Syed Zahid Hussain Naeemi

اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

یادِرفتگان۔۔۔۔۔۔۔ سردار سجاد جعفر (مرحوم)

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے اپنے نقش چھوڑ جاتے ہیں، وہ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ انہی چند لوگوں میں سردار سجاد جعفر (مرحوم) بھی تھے۔ جو اب دنیا سے رخصت ہو کر وہاں چلے گئے ہیں، جہاں سے کوئی واپس نہیںآتا۔ ہاں ان کی یاد آتی رہے گی۔ سردار سجاد جعفر کا خاندان معزز، مذہبی اور سیاسی اوصاف کا حامل تھا۔ آپ کے دادا محترم مولوی محمد اقبال خان (مرحوم) ایک مذہبی اور سیاسی شحصیت تھے۔ خصوصاً تحریک آزادی کشمیر میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ ریاست پونچھ میں چلنے والی تحریک آزادی کی ابتداء اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مولوی اقبال خان کے گھر سے شروع ہوئی۔

جب ڈوگروں نے کشمیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا، ان کے خلاف کشمیریوں نے صدائے احتجاج بلند کیا تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ ڈوگرہ حکمران کو دو ٹوک پیغام دیا جائے کہ یا تو وہ کشمیریوں کی رائے کا احترام کریں یا پھر کشمیریوں پر حکمرانی سے الگ ہو جائے۔ 22 جون 1947ء کو مولوی محمد اقبال خان مرحوم کے گھر پر کشمیری رہنمائوں کا نمائندہ اجلاس تھا، جس میں مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری حمیداللہ سمیت اہم رہنمائوں نے شرکت کی تھی۔ جن میں سیّد حسن شاہ گردیزی کے ساتھ سردار محمد عبدالقیوم خان بھی شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں حلف پر عہد کیا گیا تھا کہ اگر ڈوگرہ حکمران کشمیر کا فیصلہ مسلمانوں کی مرضی کے خلاف کرے گا اور کشمیر میں اپنے مظالم بند نہ کرے گا تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے گا۔ چنانچہ یہی وہ پہلا اجلاس تھا جو تحریک آزادی کے لئے سنگ میل ثابت ہوا۔ 1947ء کے دور کا اندازہ لگائیں جب ڈوگروں کے خلاف بات کرنا موت کو دعوت دینا تھا۔ جبکہ اس طرح کا اجلاس وہ بھی اپنے گھر میں منعقد کرنا کتنی جان جوکھوں کا کام تھا۔ لیکن مولوی محمد اقبال خان مرحوم نے اپنی اور خاندان کی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ اہم اجلاس اپنے گھر میں رکھا جو یقینا ملک و قوم کے ساتھ اُن کی سچی محبت کا غماز ہے۔ یہ اجلاس ان کے بیدار مغز ہونے اور دور اندیش ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حکومت آزادکشمیر نے بعض ایسے لوگوں کو ایوارڈ دئیے ہیں جن کا تحریک آزادی سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ مولوی اقبال خان مرحوم کو اس حوالہ سے نظر انداز کرنا بڑے دکھ کی بات ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کے آبائی گھر جہاں یہ پہلا اجلاس ہو اتھا، تحریک آزادی کی یادگار بنائی جاتی، اس خاندان کی حوصلہ افزائی کی جاتی، لیکن افسوس کے ان کے لئے دو بول بھی بولنے سے حکمران قاصر رہے۔ مولوی محمد اقبال خان (مرحوم) اور ان کے بیٹوں نے اپنی محنت اور رزق حلال سے اولاد کی پرورش کی اور اُنہوں نے کبھی بھی اپنی تاریخی حیثیت کا فائدہ نہیں اٹھایا، نہ نوکریاں حاصل کیں اور مراعات حاصل کیں۔ لیکن حکمرانوں کا فرض تو بنتا تھا کہ ان کی تاریخی حیثیت کا اعتراف تو ضرور کرے۔ بہرحال یہ لمحہ فکریہ ہے۔

سردار سجاد جعفر (مرحوم) قوم کے اس عظیم رہنما مولوی محمد اقبال خان (مرحوم) کے پوتے ہیں، اُنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے بہت مختصروقت میں ملکی سیاست میں ایک مقام حاصل کیا۔ سردار سجاد جعفر 1956ء میں مولوی محمد اقبال خان (مرحوم) کے چھوٹے بیٹے سردار جعفر خان (مرحوم) کے ہاں پیڑکوٹ (پیرکوٹ) پوٹھی مکوالاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر اپنے تایا سرادر محمد صابر خان ایڈووکیٹ کے ساتھ کراچی چلے گئے۔ ازاں بعد واپسی پر ہائی سکول پوٹھی مکوالاں میں داخل ہوئے۔ 1968ء میں اسی سکول سے مڈل سٹینڈرڈ کا امتحان پاس کیا، پھر کچھ عرصہ سردار صابر خان (مرحوم) کے ساتھ کراچی میں رہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت ایف اے پھر بی اے پاس کیا، ساتھ ہی جامعہ کراچی سے ایل ایل بی کیا۔ کچھ عرصہ محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے اور ایگروٹیک ٹیچر کے طور پر تدریسی فرائض انجام دئیے۔ ایک سالہ کورس تربیت اساتذہ ایگروٹیک مظفرآباد سے کیا، پھر بہتر مستقبل کے لئے عرب امارات اور سعودی عرب چلے گئے۔ جہاں کچھ عرصہ محنت مزدوری کے ذریعے رزق حلال سے اپنے خاندان کی کفالت کرتے رہے۔

