اظہار خیال /سید وقار حسین جعفری

پیرا میڈیکس کا کردار اور اہمیت

بیماری ، صحت اور حوادث اتنے ہی قدیم ہیں جتنی انسان کی اپنی تاریخ ہے۔ بیماری ، حادثات اور ایمر جنسی کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے لئے انسان ہر دور میں اپنے علم، عقل و فہم کے مطابق اقدامات کرتا رہا ہے۔ اس میدان میں کبھی حکمت ، کبھی روحانی عاملوں ، کبھی ارویدک ، کبھی ہومیو پیتھک اور کبھی ایلو پیتھک نے حکمرانی کی۔ ہنگامی مدد اور علاج کے اس ارتقائی سفر میں باقاعدہ جدید تربیت کے حامل افراد اور ان کے پیشہ کا ظہور ہوا جو دنیا کے کسی بھی کونے میں مصیبت زدگان کی ہنگامی بنیادوں پر علاج ،مدد اور فلاح و بہبود کا کام کرتے ہیں۔ ان ہنر مند افراد کو پیرا میڈیکس کہتے ہیں۔

ایمر جنسی سروسز کی ابتدائی روئیداد یونانیوں اور رومیوں کے ادوار سے معلوم ہوتی ہیں جب ان زخمی سپاہیوں کو گھوڑوں اور چھکڑوں پر لاد کر میدان جنگ سے محفوظ جگہوں پر منتقل کیا جاتا تھا ۔ یہی طریقہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہوا ابتدائی ایمبو لینس سروس کی شکل اور پھر جدید ایمر جنسی سروس اور ٹراما سینٹرز کی صورت میں کل کی طرح آج بھی دکھی انسانیت کی خدمت میں محو ہے۔

اقوام عالم کو اس وقت جس قدر انواع و اقسام کے حادثات کا مسئلہ درپیش ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔زمینی و فضائی ٹریفک حادثات، جنگیں، دہشت گردی، وبائی امراض اور ماحولیا تی تبدیلیوں ، آفات سماوی و ارضی (زلزلے ، سیلاب ، نیوکلئیر سانحے وغیرہ) نے انسانی زندگی کو ناگہانی خطرات میں ڈال رکھا ہے اور اور کسی بھی لمحے کسی بھی مقام پر کوئی سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ان حالات میں ایمرجنسی سے نبرد آزما ہونے والے جدید تربیت سے آراستہ پیرامیڈیکل سٹاف کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید تاریخ میں اس سے قبل نہیں تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب میڈیکل اور ہیلتھ سائنسز میں نئی ایجادات اور دریافتوں کا انقلاب برپا ہوا تو علاج اور تشخیص کے روایتی طریقوں سے نکل کر جدید طریقہ کار کو اپنایا گیا جس سے عوام کے اندر ایسا رحجان پیدا ہوا کہ ہر فرد صحت اور ہیلتھ کئیرکو ماضی کے مقابلہ میں الگ نظر سے دیکھنے اور سوچنے لگا۔ اس نئی سوچ کی لہر نے عوام الناس کی میڈیکل ؍ہیلتھ کئیر کی ڈیمانڈ میں اضافہ کر دیا اور وہ میڈیکل سروسز جو کبھی اس بات تک محدود تھیں کہ یہ صرف بڑے بڑے ہسپتالوں میں ہی مہیا کی جا سکتی ہیں عوامی ضروریات اور ڈیماڈنڈ پر اب عام ہسپتالوں، چھوٹے کلینکس اور دور دراز علاقوں میں کمیونٹی کے مراکزصحت(RHCs, BHUs) وغیرہ میں بھی مہیا کی جارہی ہیں۔ ریا ست میں 1970 کی دہائی تک با قا عدہ تعلیم و تربیت کا انتظا م و انصرا م مو جود نہ تھا ۔ صرف کسی بڑ ے ہسپتا ل میں تجربہ کا ر افراد کے سا تھ کا م کرنا ہی ایک سرٹیفیکیٹ تصور ہو تا تھا۔ تا ہم 1975میں ریا ست میں پہلا پیرا میڈیکل سکو ل قا ئم ہوا جو اب تک سکول ہی ہے۔ جس کو اپ گریڈ کرنے اور جدید ٹیکنا لوجیز سے لیس کر نا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

