نقطہ نظر/ بابر حسین منہاس

آزاد کشمیر میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کا سفر

مردے اور بیوقوف اپنی رائے تبدیل نہیں کرتے زندوں کی دنیا تغیر وتبدل سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ کہا تھا مشہور مفکر اور دانشور جیمز رسل نے۔ تعمیر وترقی اور تغیر سے ہی اس کائنات کا حسن برقرار ہے اور جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے کہا تھا ” ثبات اک تغیرکو ہے زمانے میں “کے مصداق اکیسویں صدی کی دنیا بیسویں صدی سے یکسر مختلف ہو چُکی ہے۔ اگرچہ تعمیر وترقی کا کوئی خاص رنگ نہیں ہوتا کہ جس کی بنیاد پرکہا جائے کہ ہم نے ترقی مکمل کرلی ہے۔

یہ ایک مسلسل عمل ہے اور مختلف ادوار کے تقابلی جائزہ سے اس عمل کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ آزاد خطہ کے اندر بھی آزادی کے فوراً بعد ہی دستیاب مالی و مادی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تعمیر و ترقی کے سفر کا آغاز کردیا گیا تھا جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہونے کے علاوہ مختلف جہتوں میں بٹتا گیا۔ قدرت نے اس خطہ کو جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے وہیں دوردراز پہاڑی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر کا عمل بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بھی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر لوکل گورنمنٹ کے اداروں (Institutions)کا کام ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے لوکل گورنمنٹ میں تعمیر و ترقی کے تما م مراحل عوام کے اشتراک سے طے کئے جاتے ہیں اور بنیادی طور پر اس نظام میں مقامی آبادیوں کی مشاورت اور منتخب نمائندگی کے ذریعہ سے کا م کیا جاتاہے۔ آزاد کشمیر میں دیہی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بہتری کیلئے پہلی مرتبہ 1953میں “دیہات سدھار” (Village Aid)کے نام سے ایک پروگرام شروع کیاگیا جس کے تحت رابطہ سڑکیں راستے ، آب رسانی سمیت عوامی ضرورت کی دیگر بنیادی سہولیات کو پروگرام میں شامل کیا گیا۔

یہ پروگرام فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب (مرحوم)کے 1962ء میں متعارف کروائے گئے بنیادی جمہوریت (Basic Democracy)کے سسٹم تک چلتا رہا اور بنیادی انفراسڑکچر میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ اس سیکٹر کی اہمیت کے متعلق عوام میں خاطر خواہ شعور بیدار ہوا۔ بنیادی جمہور کے دورانیہ میں رورل ورکس پروگرام 1971ء تک چلتا رہا اور دیہی انفراسڑکچر کو بہتر کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو عوام تک پہنچانے کے لئے خاطر خواہ کوششیں کی گئیں۔

ذوالفقار علی بھٹو(مرحوم) کے دور حکومت میں اس سسٹم کی جگہ پیپلز ورکس پروگرام 1972ء میں متعارف کروایا گیا جو کہ 1978ء تک چلتا رہا ۔ اس دور میں پہلی مرتبہ Agrovilles، دیہات سدھار اور رورل ورکس پروگرام کو مجتمع کرتے ہوئے Integrated Rural Development کے تصور( Concept) کو آگے بڑھایا گیا۔ 1978میں پہلے ایک انتظامی حکم (Executive Order)کے ذریعہ سے اور بعد میں 1979میں آرڈیننس کے ذریعہ سے لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارنمنٹ وجود میں آیا اور دیہی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اس محکمہ کا مینڈیٹ قرار پایا۔

جنرل ضیاء الحق (مرحوم)کے دور میں پیپلز ورکس پروگرام،دیہی ترقی کے مربوط پروگرام (Integrated Rural Development Program)اور Agrovillesکے پروگراموں کو ختم کرتے ہوئے رورل ڈویلپمنٹ پروگرام کے نام سے سرگرمیوں کو جاری رکھا گیا اور پہلی مرتبہ دیہی ترقیاتی مراکز(Rural Development Markaz)کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ اس وقت تحصیل کی سطح پر تھے اور دیہی ترقی کے انتظامی یونٹ (Administrative Unit)ڈیکلئیر کئے گئے۔ محکمہ کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ اس محکمہ کو 22ملین روپے کا بجٹ 1978ء میں دیا گیا جو کہ سالانہ بنیادوں پر بڑھتا گیا اور 2017میں دو ارب روپے ہوگیا۔