پھر مزید درخشاں مستقبل کی خواہش لئے دیارِمغرب جا پہنچے، پہلے امریکا اور پھر کینیڈا میں جاکر سکونت اختیار کر لی۔ جہاں آپ کا پیزے کا بڑا وسیع کاروبار اور جنرل سٹور تھے۔ ازاں بعد اپنے بچوں کو ساتھ لے گئے، سرادر سجاد جعفر کو سیاسی شعور گھر سے ملا تھا۔ اُن کا خاندان بنیادی طور پر مسلم کانفرنسی تھا، لیکن یہ بعد میں آزادکشمیر مسلم کانفرنس میں شامل ہو گئے۔ اس لئے کہ ان کے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے گہرے مراسم تھے، لہٰذا جہاں چوہدری صاحب جاتے رہے، سجاد جعفر کو بھی ساتھ لے جاتے رہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی میں بھی سرگرم رہے اور اب پاکستان تحریک انصاف میں تھے۔ سردار سجاد جعفر نے نہ صرف آزادکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کو برقرار رکھا، بلکہ کینیڈا میں بھی جاکر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ وہاں ایک بڑا حلقہ احباب بنا لیا تھا، لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے، یہ سلسلہ ان کے انتقال تک جاری رہا۔

میری اُن سے پہلی ملاقات جامع مسجدغوثیہ سپلائی بازار میں پچیس سال پہلے ہوئی۔ جب نمازِجمعہ پڑھ کر میں نے صلوٰۃ و سلام پڑھایا، یہ انداز ان کوپسند آیا۔ مسجد سے باہر انتظار کرتے رہے، مجھے ملے، میری حوصلہ افزائی فرمائی، پھر پکی دوستی ہو گئی۔ اس کے بعد وہ ہائی سکول پوٹھی مکوالاں بطور مدرس تشریف لائے۔ اُن دنوں راقم السطور بھی اسی سکول میں پڑھاتا تھا۔ ہمارا تعلق دوستوں سے بڑھ کر بھائیوں جیسا تھا۔ وہ بہت خوبصورت مزاح بھی کر لیتے تھے، پھر بیرونِ ملک چلے گئے۔ سلسلہ ملاقات منقطع ہو گیا۔ میں اخبارات میں لکھتا تھا، راقم السطور نے 22 جون 1947ء پر ایک کالم لکھا جو اخبارات میں سردار سجاد جعفر نے پڑھا۔ کوئی ٹیلیفونک رابطہ بھی نہ تھا۔ وہ ریکارڈ رکھتے رہے، جب گھر آئے تو مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، یوں ایک طویل عرصہ کے بعد راولاکوٹ میں اُن سے ملاقات ہوئی۔ انہیں بہت خوشی ہوئی کہ تحریک آزادی پر میں نے ایک کتاب ’’کشمیر جدوجہد آزادی‘‘ لکھی ہے۔ اس کتاب کے پانچ نسخے حاصل کیے اور کینیڈا لے جا کر اپنے دوستوں میں تقسیم کیے۔

راقم السطور نے مولوی محمد اقبال (مرحوم) اور 22 جون پر لکھے جانے والے کالم و مضامین کی ایک ایک کاپی اُن کو بھی دی اورساتھ ہی عرض کی کہ 22 جون کے حوالہ سے آپ اپنے گھر پر پروگرام رکھا کریں تاکہ نئی نسل اس دن کی اہمیت سے واقف ہو سکے۔ چنانچہ اُنہوں نے اس طرح کے ایک دو پروگرام جب وہ گھر تھے تو رکھے تھے۔ وہ مستقبل میں ایک لائبریری اور میوزیم کا ارادہ بھی رکھتے تھے۔ مولوی محمد اقبال خان (مرحوم) پر لکھی جانے والی تحریروں کو کتابوں کی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، لیکن موت نے اُن کو مہلت ہی نہ دی، یوں وہ 24 جنوری صبح 6 بجے مختصر علالت کے بعد اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ شام 4 بجے نمازِ جنازہ حسین شہید کالج گرائونڈ میں ادا کیا گیا اور یوں سینکڑوں دوستوں کو وہ غمزدہ کرکے آخرت کی منزل کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کے دو بیٹے کامران سجاد اور عثمان سجاد ہیں، جبکہ ایک بیٹی شادی شدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے سماجی کاموں کو ان کے لئے صدقہ جاریہ فرمائے۔