کشمیرکونسل کےآئینی کردارکوبحال رکھتےہوئےدائرہ کارگلگت بلتستان تک بڑھایا جائے، سردارعتیق

رپورٹ: کاشف میر
اسلام آباد: سٹیٹ ویوز

صدر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس و سابق وزیر اعظم سردارعتیق حمد خان نے کہا ہے پیپلز پارٹی دور حکومت میں آئینی ترامیم کے مسودے کی تیاری کے دوران کبھی بھی کشمیر کونسل کے خاتمے پربات چیت نہیں کی گئی۔ کشمیر کونسل ، وزارت امور کشمیر کے بعد کا ایک قابل قبول ارینجمنٹ تھا ۔ کشمیر کونسل، مظفرآباد اور اسلام آباد حکومتوں کے درمیان ایک آئینی پل ہے۔ کونسل کے انتظامی اور مالی اختیارات محدود کر کے آئینی اختیار بحال رکھا جائے اورگلگت بلتستان کو بھی اس کشمیر کونسل میں نمائندگی دی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجاہد اول منزل راولپنڈی میں اے کے این ایس کے صدر عامر محبوب، ایڈیٹر جموں کشمیر شہزاد احمد راٹھور، ایڈیٹر سٹیٹ ویوزسید خالد گردیزی، ایڈیٹر پارلیمنٹ ٹائمز جاوید اقبال اور کنٹرولر نیوز سٹیٹ ویوز کاشف میر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عثمان عتیق خان بھی موجود رہے۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں کمیٹی بنی تھی جس کی سربراہی وزیر حکومت (وقت) مطلوب انقلابی کررہے تھے اس میں پارلیمنٹ میں موجود ہم سب لوگ شامل تھے۔ بلکہ جو جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر موجود نہیں تھی ان کو بھی مشاورت میں شامل کیا گیا تھا ۔ اس حوالے سے اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں سمینار کا انعقاد بھی کیاگیا تھا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ایکٹ 1974 کے حوالے سے روز اول سے ایک تشویش پائی جاتی ہے اور وہ تشویش یہ ہے کہ ایک زمانے میں لوگ (جب میرا بھی بچپن تھا) آزادکشمیر کے سیاستدانوں کو وزارت امور کشمیر سے سنگین قسم کا گلا ہوتا تھا اور ایک جوائینٹ سیکرٹری کا ذکر بار بار ہوتا تھا کے وزارت امور کشمیر کا جوائینٹ سیکرٹری تمام اہم معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔ ایکٹ میں ترمیم کر کے جب کشمیر کونسل بنائی گئی تو ہمارے نزدیک اس وقت وہ ایک بہتراور قابل قبول ادارہ بن گیا تھا کیونکہ وزیر اعظم پاکستان اس کے سربراہ بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر امور کشمیر کوئی غلطی کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ادارہ ہی ٹھیک نہیں۔ اس وزارت میں اچھے وزرا بھی رہے اور برے وزرا بھی رہے ۔کشمیر کونسل ، وزارت امور کشمیر کے بعد کا ایک قابل قبول ارینجمنٹ تھا ۔ یہ مظفرآباد اور اسلام آباد کے درمیان ایک آئینی پل ہے۔

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے اوپردفاع ، کرنسی اور خارجی امورکا حق اقوام متحدہ نے پاکستان کودے رکھا ہے ،یہ یو این سی آئی پی ریزولیشن کا حصہ ہے۔ UNCIP کے تحت ہی پاکستان نے آزادکشمیر کو آئین بھی دے رکھا ہے۔ سردار عتیق نے کہا کہ بھٹو صاحب کے دور میں آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی اپنے فیصلوں میں بلکل بھی با اختیار نہ تھی ، مجاہد اول جب پلندری جیل میں چلے گئے تو پیپلز پارٹی نے اس نافذ العمل ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے نظام کے بکھیے ہی ادھیڑکر رکھ دیئے۔ رہی سہی جو کسر تھی وہ 1979 میں جنرل حیات خان صاحب کے زمانے میں اس وقت پوری کردی گئی جب ٹیکسیشن کا سارا نظام انہوں نے اٹھا کر کشمیر کونسل کو دے دیا۔

