ میں اکیلا تھا اور ڈائریکٹر جنرل صحت کے آفس میں درجنوں ملازمین موجود تھے۔

راجہ شہباز خان نے کہاکہ ہٹیاں ہسپتال میں میری اہلیہ ڈاکٹر ہیں چند دن قبل مریضوں نے میری بیوی اور دیگر ڈاکٹرزکے ساتھ بدتمیزی کی اس حوالے سے میں ڈی جی صحت کے پاس گیا کہ ہٹیاں بالا واقعہ مین کیا پیش رفت ہوئی اور ساتھ وہاں پر تعینات فی میل ڈاکٹرز اور عمل ہ کو تحفظ فراہم کیا جائے جس پر ڈی جی نے پہلے تو میرا مذاق اڑایا اور بعد ازاں اپنے دوستوں کے سامنے میری تذیلیل کرنا شروع کر دی اور کہا کہ کالا کوٹ پہن کر مجھے نہ ڈراؤ میں کالے کوٹ سے نہیں ڈرتا ایسے کالے کوٹ میں نے بہت دیکھے رکھے ہیں میں ڈی جی کی یہ باتیں سن کر حیران رہ گیا۔

راجہ شہباز نے کہا کہ میں نے ڈی جی صحت عامہ کو بتایا کہ میں سائل ہوں اور سائل کے ساتھ آپ کس طرح بات کررہے ہیں جس پر ڈی جی سیخ پا ہو گئے اور مجھے دھمکیاں دینی شروع کر دی ۔
راجہ شہباز نے کہا کہ میڈیکل ایسوسی ایشن والے اس معاملے پر نہ آئیں کیونکہ یہ ڈی جی اورسائل کے مسائل ہیں اگر میڈیکل ایسوسی ایشن نے احتجاج کیا تو پھر مظفرآباد سمیت ریاست بھر کے وکلاء بھی باہر نکلیں گے۔

قبل ازیں یہ اطلاع مطصول ہوئی تھی کہ راجہ شہباز ایڈووکیٹ نے ڈی جی صحت عامہ بشیر چوہدری کے دفتر جا کر انہیں دھمکایا اور حملہ آور ہوا جس پر ڈی جی صحت عامہ نے مقامی تھانے میں ان کے خلاف رپورٹ درج کرائی تھی۔

اس تنازعے کی اطلاع ملتے ہی صحت عامہ کی تنظیموں نے اعلان کردیا کہ ایمرجنسی سروسز کے علاوہ وہ کام چھوڑ ہڑتال کریں گے۔