آزادکشمیرحکومت کوبااختیاربنانےبارےوفاقی حکومت کیا پیش رفت کرنےجارہی ہے؟

رپورٹ:خواجہ کاشف میر
اسلام آباد: سٹیٹ ویوز
وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کشمیر کونسل کے اختیارات کم کرنے اورریاستی حکومت کو اٹھارویں ترمیم کی طرزپر اختیارات دینےکیلئے وزیر اعظم آزادکشمیر سے حتمی سفارشات طلب کر لی ہیں، ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزارت قانون دیگر اداروں کے ساتھ ملکر رپورٹ مرتب کرے گاجس پر وزیر اعظم پاکستان منظوری دیں گے۔

وزیراعظم پاکستان کے ساتھ آزادکشمیر کو با اختیار بنانے اور کشمیر کونسل کے خاتمے کیلئے وزیر اعظم آزادکشمیر اور دیگر وفد کی جو اہم ملاقات ہوئی ،اس میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کشمیر کونسل کے خاتمے اور آئینی ترامیم اور توانائی منصوبوں کے معاہدے کرنے کے حوالے سے اپنے تمام تحفظات کا کھل کر اظہار کیا جس پر وزیر اعظم پاکستان نے جب ان تمام تنازعات کو نمٹانے کیلئے ایک نئی کمیٹی بنانے کی تجویزدی تو راجہ فاروق حیدر خان نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ ہمیں با اختیار نہیں کرنا چاہتے ، یا ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔ کیونکہ اس سے قبل بھی وفاقی حکومت نے مختلف ادوار میں ایسی ہی سات مختلف کمیٹیاں بنارکھی ہیں۔

farooq-haider

ذرائع کے مطابق راجہ فاروق حیدر خان نےکشمیر بارے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے آزادکشمیر حکومت کو با اختیار نہیں کرنا تو ہمیں صاف صاف بتا دیں ، تاکہ ہم آزادکشمیر کی عوام کو آگاہ کر سکیں کے آپ کی منتخب حکومت کو اختیارات دینے کیلئے کون اصل رکاوٹ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس اہم ملاقات میں کشمیر کونسل کے ذمہ داران نے کونسل کے خاتمے یا اختیارات میں کمی کرنے کی مخالفت کی تاہم وزیر اعظم پاکستان نے اطراف کے دلائل سننے کے بعد وزیر اعظم آزادکشمیر کو کہا کہ وہ فوری طور پر آئینی اختیارات اور کشمیر کونسل بارے سفارشات تیارکرا کے بھیجیں تا کہ وزارت قانون سمیت دیگرسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاوت کے بعد آزادکشمیر حکومت کو با اختیار کیا جائے ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے راجہ فاروق حیدر خان کو یقین دلایا کہ مسلم لیگ ن اپنے اسی دور حکومت کے دوران آزادکشمیر حکومت کو با اختیار کرنے سمیت اہم ترقیاتی منصوبوں بارے فیصلے کر کے ان پر عملدرآمد بھی کرادے گی۔

قبل ازیں سابق وزیر اعظم وپی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اپنا یہ موقف دے چکے ہیں کہ کشمیر کونسل کو آزاد کشمیر کے ٹیکس جمع کرنے کے اختیارات آئینی نہیں بلکہ 23اگست 1979 ء کو جب پاکستان اور آزاد کشمیر میں آمریت کا دور تھا ایک سیکریٹری سروسز سردار آفتاب خان کے دستخطوں سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں یہ اختیار کشمیر کونسل کو دیا گیا تھا جس میں آزاد کشمیرحکومت کے ٹیکس جمع کرنے کے اختیارات عارضی طورکشمیر کونسل کو دئیے گئے تھے جس میں 20% فیصد کونسل اپنے پاس رکھے گی اور 80%فیصد حکومت آزاد کشمیر کو دے گی۔یہ نوٹیفکیشن چونکہ جنرل حیات خان کی حکومت نے پاکستان کے جنرل ضیاء الحق کے ایماء پر کیا تھا،لہذا آزاد کشمیر کی یہ حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کشمیر کونسل سے یہ اختیارات واپس لے کر آزاد کشمیر حکومت کو دے سکتی ہے۔ کیونکہ نوٹیفکیشن میں ہے کہ آزاد کشمیر حکومت یہ اختیارکسی بھی وقت کشمیر کونسل سے واپس لے سکتی ہے جس سے کشمیر کو نسل کی اجارہ داری ختم ہو سکتی ہے۔

آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بیٹھی پارلیمانی اپوزیشن اور ایوان کے باہر سیاسی اپوزیشن وفاقی حکومت سے آئینی اختیارات کے حصول سمیت ریاستی ایشوز پر مکمل خاموش نظر آتی ہے۔ معلوم ہوا ہےکہ وزیر اعظم آزادکشمیر کی کیبنٹ میں بیٹھے سینئر وزیر بھی وفاقی حکومت سے آئینی اختیارات لینے کی درپردہ مخالفت کر رہے ہیں جبکہ آزادکشمیرقانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدر ی یاسین بھی آئینی ترامیم کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے سٹیٹ ویوز نےسینئر وزیر چوہدری طارق فاروق سے رابطہ کیا اور آئینی اختیارات بارے موجودہ پیش رفت پر سوال کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اس موضوع پر مزید بات کرنے سے انکار کردیا کہ وہ آئینی اختیارات یا کشمیر کونسل کے خاتمے بارے معلومات نہیں رکھتے۔

جموں کشمیر کونسل کے سربراہ پاکستان کے وزیر اعظم ہوتے ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے صدر کونسل کے وائس چیئرمین ہوتے ہیں۔چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ کونسل کے تیرہ ارکان ہوتے ہیں۔جن میں سے پانچ ارکان وفاقی پارلیمینٹ سے لیے جاتے ہیں جنھیں وزیر اعظم پاکستان نامزد کرتے ہیں۔پاکستان کے وزیر برائے کشمیر امور بھی عہدے کے لحاظ سے اس کے رکن ہوتے ہیں جبکہ چھ ارکان،آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی ارکان ووٹ کے ذریعے منتخب کرتےہیں اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بھی کونسل کے رکن ہوتے ہیں۔

کشمیر کونسل نہ صرف قانون ساز ادارہ ہے بلکہ اس کے پاس انتظامی اختیارات بھی ہیں اور وہ اختیارات وزیر اعظم پاکستان استعمال کرتے ہیں ۔عبوری ایکٹ74 کے تحت آزاد کشمیر کے اہم ترین قانونی اور انتظامی اختیارات جموں کشمیر کونسل کو سونپ دیے گیے تھے۔کشمیر کونسل کے دائرہ اختیار میں باون اہم شعبے ہیں جن کے متعلق قانون سازی اور انتظام کے اختیارات بھی کونسل کے ہی پاس ہیں۔ سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے ججز کا تقرر ، چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل کی تقرری کے اختیارات بھی چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس ہیں۔اس کے علاوہ اس عبوری ایکٹ میں آزاد کشمیر سے بجلی و پانی پیدا کرنے کے اختیارات ، سیاحت ، آبادی کی منصوبہ بندی ، بینکنگ ، انشورنس ، سٹاک ایکسچینج اور مستقبل کی منڈیاں ، تجارتی ادارے ، ٹیلی مواصلات ، معاشی روابط کیلئے منصوبہ بندی ، ہائی ویز ، کان کنی ، آئل اینڈ گیس ، صنعتوں کی ترقی اور اخبارات کی اشاعت کا اجازت نامہ بھی کشمیر کونسل سے لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں آزاد حکومت کی آمدنی کے بڑے ذرائع انکم ٹیکس سمیت متعدد دیگر ٹیکسز جمع کرنے کا اختیار بھی کشمیر کونسل کے پاس ہے۔ اس سے قبل 1949 میں آزاد کشمیر کے اس وقت کے صدر، حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ اور پاکستان کے وزیر مشتاق گورمانی کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت دفاع، کرنسی، خارجہ امور اور مواصلات کے تمام اختیارات پہلے ہی حکومت پاکستان کو سونپ دیے گئے تھے۔