شہزاد احمد راٹھور نے ایک سوال میں پوچھا کہ شیخ مجید الرحمان سے مجاہد اول ملاقات کیوں کی تھی؟ کیا شیخ مجیب سے ان تعلقات کی بنا پر بھٹو نے ناراض ہو کرآزادکشمیر کے ایکٹ میں ترامیم کرائیں؟ سردار عتیق خان نے جواب میں کہا کہ سردار قیوم خان صاحب خود شیخ مجید الرحمان صاحب کے پاس نہیں گئے تھے بلکہ مجاہد اول نے سردار عبدلغفار خان، حاجی افسر سمیت دو تین اور افراد پر مشتمل ایک وفد شیخ مجیب الرحمان کے پاس بھیجا تھا جس کے جواب میں انہوں نے بھی بعد میں اپنے دو خاص مشیروں کو مجاہد اول کے پاس اپنا پیغام دینے کیلئے بھیجا تھا۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان اور مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کی جماعتوں نے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کر رکھی تھی اس وقت آزادکشمیر میں سردار قیوم خان صاحب کی حکومت تھی۔ بھٹو، شیخ مجیب اور سردار قیوم، تینوں کے پاس اپنے اپنے علاقوں میں پاپولرعوامی مینڈیٹ تھا۔ حکومت پاکستان کی دوسوفیصد رپورٹیں ان انتخابات میں سردار قیوم خان صاحب کے خلاف تھیں، اس کے باوجود سردار قیوم صاحب کئی لاکھ ووٹوں کی لیڈ سے الیکشن جیتے تھے۔ اس وقت حکومتی ایجنسی سی آئی ڈی ہوتی اور آئی بی ہوتی تھیں جبکہ آئی ایس آئی کا رول فوج کے اداروں تک محدود ہوتا تھا۔ بھٹو صاحب نے ہی سب سے پہلے آئی ایس آئی میں سیاسی سیل قائم کر کے آرمی کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔ سردار عتیق کہتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان مجاہد اول کا بڑا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے مجاہد اول کواپنے مشیروں کے ذریعے یہ پیغام بھیجا تھا کے میں اس وقت ایسے موڑ پرکھڑا ہوں کہ اگر پیچھے ہٹتا ہوں تو مکتی بانی کے ہاتھوں مارا جاوں گا اور آگے بڑھتا ہوں تو پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارا جاوں گا۔

سردار عتیق احمد خان مزید کہتے ہیں کہ ایکٹ 1970 جنرل یحییٰ خان نے دیا تھا وہ مجاہد اول کا بے پناہ احترام کرتے تھے۔ میرے نزدیک آزاد حکومت کیلئے ایکٹ 1970 بہت ہی اعلیٰ ترین تھا۔ شملہ معاہدہ کے بعد 1973 میں آزادکشمیر کے عبوری ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ شملے معاہدے کے وقت ہی یہ بات طے ہو کر لی گئی تھی کہ آزادکشمیر میں سردار عبدالقیوم خان کی حکومت ختم کی جائے گی اور نیو یارک میں فری کشمیر سیل ختم کیا جائے گا اور جنرل ٹکا خان کو برطرف کیا جائے گا۔ یہ باتیں شملہ معاہدے کے دوران طے کی گئیں لیکن یہ تحریری معاہدے کا حصہ نہیں بنائی گئی تھیں۔ اس کے بعد فری کشمیر سیل بند کیا گیا اور جنرل ٹکا خان کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سردار عتیق خان مزید کہتے ہیں کہ ایکٹ 70 کے ذریعے ایک بہترین عبوری سیٹ قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کا تقرر خود سردار محمد قیوم صاحب نے کیا تھا۔70 کی دہائی تک وزارت امور کشمیر کا 19 ویں گریڈ کا جوائینٹ سیکرٹری ہوتا تھا وہ جب کوہالے جاتا تھا تو اس کو صدرریاست وصول کرتے تھے۔ یہ بات سب کے علم میں ہونی چاہیے کہ آزادکشمیر کا صدر کوہالے آکر جھنڈا اتارتا تھا، پولیس کی لائیٹس بند کرتا تھا پھر آزادکشمیرمیں داخل ہوتا تھا۔ اس وقت کوہالہ میں ایک قد آدم بورڈ لگا ہوتا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ کوئی بھی غیر ملکی آزادکشمیر داخل نہیں ہو سکتا۔ کئی نامور لوگوں کو وہاں سے واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ مجاہد اول پہلے آدمی ہیں کہ وہ جھنڈے اور ہوٹر کے ساتھ کوہالہ سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے اور کوہالے پل کی پاکستانی حدود میں وہ جو بورڈ لگا ہوتا تھا اس کو مجاہد اول نے خود اپنی موجودگی میں دریا میں پھینکوا دیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ آزادکشمیر میں ہم نے ایٹم بم نہیں چھپایا ہوا، سب لوگوں کو آنے جانے دیا جائے۔

