farooq haider & touqeer gilani

ایل او سی پر مارچ کے بعد راجہ فاروق حیدراورلبریشن فرنٹ آمنےسامنےآگئے

اسلام‌آباد ( کاشف میر، سٹیٹ ویوز) آزادکشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول پر قوم پرست تنظیم لبریشن فرنٹ کی طرف سے جمعے کے روز کیے گئے احتجاجی مارچ کیخلاف وزیر اعظم آزادکشمیر کا سخت موقف سامنے آیا ہے، راجہ فاروق حیدر نے آج اس حوالے سے کہا کہ ایل او سی کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے ہم ذمہ دار ہیں لیکن لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ کی کوئی جوازیت نہیں بنتی، ہندوستان تمام محاذوں سے نامراد ہو کر نظریاتی تخریب کاری پر اتر آیا ہے اور بیرون ملک اس نے بہت سارے سرمایہ کار بٹھا ئے ہیں جو آزادکشمیر کے لوگوں کو خرید کر اپنے لیے استعمال کر رہے. اس بیان کے بعد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے وزیر اعظم آزادکشمیر کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے.

جمعہ کے روز لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام تتہ پانی سے ککوٹہ پل تک طویل ریلی نکالی گئی تھی جس میں قوم پرست تنظیموں کے ہزاروں کارکنوں سمیت لائن آف کنٹرول پر بسنے والے لوگوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی. مظاہرین کنٹرول لائن پر بھارتی گولہ باری کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے دونوں ممالک سے افواج کے انخلا کا مطالبہ بھر کر رہے تھے.

شرکا ریلی نے جیسے ہی سول انتظامیہ سے طے شدہ مقام سے آگے بڑھ کر ککوٹہ پل کراس کرنے کی کوشش کی تھی تو پولیس کے تصادم ہوا تھا جس میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا تھا جس سے 5 کے قریب کارکنان زخمی ہوئے تھے جب کے مظاہرین نے پولیس کی چوکی کو آگ لگانے سمیت پتھراو کر کو 4 پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کیا تھا.

لبریشن فرنٹ کے کارکنان نے پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے مظاہرین پر سٹیت فائر کیا ہے جس سے ان کے کارکن نعیم بٹ کا بازو شدید زخمی ہوا اور سردار ابراہیم ایڈووکیٹ سمیت ان کے دیگر کارکن زخمی ہوئے. فرنٹ کے قائدین اور کارکنان نے دھڑ بازار سے احتجاجی دھرنا جمعہ کی رات اس شرط پر ختم کیا تھا کہ ان کے تمام گرفتار کارکنان کو غیر مشروط رہائی دی جائے.

جمعے کی شام ہونے والے تصادم کے بعد لبریشن فرنٹ نے ہفتہ کے روز کوٹلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی جانب پرامن مارچ پر پولیس تشدد کی آٹھ روز میں انکوائیری کرنے اور ملزمان کو سامنے لانے کا حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے .اور دھمکی دے رکھی ہے کہ گولی چلانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا آغاز نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کی کال دے سکتے ہیں.

آج اتوار کے روز وزیر اعظم آزادکشمیر کی طرف سے لبریشن فرنٹ کی ریلی کے خلاف بیان سامنے آنے کے بعد کوٹلی میں ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا تھا کہ ” وزیر اعظم کو حکومت سے الگ کیا جائے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر گولیاں برساتا رہے، ہمارے نہتے کارکنوں پر جو کہ آزادی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں پر پولیس تشدد کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ کیا آزادی کی جنگ لڑنا جرم ہے ؟”

ڈاکٹر توقیر گیلانی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ شہیدوں کی جماعت کے خلاف متنازعہ بیان داغنے والے راجہ فاروق حیدر انڈین ایجنٹ ہیں، کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ راجہ فاروق حیدر کو جوتے مارنے کی تیاری بھی کریں.

دوسری جانب پی پی پی آزادکشمیرکےسیکریٹری جنرل اور سابق وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور نے بھی وزیر اعظم کے احتجاجی مطاہرین کے خلاف وزیر اعظم کے بیان کی شدید الفاظ میں مزمت کی ہے. سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں انکا کہنا تھا کہ ” لبریشن فرنٹ کے بارے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے الفاظ قابل مذمت ہیں اور یہ نظریہ الحاق پاکستان کی قطعاً خدمت نہیں ۔ کشمیریوں کی عزت نفس سے کسی کو کھیلنے نہیں دیں گے.”

ادھر وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آج سردار فتح محمد خان کریلوی مرحوم کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاک فوج کے خلاف باتیں کرنا تو درکنار ایسا سوچنے والوں کے لیے بھی آزادکشمیر میں کوئی جگہ نہیں، آزادکشمیر کے عوام کی حفاظت کے لیے 24 گھنٹے سینہ سپر چوکس جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں.