اس رحجان نے صحت کی دیکھ بھال کو صرف ڈاکٹر اور نرس کے تصور سے آگے بڑھا کر ایک بہت بڑے نیٹ ورک سے جوڑ دیا ہے جو ڈاکٹر اور نرسز کے شانہ بشانہ جدید طرز پرامراض کی تشخیص، علاج معالجہ ، حفظان صحت اور بیماریوں کی روک تھام میں مصروف عمل ہیںجومخصوص پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی خصوصی مہارت کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں ان کو ہی دراصل پیرامیڈکس کہتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں ان کی اہمیت کو بھانپ لیا گیا ہے اور ان شعبہ جات میں اعلیٰ صلاحیتوں والے افراد بیماریوں کی تشخیص، بچائو، مریضوں کی بحالی،غذا اور غذائیت ، ہیلتھ پروموشن اورہیلتھ مینجمنٹ سسٹم میں اہم کردار ادا رہے ہیں۔ دینا بھرمیں پیرا میڈیکس کے مختلف شعبہ جات میں 4 سالہ BSc کے ڈگری کورس سے لیکر مختلف ٹیکنالوجیز میں Ph.Dکی تعلیم تک رسائی ممکن ہو چکی ہے اور پاکستان کی مختلف یونیورسٹیاں بھی ان کورسز کا اجراء کر چکی ہیں جو4 سالہ ڈگری کورسز کروارہے ہیں۔ مختصرا ًہم ان شعبوں کو چا ربڑے درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
1 .۔ Diagnostics
مثلا: Cardiovescular Technology ،لیبارٹری ٹیکنالوجی ریڈیالوجی اور Imaging Tech.، وغیرہ
Direct Patient Care -2
مثلا: سرجیکل ٹیکنیالوجی،,Vision Techمیڈیکل اسسٹنٹ، فزیوتھراپی اورResp. therapy وغیرہ
Non-Direct Care -3
4 ۔ Emergency Medical Treatment سروسز
اگر ہم پیرا میڈیکس کی ذمہ داریوں پر نظر ڈالیں تو یہ محکمہ صحت عامہ کا نہایت اہم ستون ہیں جو ایک ہسپتال، بنیادی مراکز صحت یا ایمبولینس سروس کے دوران مریض کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک پیرامیڈیکل فرد کو کسی بھی ایمر جنسی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کی مکمل تربیت؍ٹریننگ دی جاتی ہے جو کہ تین درجوں پر مشتمل ہوتی ہے:

الف۔زندگی بچانے کی بنیادی مدد فراہم کرنا (Basic Life Support(BLS)
ب ۔ زندگی بچانے کی ثانوی درجہ کی مدد فراہم کرنا(Intermediate Life Support(ILS)
ج۔ زندگی بچانے کی اعلیٰ درجہ کی مدد فراہم کرنا(Advanced Life Support(ALS)

پری؍ دوران ہاسپیٹل سروسز پیرا میڈیکس کا درج بالا صلاحیتوں حامل ہونا ضروری ہے۔ تاہم اس وقت ریاست میں ان صلاحیتوں کے حامل افراد کا اگر 45لاکھ آبادی میں تناسب دیکھا جائے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف بھی نہ ہو گا چونکہ ریاست کے لئے موجودہ آبادی میں محکمہ صحت عامہ کے پاس صرف 3000 تربیت یافتہ پیرا میڈکس اور 3500 معاون عملہ میسر ہے۔ جبکہ آبادی کے تناسب میں ایک عام ضرورت کے مطابق ریاست میں کم از کم10000ہزار پیرامیڈیکس کی ضرورت ہے جو مختلف کیڈرز میں اپنی خدمات سرانجام دینے کی کسی طور صورتحال کو ممکن بنا سکتے ہیں جس کی مثال یہ ہے کہ ریاست کے 10 ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میںکم و بیش10بلڈ بنک موجود ہیں جن کو فعال کرنے کے لئے صرف 10 پیرامیڈیکس ٹیکنیشز متعین ہیں جبکہ انتقال خون کی سروسز 24گھنٹے جاری رہتی ہیں ۔

اس سسٹم کو چلانے کے لئے کم از کم 100-80 تربیت یافتہ پیرامیڈیکس ٹیکنیشز درکار ہیں اسی نوعیت کی صورتحال دیگر شعبہ جات میں بھی ہے مثلاًمیڈیکل ٹیکنالو جی میں 1800تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہے جبکہ موجودہ 1050 میڈیکل ٹیکنیشنز کُلی یا جزوی طور پر دیہی علاقوں میں صحت کی سہو لیا ت مہیا کر رہے ہیں اسی طر ح شعبہ ڈینٹسٹری میں کُل موجو د تربیتی افراد 85ہیں جبکہ 220درکار ہیں اسی طرح شعبہ سرجیکل میں 90کوالیفائیڈ ٹیکنیشز موجود ہیں جبکہ 250درکار ہیں،کارڈیالوجی میںصرف 40تربیت یافرفتہ تیکنیشز ہیں جبکہ 130درکار ہیں پروینٹیو کئیر میں 700موجو دہیں جبکہ 1800درکار ہیں ،یو رالوجی/نفرالوجی میں صرف15ٹیکنیشن موجود ہیں جبکہ 80افراد کی ضرورت ہے، پتھالوجی لیبارٹری میں 120ٹیکنیشنز خدمات دے رہے ہیں جبکہ500کی ضرورت ہے ۔تحریر کی طوا لت سے بچنے کے لیئے اجما لی ذکر کیا ہے۔

گزشتہ سال حکومت وقت نے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ایمرجنسی مینجمنٹ / ٹرا ما سنٹر ز کے قیا م کا فیصلہ کیا ہے جو کہ کسی بھی ایمرجنسی میں متا ثرہ مریضا ن کو مفت طبی امدا د و علا ج کا اہتما م کر رہی ہے۔ جس کے لیئے کم ازکم درکا ر سٹا ف کی بھی منظو ری دے دی گئی ہے۔ اس صو ر ت حا ل میں اس امر کو ملحو ظ خا طر رکھنا نہا یت اہم ہو گا کہ دنیا میں را ئج دو معروف ایمرجنسی مینجمنٹ سروسز ما ڈل میں سے کس کا انتخا ب کیا جا ئے گا ۔ چو نکہ جب ہم ریا ستی عوا م کو فری ایمرجنسی سروسز مہیا کرنے کیلیئے کمر با ندھ چکے ہیں تو یقینا اس میں بہتری اور معیا ری سروسز کی فرا ہمی کو مد نظر رکھا جا ئے۔ اس کے لیئے دنیا بھر میں دو طرح کے طریقے رائج ہیں ۔

۱۔ فرینکو جرمن ما ڈل: ایک ماہر ٹرا ما فزیشن متا ثرہ فرد کی طبی جا نچ پڑتا ل اور علا ج کا فیصلہ کرتا ہے۔ ۲۔ اینگلو امریکن ما ڈل : ایمبو لینس سٹاف ، میڈیکل ٹیکنیشن جو کہ ALS,ILS,BLS میں تربت یافتہ ہو تے ہیں طبی جا نچ پڑتا ل اور علا ج کا فیصلہ کرتے ہیں۔