آزادکشمیر میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا گیایوں دیہی علاقوں میں رہنے والی آزادکشمیر کی 88فیصد آبادی کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ دیہی آبادی کی تعمیر و ترقی کاکام مقدار (Quantity)، معیار (Standard)اور پھیلاؤ(Coverage)کے حساب سے بڑھتا گیااور 1980ء کے بعد آزادکشمیر میں پہلی مرتبہ مختلف ڈونرز جیسا کہ یونیسیف اور ورلڈ فوڈ پروگرام بھی محکمہ کی مالی ، تکینکی اور میٹریل کی Strategic Supportمیں آگئے۔

اسی عرصہ کے دوران دیہی ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مینڈیٹ اور پروگرام بالخصوص ـ”دیہی آب رسانی بتعاون مقامی آبادی” (Rural Water Supply with Community Participation)نے قومی سطح پربڑی شہرت حاصل کی۔ دیہی رابطہ سڑکوں کے لئے زمینیں اور راستے مقامی آبادیوں نے Donateکر کے اس پروگرام میں ایک نئی روح پھونک دی جس سے لوگوں کے رسل و رسائل سے متعلقہ چیلنجز اور مشکلات میں کمی آنا شروع ہو گئی۔

دیہی ترقی کے پروگرام کو خاطر خواہ شہرت اس وقت ملی جب پہلی مرتبہ 1979میں دیہی ترقی کے سیکٹر کو لوکل کونسلز یعنی کہ منتخب ہو کر آنے والے عوامی نمائندوں کے حوالہ کیا گیا۔ اس مرحلہ پر دیہی ترقی کو Decentralizedکیا گیا اور عوامی ضروریات اور نمائندگی کا یہ پروگرام قومی دھارے (Main Stream) کے سیاسی ایجنڈے کا بھی حصہ بن گیا جس کے تحت منتخب بلدیاتی عوامی نمائندوں کو بے پناہ انتظامی ومالی اختیارات بھی دیے گئے۔
ــ

’’بے لاگ تجزیہ‘‘ کیا جائے تو یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ اسی وقت قومی سیاست سٹرک،ٹونٹی، نلکے، کھمبے اور دیگر بنیادی ضروریات کے ایجنڈے کے گرد گھومنے لگی‘‘۔یوں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کو بہت زیادہ Political Mileage ملنے لگا جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی پر توجہ کم ہوگئی اور نتیجتاً بے روزگاری اور بے کاری بڑھنے لگی۔ تعمیر و ترقی کے اس پیریڈ میں عوامی ضروریات کے پیش نظر دستیاب وسائل کا زیادہ تر حصہ واٹر سپلائی سکیم ہا کی فراہمی اور رابطہ سڑکوںکی تعمیر پر خرچ ہوتا رہا یہی وجہ ہے کہ آج آزاد کشمیر میںانہی دو سیکٹرز کی کوریج بقیہ صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ بہتر ہے۔

1992تک منتخب بلدیاتی نمائندے موضع ،موہڑہ ،گاوں ، وارڈ ، یونین کونسل ، ڈسٹرکٹ کونسل ، ٹاون و میونسپل کمیٹی ہااور کارپوریشنز کے ذریعہ سے عوامی نمائندگی کرتے رہے اور اپنے اپنے یونٹ کے تعمیر و ترقی کے سفر میں اس سسٹم کا حصہ رہے۔ اس کے بعد سے اب تک بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے باعث محکمہ لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی اپنے مینڈیٹ کے مطابق منتخب ممبران اسمبلی اور مقامی آبادی کی مشاورت سے دیہی ترقی کے سفر کو آگے بڑھا رہا ہے۔

90کی دہائی کے بعد ورلڈ بنک نے پہلے آزادکشمیر میں رورل واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن پروگرام (RWSS)اور بعد ازاں کمیونٹی انفراسٹرکچر سپورٹ پروگرام (CISP)کے لئے 04ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کی جس سے اس سیکٹرکے متعلقہ بنیادی پیمانوں (Indicators)میں خاطر خواہ بہتری آئی۔ حقیقی معنوں میں Community Participationکے ذریعہ سے انفراسٹرکچر کی تعمیر وبہتری اسی دور میں شروع ہوئی۔

اسی طرح 2002میں انٹرنیشنل فنڈز فار ایگریکلچر ڈویلپمنٹ (IFAD)کے تعاون سے بنیادی دیہی انفراسٹرکچر کی تعمیر وبہتری کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام (CDP)شروع کیا گیا جس کے خاطر خواہ مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ 2005کے زلزلہ کے بعد تعمیرنو و بحالی کے پروگرام کے تحت بھی مختلف ڈونرز ، این جی اوز اور عالمی اداروں نے بھی دیہی انفراسٹرکچر کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی خاطر خواہ مالی ، مادی ، تکنیکی اور Intitutional Strengtheningکی سپورٹ فراہم کی جس کی بدولت عوام کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آئیں اور عوامی فلاح و بہبود کے ذریعہ سے دیہی سیکٹرایک ماڈل سیکٹر بنتا جارہا ہے۔

