اخباری صنعت سے وابستہ کارکنان کی حق تلفی پر سی یوجے بھی میدان میں آگئی

مظفرآباد(نیوزڈیسک)آزاد کشمیر بھر میں بالعموم دارلحکومت مظفرآباد میں بالخصوص اخباری صنعت سے وابستہ صحافی کارکنوں کی حق تلفی اور بدوں نوٹس فراغت ، اجرت کی عدم ادائیگی سمیت تاخیری حربوں کیخلاف سینٹرل یونین آف جرنلسٹس مظفرآباد کا متاثرہ صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور ان کے حقوق کی بازیابی کیلئے زبردست علامتی احتجاجی مظاہرہ اور ریلی ،19 فروری تک کارکنوں کے جائز مسائل کا حل نکالنے کا مطالبہ ۔

شرکاء نے ہاتھوں میں کتبے ، پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ جن پر ورکرز کو درپیش مسائل سے چھٹکارا دلانے، اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم ، فرائض سے غفلت ، پسندو ناپسند ، مخصوص طبقوں کے مفادات کے تحفظ اور ناانصافیاں ، زیادتیاں بند کرنے کی تحریریں درج تھیں جبکہ زندہ ہے صحافی زندہ ہے ۔ ورکرز کیساتھ محکمہ اطلاعات کی علیحدہ نشست کا مطالبہ۔ ہمیں ہمارا حق دو، کارکنوں کا معاشی قتل بند کرو ، بیروزگاری کی پالیسیاں نامنظور ، کے نعروں سے فضاگونج اٹھیں۔

ریلی کی قیادت سنٹرل یونین آف جرنلسٹس کے ضلعی صدر مسعود الرحمان عباسی ، بانی وائس چیئرمین پریس فاؤنڈیشن سردار ذوالفقار علی ، مرکزی جنرل سیکرٹری سی یو جے عبدالحکیم کشمیری ، رضا کاظمی ، جہانگیر اعوان ، آصف رضا میر ، عارف عرفی سمیت سینئر صحافیوں نے کی ۔ریلی میں سینئر نائب صدر سی یو جے ہارون قریشی ،سیکرٹری اطلاعات سینٹرل یونین آف جرنلسٹس محمد اقبا ل میر، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری مرزا شہزاد، جوائنٹ سیکرٹری شہزاد یعقوب ، ممبران مجلس عاملہ راجہ اعجاز، عمراعوان ، اشرف تبسم سینئر صحافیوں راجہ افتخار، مرزا اختر، انصر صدیق خواجہ، اذکار نقوی، سید اشفاق شاہ، نعیم عباسی، پرویز کٹھانہ، نسیم مغل، نصیر چوہدری، اعجاز کاظمی، راجہ عبدالرشید، شان قریشی، فواد عباسی، بنارس راجپوت، وقاص کاظمی، مشکور احمد، ثاقب حیدری اور پٹہکہ سے جاوید عباسی سمیت کثیر تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

علامتی احتجاجی مظاہرہ میں ’’ہمیں ہمارا حق دو‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے اور 15000 روپے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر مسعود الرحمان عباسی نے کہا کہ آزادکشمیر میں ویج بورڈ نفاذکیا جائے اور لیبر لاء پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ورکرز اور مالکان علیحدہ علیحدہ ہیں محکمہ اطلاعات اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور صحافیوں کیساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا جائے تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل سے چھٹکارا مل سکے ۔ پریس فاؤنڈیشن صحافیوں کی فلاح و بہبودکیلئے بنایا گیا ادارہ ہے جہاں صحافیوں کی فائلیں مہینہ مہینہ اور سال سال تک پڑی رہتی ہیں جو ناانصافی ہے اس معاملے کو پریس فاؤنڈیشن جلد ازجلد حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک جسم دو جان کی طرح دن رات محنت کرکے مخلوق خدا کی ذہنی ، فکری ، اور قومی عالمی حالات سے آگاہی پہنچانے والے طبقات کے درمیان باوقار مفاہمت کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لئے بعض اخباری مالکان استحصال ، جبر ، زیادتی تنخواہوں کی عدم ادائیگی ، بغیر جواز فراغت کی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کریں بصورت دیگر اپنے کارکنوں کے جائز حقوق کے لئے سخت گیر مزاحمت بھی کرنا پڑی تو سب سے پہلے سنٹرل یونین اپنی ماضی کی شاندار روایات پر کوئی قدغن نہیں لگنے دے گی ۔ حکومت آزاد کشمیر کی پالیسیوں اور اعلانات پر عملدرآمد کے بجائے اگر خود محکمہ اطلاعات ہی انہیں ہوا میں اڑا دے تو پھر سوال تو بنتا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان آستین کے سانپوں کو تلاش کریں ۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والے اہل قلم کے حقوق کیلئے احتجاج کرتے ہوئے ہمیں ندامت ہوتی ہے کہ 21ویں صدی میں کن ذمہ دار لوگوں سے تقاضہ کرتے ہیں لیکن شرعی ، جمہوری ، اخل…