گلگت کےممتازقانون دان کوسوشل میڈیا پرمتنازعہ پوسٹ لگانےپرجیل بھیج دیاگیا

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز/ زاہد حلیم) صدرسپریم اپلیٹ کورٹ بارکونسل، سابق چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان، سوشلسٹ رہنما، ممتازقانون دان احسان علی ایڈوکیٹ کوگلگت سےرات کےوقت ان کےگھرسےگرفتارکرلیاگیا۔

احسان ایڈوکیٹ کے خلاف گلگت خومر کے ایک رہائشی محمد علی ولد محمد رضا نے جوٹیال تھانے میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کرایا تھا جس کے بناء پرانہیں پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ ایک ماہ قبل احسان ایڈوکیٹ کو سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ پوسٹ شیئر کرنے پر انکے شخصیت اور عقیدے کے متعلق خوب پروپیگنڈہ کیا گیا جس کے بعد انہوں نے اسکی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسکا مقصد کسی کی مذہبی دل آزاری کرنا نہیں تھا نہ ہی اس پوسٹ کا مذہب سے کچھ تعلق ہے۔

انہوں نے اس معاملے میں آغا راحت حسین الحسینی سےملاقات بھی کی تھی اورمعافی بھی مانگی تھی لیکن سوشل میڈیا پرچند گمنام افراد کی جانب سے ان کے خلاف مسلسل پروپگنڈہ ہوتا رہا اور گلگت میں انکے خلاف وال چاکینگ بھی کیی گئی جس کے بعد پولیس نے اُنہیں گرفتار کیا۔ یاد رہےاحسان ایڈوکیٹ معروف قوم پرست رہنماء بابا جان، حسنین رمل اور ان جیسے دیگر گرفتار قوم پرست رہنماوں کے وکیل تھے اور انکے کیس بھی لڑتے تھے لیکن اب وہ خود گرفتار ہو گئے ہیں۔