سردارعتیق خان پیسےلیکراسمبلی اورکونسل کےٹکٹ فروخت کرتےہیں. راجہ افتخار ایوب کا الزام

انٹرویو: راجہ اسد خالد
دوبئی: سٹیٹ ویوز
تعارف: راجہ افتخار ایوب نےمیٹرک دھیرکوٹ سے اور گریجویشن مظفرآباد ڈگری کالج سے کی ، اس دوران سیاسی سفر کا آغاز بھی اسی ڈگری کالج سے کیا۔ 71ء میں پہلی بار مسلم کانفرنس( ایم ایس ایف) کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ ان کے والد بھی اپنے علاقے کے متحرک سیاسی کارکن تھے اس لیے ان کو دیکھ کرہی افتخار ایوب کو سیاست کا شوق پید اہوا۔ 73ء میں باضابطہ طور پر مسلم کانفرنس کا حصہ بنے.

اپنے والد گرامی اور سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے ان پر اعتماد کی وجہ سے یہ مسلم کانفرنس ضلع باغ کے جلد ہی جنرل سیکرٹری بن گئے اس کے بعد مختلف حکومتی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ سیاسی قیدی رہے ، سرکاری ملازمت حاصل کی پھر چھوڑ دی۔ سیاسی سفر وقت کے ساتھ تیز ہوتا گیا اور راجہ افتخار ایوب ایک دن ممبر کشمیر کونسل بھی بنے۔ طویل سیاسی سفر کے بعدمسلم کانفرنس کو چھوڑ کر مسلم لیگ نواز کا حصہ بنے اور گزشتہ عام انتخابات میں حلقہ دھیرکوٹ سے اپنی جماعت کی طرف سے امیدوار اسمبلی تھے ، مد مقابل امیدوار سردار عتیق خان کے مقابلے میں 16 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔

گزشتہ دنوں دوبئی کے دورے پر آئے تو سٹیٹ ویوز ٹیم کیلئے انہوں نے وقت نکالا ۔ راجہ افتخار ایوب اپنے سیاسی سفر کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سن 75 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں مسلم کانفرنس پر مشکل وقت آیا، یوں کہیے کہ سردار عبدالقیوم صاحب پر وہ سخت مشکل وقت تھا۔ سردار صاحب کے ساتھ جدوجہد میں برابر شریک رہا تھا، مجھے گرفتار کر دیا گیا .

میرے ساتھ سردار رشید چغتائی اور امتیاز شاہین بھی پدر کیمپ میں سیاسی قیدی بنے تھے۔ گرفتاری کے دو ہفتے بعد عدالت سے ہمیں رہائی ملی تھی۔85 ءمیں جب مسلم کانفرنس کی حکومت بنی تو سردار عبدالقیوم خان صدر آزادکشمیر بنے تو مجھے پہلی بار پولیٹکل سیکرٹری تعینات کیا ۔ میں وزیراعظم آزادکشمیر(وقت ) سردار قیوم خان کے ساتھ پولیٹیکل سیکرٹری کے طور پر کام کر چکا ہوں۔ حکومت ختم ہوئی تو پھر میں نے گورنمنٹ سروس حاسل کر لی۔ ڈپٹی رجسٹرار کی حیثیت سےمحکمہ کو آپریٹو میں کام کیا، کچھ وقت کیلئے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ رجسٹرار بھی رہا، بعد میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور مسلم کانفرنس کے ساتھ کام کو آگے بڑھایا۔

راجہ افتخار ایوب کہتے ہیں کہ اللہ پاک سردار عبدالقیوم خان صاحب کو جنت میں اعلی مقام عطا کریں، ان کا اعتماد اور راجہ یٰسین اور راجہ نصیر کی حمایت اور سردار عتیق احمد خان صدر جماعت کی حمایت سے میں 2006میں ممبر کشمیر کونسل بنا تھا ۔ اپنے دور میں عوام کیلئے جہاں تک ممکن رہا کام کیا اور مسلم کانفرنس کیلئے بغیر کسی ذاتی مفاد کے دن رات ایک کر کے کام کرتا رہا ہوں۔ مسلم کانفرنس چھوڑنے کی وجوہات پر انہوں نے کہا کہ سردار عبدالقیوم خان مرحوم پوری دنیا میں کشمیریوں کے لیے شناختی کارڈ کی حیثیت رکھتے تھے، جماعت کو متحد رکھتے تھے ، پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلا تخصیص کارکن اور قیادت کو ایک ساتھ رکھتے تھے لیکن بدقسمتی سے سردار عتیق احمد خان کا کردار ان سے مختلف رہا۔

انھوں نے پسند ناپسند کی بنیاد پر جماعت میں عہدوں کی تقسیم کی، ممبر اسمبلی کو پسند ناپسند اور اپنے اور بیگانے کی بنیاد پر تقسیم کیا جس سے ہمارے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں اور جماعت کمزور ہوتی گئی۔میں تو کہتا ہوں کہ جماعت توڑنے میں سب سے بڑا کردار سردار عتیق خان کا خود تھا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے سردار عتیق کی سپورٹ اس لیے کی تھی کہ سردار عبدالقیوم خان بڑے آدمی تھےان کی عدم موجودگی میں ان کے بیٹے حلقے کے مسائل اور پسماندگی کو دور کریں گے، لوگوں نے 50 سال تک بغیر کسی مفاد کے ان کی سپورٹ کی لیکن جب سردار عتیق وزیراعظم بنے توان کی آنکھیں بدل گئیں.