سردار عتیق خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پانچ بڑی این جی اوز یونیسیف، یونیسکو، ڈبلیو ایچ او، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یو این ڈی پی کو آزادکشمیر میں داخلے کی پہلی دفعہ اجازت سردار قیوم خان صاحب نے خود دی تھی اس سے قبل ان پر وفاقی وزارت داخلہ نے پابندی عائد کی ہوتی تھی۔ 70 تک آزادکشمیر میں شرح خواندگی صرف 6 فیصد تھاراولاکوٹ ، مظفر آباد اور میرپور میں ایک ایک کالج ہوتا تھا ۔سردار عتیق خان کہتے ہیں کہ وزارت امور کشمیر کاجائینٹ سیکرٹری ہی اکیلا آزادکشمیر میں 19 ویں گریڈ میں ہوتا تھا۔ 1970 تک آزادکشمیر میں 19 واں گریڈ نہیں ہوتا تھا۔ 19واں ، 20 واں، 21 واں اور 22 واں گریڈ یہ چاروں گریڈ سردار قیوم خان صاحب نے یہاں خود دیئے تھے ان کے نیچے سردار محمد قیوم خان کا نام لکھا تھا۔ صدر مسلم کانفرنس کہتے ہیں کہ خان عبدالقیوم خان جیسے قد آور لوگ وزیر امور کشمیر رہے ہیں۔ خان عبدالقیوم خان جب وزیر امور کشمیر ہوتے تھے تب مجاہد اول نے ایک بار ان سے گفتگو کرنے سے ہی انکار کردیا تھا۔ یہ وہ خان عبدالقیوم خان تھے جنہوں نے اس وقت کشمیر میں قبائیلی بھیجے جب انگریز آرمی چیف نے کشمیر میں فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ اس وقت پاکستان کے سینئر موسٹ آفیسران میں سے اجرال حیدرزیدی کو بطور چیف سیکرٹری آزادکشمیر اورملک عطا کو آئی جی پولیس تعینات کیا گیا تھا۔ اس وقت مظفرآباد میں جو ڈی سی ہوتا تھا وہ تبدیل ہو کر مظفر گڑھ میں بھی ڈی سی ہی لگتا تھا اور لییے کا ایس پی تبدیل ہو کر مظفرآباد میں ایس پی ہی لگتا تھا۔مجاہد اول نے برابری کی بنیاد پر آفیسران کو پاکستان میں ٹرانسفر ہو کر خدمات دینے اور وہاں کے آفیسران کو یہاں اسی بنیاد پر نوکری کرنے کی پالیسی بنا کر عمل درآمد کرایا تھا۔ 75 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی نے آزادکشمیر میں حکومت بنائی تو یہ پالیسی وہیں ختم کردی گئی۔ مجاہد اول نے وفاق کے ساتھ اپنے کوٹے کے تحت ایک آفیسر کو ریڈ پاسپورٹ دیکر لیبر اٹیچی کے طور پر مسقط بھیجوایا تھا اور اس کے بعد میں نے اپنے دور میں ایک آفیسر ظہورگیلانی کو لیبر اٹیچی کے طور پر سعودی عرب بھجوایا تھا۔ یہ کام کرنے کیلئے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔

کشمیر کونسل کے اختیارات اور آئینی ترمیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ میں نے اپنے دورحکومت میں جب جنرل پرویز مشرف صدر پاکستان تھے انہی چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تجاویز بنا کروفاقی حکومت کو دی تھیں۔ جس میں مختلف کالمزمیں مسائل، اعتراض اور ان کے حل لکھے گئے تھے اور جس ملاقات میں یہ تجاویز میں نے دی تھی وہاں اس وقت وہاں 10 کور کماندر، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی بیٹھے تھے ۔ سردار عتیق نے کہا کہ جب وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی صاحب نے آئینی ترامیم کیلئے کمیٹی بنائی تو اس وقت بھی ہم نے تمام تجاویز مشارت کیساتھ تیار کرا کے جمع کرا دی تھیں تب کسی مرحلے پر بھی یہ بات زیر بحث نہیں آئی تھی کہ اس آئینی ادارے کشمیر کونسل کو ختم کیا جائے۔

عتیق احمد خان نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت دو صورتیں( آپشنز) ہیں ایک یہ کہ پاکستان کے آئین کے تحت ہم اپنی پوزیشن قبول کریں اس آئین کے آرٹیکل 142-141کے تحت پاکستان کے علاقے کے طور پر اپنی حیثیت قبول کرنی پڑے گی۔ جیسے کے صوبہ بنانا، یا اس سے بھی بد تر۔ یا تو وزارت امور کشمیر خود بخود آزادکشمیر حکومت کو کنٹرول میں لے، لے گی۔سردار عتیق احمد خان نے سینئر صحافی عامر محبوب کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے ذاتی طور کشمیر کونسل کے طریقہ کار اور کاموں سے بہت سی شکایات ہیں۔ کونسل کے پاس آئینی ، مالی اور انتظامی اختیارات ہیں ۔ میرے نزدیک اس کے انتظامی اختیارات محدود کرنے چاہیے، مالی اختیارات کم کرنے چاہیے اور آئینی اختیارباقی رہنا چاہیے۔ آزادکشمیر کے آئین کے تحت وزیر اعظم پاکستان کو کونسل کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ آزادکشمیر اور پاکستان کا اس سے زیادہ احترام کا تعلق کسی اور صورت میں ہو ہی نہیں سکتا۔سردار عتیق خان نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ گلگت بلتستان کو بھی اس کشمیر کونسل میں نمائندگی دیں۔ گلگت بلتستا ن کو صوبہ بنانے کی باتیں بند کریں،کشمیر کا تشخص بحال کریں ۔ یہ حساس ایشوز جو آرام کیساتھ سیٹل کرنے ہوتے ہیں وہ پاکستان میں الیکشن کے وقت کیسے سیٹل کرنے جا رہے ہیں۔سردار عتیق خان نے ایک اور پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے وزیر اعظم آزادکشمیر کو گزشتہ دنوں ملاقات کے دوران کہا کہ آپ کی فیس بک آئی ڈی سے ایک خبر جاری ہوئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ کشمیر کونسل کونسل کو ختم کردیا گیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ میری آئی ڈی کسی نے جعلی بھیجی ہے جس کی شکایت متعلقہ اداروں کو کردی گئی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے ترجمان نے بھی اسی روز ایک متنازعہ بیان بھی جاری کیا تھا۔

سردار عتیق خان نے کہا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر نے مجاہد منز ل پہنچ کر جب میری تیمہ داری کی تودوران گفتگو انہوں نے مجھے کہا کہ میں مجاہد اول کے ورثے کا تحفظ کر رہا ہوں اس لیے میرا ساتھ دیں۔ میں نے وزیر اعظم آزادکشمیر سے اصرار کیا کہ آپ ہمیں بتا کر جائیں کہ کونسل اگر ختم ہو جاتی ہے تو اس کے متبادل کے طور پر آپ کے پاس کیا نظام موجود ہے تو اس پر انہوں نے جواب دیا کہ” ابھی مجھے کپڑا ملا ہے ،درزی بتائے گا کہ اس کی شلوار بن سکتی ہے یا قمیض۔صحافی شہزاد احمد راٹھور نے سردار عتیق خان سے پوچھا کہ کیا آزادکشمیر کے ایکٹ کو آئین کہا جا سکتا ہے تو اس پر سردارعتیق نے کہا کہ جب پوری ریاست آزاد ہو کراپنےمستقبل کا تعین کر لے گی کہ ہم نے کیسے رہنا ہے توتب ہی آئین بن سکے گا۔ اس وقت تک یہاں عبوری سیٹ اپ ہی قائم رہے گا۔