قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

مجھےکیوں نکالا سےآئی لویوتک کاسفر

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بہا دری ، مستقل مزاجی سے مجھے کیوں نکالا؟ سے شروع کیا جانے والا سفر عوام کی طرف سے آئی لویونواز شریف تک لے آئے ہیں ،لودھراں کے الیکشن میں ایک درویش ٹا ئپ شخص کاعلاقے کے بڑے جا گیر دار ، ایک صنعتکاراورپاکستان تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان کے دست راست کے ارب پتی بیٹے کو ہرانابھی یہ ثابت کررہا ہے یہ سفر کامیابی کی طرف گامزن ہے اور ساتھ یہ بھی کہ میاں نوازشریف کا عدل کے حوالے سے اور تعمیر و ترقی کی سزا دینے کا بیانیہ عوام میں مقبول ہونے لگا ہے اورعمران خان کی گالم گلوچ اور لچوں لفنگوں والے الفاظ کی سیاست مسترد ہونے جا رہی ہے ، لوگ تو کہتے ہیں کہ عمران خان کی پیرنی بھی انکے کسی کام نہیں آئی اور ایک پیر نے ان سے سیٹ کیساتھ ساتھ انکا پانچ سال کا بیا نیہ بھی چھین لیا ہے ، مجھے کیوں نکالا ؟ کی آواز جب نواز شریف نے دی تو اسکا اپوزیشن اور سوشل میڈیا پر بیحد و بیشمار تمسخر اڑایا گیا ، لیکن اس تمسخر نے اس آوازکو وہ طا قت بخشی کہ ملک کے تمام پا ور کوریڈورز اور طاقت کے سٹیک ہولڈرز کو اسکا کسی نہ کسی شکل میں جواب دینا پڑا .

لاہور میں طا ہر القادری کی طرف سے ایک مضبوط موقف کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش اور بلیک میلنگ کی سوچ نے نہ صرف مسترد کردیا بلکہ لاہورمال روڈ پر پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان ، پاکستان پیپلز پارٹی کے جناب آصف علی زردرای اور مسلم لیگ ق کےجنا ب چوہدری شجاعت اورعوامی مسلم لیگ کے جناب شیخ رشید نے ایک بڑے شو کرنیکی پلاننگ ، پنجاب کو فتح کرنے کے سہانے خواب کے چکر میں اپنی سیاست کا جنا زہ نکلوا دیا ، میں بطور ایک صحا فی اور پاکستان کے شہری کے قطعی طور پر اس حق میں نہیں ہوں کہ پاکستان کے ادارے کسی بھی قسم کی سیاسی اکھاڑ پچھا ڑ کا حصہ بنیں ، جس طرح سے کو ئی فوجی اچھا سیاستدان نہیں بن سکتا ، کو ئی سیاستدان انصاف کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا اسی طرح کو ئی معزز جج بھی سیاست نہیں کرسکتا اورنہ اسکو کرنی چا ہئے، اس وقت سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا حالات تھے یا ہیں؟ کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کو اس پر انگلی اٹھا نی پڑی ؟ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پانامہ کیس میں تین سو سے زائد افراد کے نام تھے ، دیکھنا یہ ہے کہ شریف فیملی کے سوا کتنوں کو عدالت بلوایا گیا ؟اور اگر کرپشن کی بات کی جا ئے تو ملک میں کرپشن کے ناموں میں میاں نواز شریف سے بھی بڑے نام ہیں ۔ انکو کو کیوں لاڈلا رکھا گیا ہے ؟یہ سچ ہے حاکم وقت کا احتساب کرنا مشکل اور دل گردے کاکام ہے ، اور سپریم کو رٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسمیں دل گردہ ہے ، لیکن اس د گردے کے ہونے کے ثابت کرنے میں اگر یہ احساس ہونا شروع ہو جائے کہ کوئی خاص شخص کسی خا ص وجہ سے نشانہ بنا ہے تو پھر معذرت کیساتھ وہ انصاف انصاف نہیں رہتا وہ انتقام بن جا تا ہے ۔