آزادی کے وقت آزادکشمیر کے 5134مربع میل کے علاقے پر 50ہزار کے لگ بھگ گھر تعمیر تھے جو کہ بنیادی سہولیات کے بغیر تھے اور رسل و رسائل کی سہولیات ناپید تھیں اس کے مقابلہ میں 2017ء میں آزاد کشمیر میں اسی رقبہ پر06لاکھ سے زائد گھر تعمیر ہوچکے ہیں اور ہر جگہ بنیادی سہولیات کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔

آج آزاد کشمیر میں 10ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکوں کا نیٹ ورک ہے جس میں 7000کلو میٹر سے زائد لوکل گورنمنٹ کا کارنامہ ہے۔ 1947ء میں چند پُل تھے اور آج یہ تعداد سینکڑوں میں ہے۔ دریاؤں کے علاوہ ہر نالے پر پل تعمیر ہوچکے ہیں۔ 57فیصد آبادی کو صاف پینے کے پانی تک رسائی میسر ہے اور پائپ واٹر سپلائی کی کوریج 80%سے زائد ہے۔

سینی ٹیشن کی سہولت 62فیصد سے زائدآبادی کو میسر ہے۔ صحت وصفائی اور ہیلتھ ہائی جین میں 100فیصد بہتری آئی ۔97فیصد سے زائد آبادی کو بجلی کی سہولت میسر ہے یہی وجہ ہے کہ ان بنیادی Enabling Factorsکے باعث آزاد کشمیر کی شرح خواندگی 74فیصد ہے۔ سکولوں میں Participationریٹ 95%سے زائد ہے۔ Infant Mortality Rate، بھی 1000/56پیدائش ہے ( جوکہ چاروں صوبوں اور ساؤتھ ایشیا کے دیگر ممالک ماسوائے سری لنکا سے بہتر ہے)۔ آگہی اور شعور کا لیول بھی بہت زیادہ ہے۔

موجودہ حکومت نے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت میں پہلی مرتبہ انفراسٹرکچراور بنیادی سہولیات کے سیکٹر میں خاطر خواہ انقلابی اقدامات کرتے ہوئے مؤثر، مربوط اور باخبر منصوبہ بندی کرتے ہوئے مالی سال 2016میں 01ارب 16کروڑ روپے کی مالیت سے وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام(PMCIDP) شروع کیا گیا۔ جس کے تحت بیک وقت آزاد کشمیرمیں 29انتخابی حلقوں میں مساوی اور منصفانہ بنیادوں پر چار کروڑ روپے فی حلقہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے فراہم کئے گئے۔ جبکہ ایم ایل اے فنڈز کے منصوبہ جات اس کے علاوہ تھے۔

موجودہ حکومت نے اس پروگرام کو پانچ سال تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور اس سال اس کی مالیت بڑھا کر 01 ارب 30 کروڑ روپے کر دی ہے۔ جس کے تحت فی انتخابی حلقہ ساڑھے چار کروڑ روپے دیہی ترقی کے لیے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام میں ترجیح بنیادوں پر عوامی ضروریات کی بنیادی سہولیات اور سروسز کو شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کی گڈ گورنس کی پالیسی کے تحت لوکل گورنمنٹ میں پہلی مرتبہ ترقیاتی منصوبہ جات پر عملدرآمد کے لیے شفاف (Transparent) معیاری اور Robust نظام وضع کیا گیا جس میں عملدرآمد کے مراحل میں صحافی ،سول سوسائٹی، سیاسی نمائندوں اور مقامی آبادی کو شامل کیا گیا ہے۔

انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیہی تعمیرو ترقی کے اس سفر کو اسی طرح کے پروگراموں کے علاوہ مختلف ڈونرز کے سا تھ مل کر Sustainable Development Goals (SDG) میں دئیے گئے اہداف کے حصول کے ذریعہ سے قلیل المدتی (Short Term) وسط مدتی (Medium Term) اور طویل المدتی (Long Term) پلاننگ کے ذریعے سے حاصل کرتے ہوئے ماڈل بنایا جا سکتا ہے۔ SDG میں سیٹ کئے گئے مقاصد میں سے 10 براہ راست دیہی ترقی سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اپنی جرات مندانہ حکمت عملی کے ذریعہ سے 70سالوں میں پہلی مرتبہ آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ کو دوگنا کروا دیا ہے۔جس کے باعث اب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آزاد کشمیر کے دیہی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے آئندہ چند سالوں میں ترجیحی بنیادوں پر مزید وسائل کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے دیہی آبادی کے معیار زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائینگی۔ اور یہ خطہ ایک ماڈل سٹیٹ کا نمونہ پیش کرے گا( انشاء اللہ)۔

آزادکشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ اکنامک ڈویلپمنٹ کو بھی یکساں اہمیت دی جائے تاکہ مقامی سطح پرروزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرتے ہوئے بے روزگاری کو کم کیا جاسکے اور لوگوں کو معاشی خود کفالت کی منزل کی راہ رکھائی جاسکے۔ آزاد کشمیر میں پبلک سیکٹر ہی ذرائع روزگار فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خواندہ اور نیم خواندہ نوجوانوں کو مختلف ہنر (Skills)سکھائے جائیں تاکہ بیروزگاری کو کم کرتے ہوئے لوگوں کو باعزت ذرائع روزگار میسر آسکیں۔ اس کے علاوہ پس ماندہ دوردراز اور لائن آف کنٹرول سے ملحقہ آبادیوں کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لیے یکساں،مساوی اور خصوصی مواقع فراہم کیئے جانا بھی وقت کا تقاضا ہے ۔وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر کی سربراہی میں بننے والی موجودہ حکومت نے آزاد کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کیلے حقیقی جدوجہد کیلے پلیٹ فارم کی فراہمی ،گڈ گورننس کا بول بالا اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کو ہی اولیں ترجیح رکھا ہوا ہے۔اور گذشتہ پونے دو سالہ دور حکومت میں بالا تینوں شعبہ جات میں خاطر خواہ اقدامات کے ذریعے سے مثبت نتائج حاصل کیے ہیں ۔

پہلی مرتبہ پڑھے لکھے نوجوان کو حقیقی میرٹ کی شکل میں امید کی ایک کرن نظر آئی ہے جوکہ ریاستی طرز حکومت سے تقریباً مایوس ہوچکے تھے۔ این ٹی ایس کے ذریعہ سے پہلی مرتبہ پڑھے لکھے اور میرٹ پر اترنے والے سینکڑوں غریب اور با صلاحیت نوجوانوں کو روز گار میسر آیا ہے جسکے آئندہ چند سالوں میں محکمہ تعلیم پر کوالٹی آف ایجوکیشن کے سلسلہ میں مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

انفراسٹرکچر ڈیوویلپمنٹ جس میں دیہی اور شہری دونوں شامل ہیں کہ نہ صرف حکومتی حلقوں میں بہت پذیرائی ہے بلکہ حکومت کے شدید مخالف اور اپوزیشن پارٹیز بھی اس پروگرام کی تعریف کر رہی ہیں۔ پہلی مرتبہ وسائل کو مجتمع کرتے ہوئے فی انتخابی حلقہ ساڑھے چار کروڑ روپے صرف بنیادی دیہی انفراسٹرکچر کی تعمیر و بہتری کیلے فراہم کیا جارہا ہے ۔ اور اگر وزیر اعظم کمیونٹی انفراسٹر کچر دویلپمینٹ پروگرام مزید 5 سال ک اسی شفافیت اور روح کے ساتھ جاری رکھا جاتا ہے تو نہ صرف دیہی انفراسٹرکچر کے شعبہ میں ایک حاموش انقلاب برپا ہوجائیگا بلکہ بیروزگاری میں حاطر خواہ کمی واقع ہوگی ۔

ہر گائوں اور موہڑہ کی سطح پر تعمیر و ترقی کے اس عمل کی وجہ سے لوگوں کو جز وقتی اور کل وقتی ذرائع روز گار میسر آرہے ہیں جس سے معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر اعظم راجہ محمد فاروق نے دیہی انفراسڑکچر کے ساتھ ساتھ بین الاضلاعی اور تحصیل کی سطح کی سڑکیں، ہسپتال ، تھانے اور یونیورسٹیز کیمپس کی بہتری کے لیے بھی کثیر فنڈز فراہم کئے ہیں۔ انفراسٹر کچر ڈویلپمیٹ کے عمل کی موثر مانیٹرنگ کے ذریعہ سے نہ صرف کوالٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے بلکہ شفافیت (Transparency )اور جواب دیہی ( Accontability )کے کلچر کو بھی فروغ دیا گیا ہے ۔ گلاس کو آدھا خالی کہنے والے تو بہت ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ 1980 اور آج کے آزاد کشمیر کا تقابلی جائزہ (Comparative Analysis) کیاجائے تو دیہی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کے شعبہ میں ایک خاموش انقلاب نظر آئیگا۔