زیرسمندرقدیم آتش فشاں پھٹنےکوتیار، سونامی اور زلزلوں سے10 کروڑ افراد کےلیےخطرہ

اسلام‌آباد (مانیٹرنگ دیسک) جاپان میں زیر سمندر ایک قدیم ترین آتش فشاں پھٹنے کو تیار ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس میں 10 کروڑ لوگوں کو ہلاک کرنے کی طاقت موجود ہے ۔

برطانوی خبررساں ادارے کے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ آتش فشاں 7300 سال قبل بھی پھٹا تھا جبکہ اس کے پھٹنے سے قبل پیدا ہونے والے ابھار کا پھیلاؤ تقریباً 10 کلومیٹر ہے جبکہ یہ 1968 فٹ بلند ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں 2 مکعب کلومیٹر لاوا موجود ہے ۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ آتش فشاں بغیر وارننگ کے کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کے نتیجے میں10 کروڑ لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں جبکہ آتش فشاں کے دھویں کی وجہ سے مصنوعی انداز سے سردی شروع ہو سکتی ہے ۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آتش فشاں کے نتیجے میں سونامی بھی آ سکتی ہے جو جنوبی جاپان اور چین کے علاقے تائیوان کو متاثر کر سکتی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کوبے یونیورسٹی کے کوبین اوشن بائم ایکسپلوریشن سینٹر ( کوبیک) کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں تصدیق کی گئی ہے کہ 7300 سال قبل یہی لاوا پھٹنے کے نتیجے میں جنوبی جاپان میں قدیم ترین جومون تہذیب صفحہ ہفستی سے مٹ گئی تھی۔