لہذا سپر یم کورٹ کو اپنے روئیے میںیہ ثا بت کرنا ہو گا کہ وہ غیر جانبدار ہے تو ہی یہ اسکی عوام میں عزت کا با عث بنے گی وگرنہ میاں نوازشریف ، اورمریم نواز کے سوالات سڑکوں پر ، اور اگر وہ پابند سلا سل ہو تے ہیں تو جیلوں سے انکا پیچھا کرتے رہینگے ، اس وقت ضرورت ہے رویوں میں میانہ روی کی اور اداروں کے درمیان خلیج کی بجا ئے اعتماد کی ، اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ پاکستان میں سیاسی بحرا ن کیوں آیا یا لایا گیا ؟اپوزیشن اور حکومت کے اعلیٰ حلقے اس با ت کو سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو یہ سزا ملنا ہی ملنا تھی چا ہے اس وقت پانامہ ہوتا یا نہ ہوتا ۔ اس کیلئے ایک ٹائم فریم تھا اوراسی ٹائم فریم میں نواز شریف کو گھر بھیج دیا گیا ، یہ ایک تھیوری ہے جو گردش کررہی ہے کہ میاں نوازشریف کوسی پیک بنانے اور چا ئینہ کو قریب لانے سے منع کیا گیا تھا ، جب فوج اور سیاسی حکومت سی پیک کیلئے ایک صفحہ پر آگئی اور سی پیک پر کام آنا فانا ہونا شروع ہوگیا تو اسی وقت انٹرنیشنل پلیئرز نے میاں نواز شریف کو فکس کرنے کافیصلہ کرلیا تھا اور انہو ں نے یہ کرکے دکھا دیا ، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں چینی اور انٹرنیشنل پا ور پلیئرز کی لابنگ میں سرد جنگ ہو رہی ہے ، جس پر ہم کو کبھی یہ لگتا ہے کہ میاں نواز شریف survive کرجا ئیں گے اور کبھی ایسے لگتا ہے کہ انکی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہونےجارہی ہے ، جیسا کہ شریف فیملی کے کٹرمخالف اکثر میرے آرٹیکلز کے جواب میں مجھے وٹس ایپ کرتے ہیں کہ شریف فیملی اب سیاست میں نہیں آسکے گی اسلئے انکی حما یت چھوڑ دیجئے۔ حالانکہ میں کسی کی حما یت نہیں کرتا میں تواس کو سپورٹ کرتا ہوں جو اس ملک کے لئے بہترہے، ریکا رڈ پر ہے کہ اسی کالم میں جب عمران خان نے بلین ٹری سونامی کا اعلان کیا تو میں نے انکو خراج تحسین پیش کیا ، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جس طرح سے اس ملک کو کرپشن سے فری کرنیکی ضرورت ہے اس سے بھی زیا دہ ہم کو اس ملک کو گرین کرنے کی ضرورت ہے ،جو بھی اس ملک اور عوام کیلئے اچھا کام کریگا اسکی تحسین اور سپورٹ ہما را فرض اول بن جاتا ہے

قا رئین کرا م!
میں یہ سمجھتا ہوں کہ گز شتہ ستر سالو ں میں پہلی با ر پاکستان نے درست سمت کا تعین کیا ہے ،چا ہے یہ اندرونی پالیسیوں کے حوالے سے ہو یا خا رجہ پالیسی کے حوالے !آج کا پاکستان بہتر اور درست انداز میں نہ صرف فیصلے کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وہ عالمی کھیلوں کے اسرار و رموز بھی سمجھنے لگا ہے ، یہی وجہ ہے کہ مودی کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہا تھ میں لینے ، وا شنگٹن میں پاکستان کی لابنگ فرمز نہ ہونے کے با وجود ، اور ٹرمپ انتظامیہ پر نئی دھلی کا بیحد اثر و رسوخ ہو نے کے با وجو د آپ پاکستان اپنی افغان پالیسی اور کشمیرپالسیی پر سینہ تانے کھڑ اہے.