حلقے میں مخصوص افراد کو نوازہ گیا اور مخصوص لوگوں کی بات سنتے تھے اور کام کاج بھی انہی کی سفارشات پر ہونے لگے اور تمام تقریریاں پیسے لیکر کرنی شروع کردیں۔ میں نے پارٹی کے اندر رہ کر ان اقدامات کے خلاف بغاوت کی۔ سردار عتیق کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جماعت ٹوٹی ،آج مجاہد اول کے سارے شاگرد اور عقیدت مند بھاری اکثریت سے آزادکشمیر میں حکومت کر رہے ہیں لیکن ان کا نافرمان بیٹا باہر بیٹھ کر حسرت بھری نگاہوں سے ایوان اقتدارکو دیکھ رہا ہے۔

راجہ افتخار ایوب نے کہا کہ اپنے عظیم باپ کے ساتھیوں کو کوئی بھی ضائع نہیں ہونے دیتا لیکن سردار عتیق نے مجاہد اول کی زندگی میں ہی ان کے ساتھیوں کو دھکے دینا اور نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا. مجاہد اول کی زندگی میں ہی جماعت دوحصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ باغی گروپ ایک تجویز لیکر مجاہد اول کے پاس گیا کہ پارٹی صدارت اور وزارت عظمی کو الگ کیا جائے اور سردار عتیق سے ایک عہدہ چھڑایا جائے۔ مجاہد اول نے اس تجویز کو سرہایا لیکن سردار عتیق خان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور مجاہد اول کو کہا کہ آپ نے آستین کے سانپ پال رکھے ہیں۔ مجاہد اول نے اس وقت کہا تھا کہ سردار عتیق کے پاس جلد ہی نہ پارٹی صدارت رہے گی نہ وزارت عظمی رہے گی۔حلقے کی پسماندگی کے حوالے سے انہوں نے کہا سردار عتیق خان ایک جھوٹا شخص ہے کہ اس نے ہماری برادری کے اوپر احسان نہیں کیا.

ممبر کشمیر کونسل میں تھا لیکن چپڑاسی کی تقرری بھی مجھ سے چھپ کر کرتے تھے ،اپنے خاص لوگوں کوکہتے تھے کہ افتخار ایوب کو معلوم نہ ہواس کے بعد میں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر تے ہوئے کام کی رفتار تیز کر دی۔میں نے حلقہ میں کشمیر کونسل کی سکیمیں دیں جن میں جھالہ سے رنگلہ لنک روڈ، لنک روڈ، مکھیالہ روڈ ،نم سیداں سے جہالہ روڈ، ڈونگہ کھینتر، مندری ساہلیاں سے رنگلہ بھولو گیل، مندری چناٹ روڈ کو لنک کیا اس پر سردار عتیق ناراض ہوئے کہ مجھ سے مشاورت کے بغیر کیوں سکیمیں دی گئی ہیں۔

راجہ افتخار ایوب نے مزید کہا کہ سردار عتیق نے ممبر کشمیر کونسل اور امیدوار اسمبلی کے ٹکٹ بھی پیسے لیکر دئیے ایک موقع پر میں بھی گواہ ہوں جب چوہدری محمد خان نے 15 سے 20لاکھ کیش دی تو اسے بھی ممبر کونسل بنایا گیا، آج بھی مختیا ر عباسی اور صغیر چغتائی سے پیسے لیکر ممبر کشمیر کونسل بنایا گیا ہے۔ پیسہ سردار عتیق خان کی کمزوری رہا ہے اور آج بھی ہے.

جب تک کنٹرول سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے ہاتھ میں تھا انھوں نے پارٹی کو اور کارکنوں کو متحد رکھا اور تمام کارکنوں کو ایک نظر سے دیکھتے تھے سردار سکندر حیات کی تنقید کو مثبت انداز سے دیکھتے تھے اور اس کا حل نکالتے تھے اور ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر سوال کے جواب دیتے ہوے راجہ افتخار ایوب نے کہا کہ وزیر امور کشمیر برجیس طاہر کے سامنے دورہ دھیرکوٹ میں 10 مطالبات پیش کیے تھےجس میں سے انہوں نے 3مطالبات منظور کیے اور عوامی اجتماع میں وعدہ کیا کہ وہ ھیرکوٹ چھپریاں جہالہ روڈ، بشارت شہید روڈ ، کیری چمن کوٹ پل تعمیر کر کے دیں گے۔ ان منصوبوں کی منظوری بھی ہوئی ، کونسل کے سرویئر بھی آئے لیکن ابھی تک منصوبوں پر کام شروع نہیں ہوا ہے۔

راجہ افتخار ایوب نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کمیونٹی انفراسٹریکچر پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پورے آزادکشمیر میں چھوٹے منصوبوں کو مکمل کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اس پروگرام کے تحت جو فنڈز ہمیں حلقہ انتخاب کیلئے ملے تو دھیرکوٹ سے ممبر اسمبلی سردار عتیق خان اور دیگر اپوزیشن ممبران نے عدالت سے اسٹے آرڈر لے لیا.

جو بعد میں خارج بھی ہوا لیکن ایک با کردار سیاستدان سردار خالد ابراہیم خان نے سٹے لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے میرے حلقے میں ہی لوگوں کے کاموں کیلئے خرچ ہوں گے اس لیے میرا اسٹے لینا مناسب نہیں بنتا۔ راجہ افتخار ایوب نے کہا کہ حلقہ انتخاب کے 21 یونٹس کے پارٹی نماندوں کی مشارت سے حلقے میں اسکیمیں دی جاتی ہیں ، جن کی شفافیت یقینی بنائی جاتی ہے۔ انہوں نے زمید کہا کہ ہم نے انخابات کیلئے تیاری گزشتہ الیکشن کے بعد شروع کر دی تھی۔ اب کی بار دھیرکوٹ سے فتح مسلم لیگ نواز کی ہو گی۔