وزیر اعظم اآزادکشمیر نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر جو تم نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہماری ماﺅں بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری کی، بزرگوں، بوڑھوں اور بچوں کاقتل عام کیا اس کے باوجود کشمیری اپنے بیٹوں کو پاکستانی پرچم میں دفناتے ہیں.ہم ان کشمیریوں کے وارث ہیں اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی قتل عام سے مرعوب ہونے والے نہیں.

راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہندوستان کی فوج کو پاکستان کی فوج کے برابر کرنا تو درکنار ایسا سوچنا بھی گناہ کبیرہ ہے جس کو حکومت سے شکایت ہے وہ مظفرآباد آئے میرے دفتر کے باہر مظاہرہ کرے، دھرنا لگائے، میرے سر آنکھوں پر مگر لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ کی کوئی جوازیت نہیں بنتی. لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ آج بھی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے لوگ زخمی ہوئے ہیں کیا وجہ ہے کہ مارچ والے دن انہوں نے سفید جھنڈے لہرا دیے تھے.

آزادکشمیر میں گلاب سنگھ کا دن منانے والے مٹھی بھر عناصر کو شرم آنی چاہیے یہاں اس نے انسانوں کی چمڑیاں اتاریں اور ظلم و بربریت کی بدترین مثالیں قائم کیں آزادکشمیر آزاد خطہ ہے اس کا موازنہ کسی بھی صورت مقبوضہ کشمیر سے نہیں کیا جا سکتا جو لوگ وہاں رہ کر آئے ہیں ان کو پتہ ہے کہ لوگ کیسے مشکل میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں.

وزیر اعظم آزادکشمیر کے پریس سیکرٹری راجہ محمد وسیم نے اس تمام صورتحال پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر نے آج نکیال میں لبریشن فرنٹ سمیت کسی جماعت کا نام نہیں لیا انہوں نے کہا کہ جو لوگ شہدا کو گالیاں دیتے ہیں ہندوستان سے پیسے لیتے ہیں.

پاکستان اور فوج کو گالیاں دیتے ہیں اور ہندوستان اور پاکستان کو ایک جیسا سمجھتے ہیں ان کی آزادکشمیر میں کوئی جگہ نہیں جو وزیراعظم کے خلاف جس طرح اور انداز سے بات کررہا ہےاپنے خون اور اپنی نسل و تربیت کی عکاسی کررہا ہے، سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے والی کٹھ پتلیوں کی ڈوریں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہیں.

راجہ وسیم نے سوشل میڈیا پیغام میں مزید لکھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو تحریک آزادی سے غداری کررہے ہیں جو ایک لاکھ شہدا کی قربانیوں کے مقابلے میں آنسو گیس کی شیلنگ کو برابر قراردیتے ہوے پاک فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں یاد دلاوں کے آج بھی وادی میں شہید ہونے والے ہر جوان کو پاکستانی پرچم میں دفنایا جاتا ہے ”پاکستان ہماری جان” کے نعرے کی چمک ماند کرنے کے لیے انڈیا نے ہزارہا جتن کیے، اربوں روپے نچھاور کیے.

مگر وہ ناکام رہا آزادکشمیر کے اندر نظریاتی اختلاف راے کو ہوا دیکر آزادکشمیر کے اندر نفرتیں اور تعصب پھیلارہے ہیں. راجہ وسیم نے وزیر اعظم پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ذمہ داری کا تقاضہ اور سرکاری آفس میں اہم پوزیشن پر نہ ہوتا تواسی زبان میں جواب دیتا،ہم غلط اٹھنے والی انگلی نہیں ہاتھ کاٹنا جانتے ہیں.

جماعت اسلامی کے رہنما سردار حلیم خان نے بھی لبریشن فرنٹ کی ایل او سی پر ریلی بارے موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ گذشتہ ایک سال سے بھارتی فائرنگ سے آزاد کشمیر میں ہونے والی شہادتوں پر اگر مگر کرتے تھے اور بھارت کی مذمت نہیں کرتے تھے۔یہ لوگ شرمناک جواز گھڑتے تھے کہ انڈیا جوابی فائرنگ کر رہا ہے آج اچانک کنٹرول لائن پار ہلاکتوں کے وارث کیسے بن گئے۔

پہلی بات یہ ہےکہ کنٹرول لائن پار ہلاکتوں کی خبر غیر مصدقہ ہے۔کیوں کہ پونچھ سیکٹر میں سول آبادی نہیں ہےاگر کوئی اکا دکا گھر ہے اور بھارت کو جواب دینے کے لیے اس کے نشانہ بننے کا خطرہ ہو تو کیا آزاد کشمیر کے شہریوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی فوج کو محض اس لیے جواب نہیں دینا چاہئے کہ وہاں کچھ سول گھرانے بھی ہیں؟

اگر ہم اس اصول کو مان لیں تو اس کا مطلب ہو گا انڈیا کو کھلی چھٹی دے دی جائے۔یہ خواہش رکھنے والے کون ہیں؟اور کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مظاہرین پر تشدد کا واویلا اور پار کی ہلاکتوں کو یکجا کر دیا گیا؟نہیں یہ کسی خوفناک گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے.

لبریشن فرنٹ کی احتجاجی ویڈیو دیکھیں: