مظفر آباد: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اپنےمطالبے پرڈٹ گئی

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز) ڈی جی صحت عامہ وکیل کا حملہ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ،ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے ملزم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے اور فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاتا اس وقت ایمرجنسی کے علاوہ تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں کام نہیں کیا جائیگا۔

صحت کے ملازمین کو جان ومال کا کوئی تحفظ حاصل نہیں۔وکیل کی جانب سے ڈی جی صحت پر حملہ نہیں بلکہ ریاست کی رٹ پر حملہ کیا گیا اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رٹ ثابت کرے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں ڈاکٹر راجہ شوکت، ڈاکٹر بشارت، ڈاکٹر ضیاد کیانی،ڈاکٹر منظور خان، ڈاکٹر نعمان بٹ، ڈاکٹر سلیم اور ہیلتھ ایمپلائز کے جنرل سیکرٹری میر عارف نے مرکزی ایوان صحافت میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی صحت پر حملہ کھلی دہشتگردی ہے آفیسران اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں لیکن ریاست انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہے۔نہ ڈاکٹر محفوظ ہیں نہ صحت کے دیگر ملازمین، مار دھاڑ بدتیمزی معمول بن چکی ہے۔اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اعلیٰ آفیسران کو بھی کھلی عام تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گڈگورننس والی حکومت اس موقع پر کہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وکلاء برادری کا احترام کرتے ہیں وکالت ایک مقدس پیشہ ہے اور یہ قانون کے رکھوالے ہیں۔عام آدمی بھی ان سے قانون قاعدہ سیکھتا ہے۔اگر قانون کے رکھوالے قانون توڑنے لگ جائیں تو پھر ریاست کہاں کھڑی ہو گی۔

انہوں نے سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور سینٹرل بار ایسوسی ایشن سے اپیل کی ہے کہ وہ راجہ شہباز جیسی کالی بھیڑوں کے خلاف خود ایکشن لیں اور قانون کے محافظ ہونے کا ثبوت دیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک کام نہیں کر سکتے جب تک ہمیں تحفظ نہیں دیا جاتا اور ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج ہم اپنے تحفظ کیلئے کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں ہم کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ہم اس صورت حال میں کیسے کام کر سکتے ہیں۔جب ہمیں جان ومال کا تحفظ ہی حاصل نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری میں جان بوجھ کر غفلت کا مظاہرہ کیا۔پولیس چاہتی تو ملزم کو فوری گرفتاری کیا جا سکتا تھا۔جبکہ انتہائی کمزور ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں دہشتگردی ایکٹ کی دفعات شامل نہیں ہیں۔