حا دثات ، ایمرجنسی اور اس نو عیت کے خطرات سے نبر د آزما ہو نے کے لیئے پر ی ہا سپیٹل یو نٹ کا قیا م بھی نا گزیر ہے جس کے تحت پیرامیڈیکس ٹریننگ آفیسر اور فزیشن پر مشتمل ایمرجنسی منیجمنٹ ٹیم کا انتظا م و اہتمام بھی لا زمی ہے۔ نیز سو سائٹی میں بیما ریو ں کے تبدیل ہو تے ہوئے رحجا ن کو مد نظر رکھتے ہوئے Bariatric ایمبو لینس کا اہتما م بھی وقت کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں سپیشیلا ئزڈ ایمرجنسی مینجمنٹ میں پیرا میڈیکل سٹا ف مستحسن طور پر اپنی خدما ت اسی وقت سر انجا م دے پائے گا جب تک ان کو مطلو بہ فنی و تکنیکی تربیت سے آرا ستہ کیا جا ئے جو کہ بذیل تین درجا ت پر مشتمل ہے۔

۱۔ پرا ئمری کئیر پیرا میڈیک ٹریننگ (PCP)۲۔ ایڈوا نس کئیر پیرا میڈیک ٹریننگ (ACP)۳۔ کریٹیکل کئیر پیرا میڈیک ٹریننگ (CCP) پیرا میڈیکس آج بھی گو ناگوں مسائل کا شکا رہیں 60سال کے بعد پیرا میدیکس کا سروس سٹریکچر خودپیرا میڈیکس کے نمائندوںنے مرتب کر کے حکومت سے منظور کروایا جس کا 9سال میں صرف ایک حصہ کلینکل پارٹ جزوی طور پر نافذ ہو سکا وہ بھی صرف گریڈ 17تک بالا آسامیوں پر تعیناتی خو اب ہی رہ گئی اس سروس سٹریکچر کے دیگر دو حصے ایجو کیشن اور استبداد کار بڑھانے کا اہتمام اور انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا طریقہ کار تو شرمندہ ِ تعبیر نہیں ہو سکا علاوہ ازیں دیگر مسائل محکمہ اور حکو مت کی پیرا میڈیکس سے عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہیں سینکڑوں مسائل آج کی اس تحریر میں احاطہ کرنا ممکن نہ ہین تا ہم 4جون2014 کو جناب وزیر ِ صحت عامہ آزاد حکومت ریاست جموںو کشمیر کی سر براہی میں اعلی ٰ سطحی میٹنگ کے منٹس از خودگواہ ہیں کہ پیرا میڈیکس کس قدر نظر انداز طبقہ ہے کہ سالو ں گزرنے کے باوجو د بھی ان کے مسائل کے حل کے لئے صحت عامہ کی انتظامیہ کے پاس کو ئی وقت نہیں ہے۔اس کے باوجود پیرا میڈیکس نہایت تند ہی کے ساتھ عوام الناس کو صحت کی سہو لیا ت پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔

16 فروری پیرامیڈیکس کا قومی دن کے طور پر منائے جانے کا فیصلہ پیرا میڈیکس کی قلیل ترین تعداد کے باوجود ریاست میں عوام کی خدمت کو جا ری رکھنے کا اعادہ، اس کو مزید بہتر اور جذبہ حب الوطنی کے تحت پیرا میڈیکس میں شعور بیدا ر کرنے کی کا وش ہے۔ مریضو ں کے لیئے فری میڈیکل کیمپس اور خو ن کے عطیا ت جمع کرنے کی کوشش اس با ت کا عزم صمیم ہیکہ پیرا میڈیکس معا شرہ میں دکھی انسانو ں کی خدمت کے لیئے ہر اوّل دستہ کا کردا ر ادا کر رہے ہیں۔
اللہ ہمیں صحیح اور درست عملی اقدامات کرنے کی توقیق عطا فرمائے (آمین)

کالم نگارسید وقار حسین جعفری مرکزی صدر پیرا میڈیکل سٹاف ایسو سی ایشن آزاد کشمیرہیں